کرپٹو صارفین کے لیے SafePal کی جانب سے ایک اہم سیکیورٹی الرٹ سامنے آیا ہے۔ کمپنی کے مطابق ایک authorization flaw کی وجہ سے تقریباً 39,798 صارفین کی order-related information غیر مجاز افراد کی رسائی میں آ گئی۔

اس واقعے میں صارفین کے نام، ای میل ایڈریس، فون نمبرز، shipping addresses اور SafePal سے کی گئی خریداری کی تفصیلات شامل تھیں۔ تاہم SafePal نے واضح کیا ہے کہ seed phrases، private keys، wallet passwords، payment information اور government-issued IDs اس breach میں exposed نہیں ہوئے۔

یہ فرق بہت اہم ہے، کیونکہ exposed information سے براہِ راست wallet funds تک رسائی حاصل ہونے کا کوئی ثبوت سامنے نہیں آیا۔ SafePal کے مطابق اسے ایسا کوئی evidence بھی نہیں ملا کہ اس واقعے کی وجہ سے صارفین کے wallets یا funds compromise ہوئے ہوں۔

اصل مسئلہ کیا تھا؟

SafePal کے مطابق مسئلہ ایک order-tracking plugin میں موجود authorization defect سے پیدا ہوا۔ کچھ حالات میں یہ خامی کسی شخص کو دوسرے customer کی order information دیکھنے کی اجازت دے سکتی تھی۔

کمپنی کو اس مسئلے سے متعلق پہلی phishing report مئی میں موصول ہوئی تھی۔ بعد میں جولائی میں مکمل security investigation شروع کی گئی، جس کے دوران اس software flaw کی تصدیق ہوئی اور اسے fix کر دیا گیا۔

ایک اور مسئلہ بھی سامنے آیا۔ SafePal کے مطابق data-cleanup process میں configuration error کی وجہ سے کچھ پرانے order records مقررہ وقت پر delete نہیں ہو سکے۔ اس سے متاثرہ data کی مدت مزید بڑھ گئی۔

Crypto users کے لیے اصل خطرہ کیا ہے؟

اس واقعے میں سب سے بڑا خطرہ phishing scams کا ہے۔

اگر scammers کے پاس کسی صارف کا نام، address اور خریداری کی معلومات موجود ہوں تو وہ ایک ایسا fake email، message یا website بنا سکتے ہیں جو بظاہر اصلی لگے۔ مقصد صارف کو دھوکے سے اپنی seed phrase، private key یا wallet password دینے پر مجبور کرنا ہو سکتا ہے۔

SafePal نے بتایا ہے کہ اس نے 30 سے زیادہ fraudulent websites اور phishing links کو identify کرکے ختم کروایا ہے۔

صارفین کو خاص طور پر ایسے messages سے محتاط رہنا چاہیے جن میں فوری طور پر wallet verify کرنے، funds منتقل کرنے یا recovery phrase درج کرنے کا کہا جائے۔

SafePal نے کیا اقدامات کیے؟

کمپنی نے vulnerability کو fix کرنے کے ساتھ اضافی access controls بھی متعارف کرائے ہیں۔ متعلقہ environment میں personal data retention period کو کم کرکے 90 دن کر دیا گیا ہے، جبکہ ایک independent security firm سے بھی systems کا مزید review کروایا جا رہا ہے۔

SafePal کا کہنا ہے کہ اسے ابھی تک کوئی evidence نہیں ملا کہ یہ مسئلہ logistics یا fulfillment partners کے systems تک بھی پھیلا تھا۔

صارفین کو کیا کرنا چاہیے؟

اگر آپ SafePal customer ہیں تو صرف order information exposed ہونے کی وجہ سے اپنے crypto assets منتقل کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ لیکن phishing کے معاملے میں انتہائی محتاط رہیں۔

اپنی seed phrase، private key یا wallet password کسی شخص، website یا support agent کے ساتھ share نہ کریں۔

اگر کسی صارف نے پہلے ہی اپنی seed phrase یا private key کسی مشکوک website پر enter کر دی ہے تو اسے compromised سمجھنا چاہیے اور محفوظ طریقے سے نیا wallet بنا کر باقی assets منتقل کرنے چاہئیں۔

SafePal کا واقعہ ایک بار پھر یاد دلاتا ہے کہ crypto security صرف blockchain یا wallet technology تک محدود نہیں۔ Personal data بھی scammers کے لیے ایک طاقتور ہتھیار بن سکتا ہے۔

#SICryptoNews #SafePal #bitcoin