Binance Square
SI Crypto News
277 Objave

SI Crypto News

Latest news updates about BTC (bitcoin), Eth, Sol, USDC, USDT and others crypto currencies.
22 Sledite
72 Sledilci
128 Všečkano
Objave
·
--
Are Stablecoins and Tokenization the Real Drivers of the Next Crypto Bull Market? For years, Bitcoin has been the dominant force in the cryptocurrency market. Whenever a new bull cycle began, Bitcoin was usually the first asset investors looked at. However, recent discussions among financial advisors suggest that the industry may be entering a new phase. According to Bitwise Chief Investment Officer Matt Hougan, conversations with more than 40 financial advisory teams managing a combined $175 trillion in assets revealed a noticeable shift in interest. While confidence in crypto remains strong, many advisors are now paying closer attention to stablecoins, tokenization, and real-world blockchain applications rather than focusing solely on Bitcoin. #SICryptoNews $BTC {future}(BTCUSDT) $ETH {future}(ETHUSDT)
Are Stablecoins and Tokenization the Real Drivers of the Next Crypto Bull Market?

For years, Bitcoin has been the dominant force in the cryptocurrency market. Whenever a new bull cycle began, Bitcoin was usually the first asset investors looked at. However, recent discussions among financial advisors suggest that the industry may be entering a new phase.

According to Bitwise Chief Investment Officer Matt Hougan, conversations with more than 40 financial advisory teams managing a combined $175 trillion in assets revealed a noticeable shift in interest. While confidence in crypto remains strong, many advisors are now paying closer attention to stablecoins, tokenization, and real-world blockchain applications rather than focusing solely on Bitcoin.
#SICryptoNews $BTC
$ETH
Članek
کیا اگلا کرپٹو بُل رن بٹ کوائن کے بجائے Stablecoins اور Tokenization کی وجہ سے آئے گا؟کرپٹو مارکیٹ میں ایک دلچسپ تبدیلی دیکھنے کو مل رہی ہے۔ کئی سالوں تک بٹ کوائن کو کرپٹو انڈسٹری کا سب سے اہم اثاثہ سمجھا جاتا رہا، لیکن اب ایسا لگتا ہے کہ بڑے مالیاتی ادارے اور سرمایہ کاری کے مشیر اپنی توجہ دوسرے شعبوں کی طرف منتقل کر رہے ہیں۔ Bitwise کے چیف انویسٹمنٹ آفیسر میٹ ہوگن کے مطابق، حال ہی میں ان کی ملاقات 40 سے زائد مالیاتی مشیروں سے ہوئی جن کے زیر انتظام مجموعی اثاثوں کی مالیت تقریباً 175 ٹریلین ڈالر ہے۔ ان ملاقاتوں سے یہ بات سامنے آئی کہ ادارہ جاتی سرمایہ کار اب صرف بٹ کوائن میں دلچسپی نہیں رکھتے بلکہ Stablecoins، Tokenization اور بلاک چین کے عملی استعمال کو زیادہ اہمیت دے رہے ہیں۔ ماضی میں کرپٹو مارکیٹ کی بحالی مختلف عوامل کی وجہ سے ہوئی۔ 2014 کے بعد Ethereum نے نئی ٹیکنالوجی متعارف کروائی، 2018 کے بعد DeFi نے مارکیٹ کو نئی سمت دی، جبکہ 2022 کے بعد Spot Bitcoin ETFs نے ادارہ جاتی سرمایہ کاروں کو کرپٹو مارکیٹ کی طرف راغب کیا۔ اب ماہرین کا خیال ہے کہ اگلا ترقی کا مرحلہ Stablecoins اور Tokenization سے جڑا ہو سکتا ہے۔ Stablecoins وہ ڈیجیٹل اثاثے ہیں جن کی قیمت عموماً کسی روایتی کرنسی جیسے امریکی ڈالر سے منسلک ہوتی ہے۔ دوسری طرف Tokenization حقیقی دنیا کے اثاثوں جیسے جائیداد، بانڈز یا شیئرز کو بلاک چین پر منتقل کرنے کا عمل ہے۔ اسی وجہ سے Ethereum، Solana، Chainlink، Avalanche اور Hyperliquid جیسے منصوبے سرمایہ کاروں کی توجہ حاصل کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ Circle، Coinbase اور Figure جیسی کمپنیاں بھی اس بڑھتے ہوئے رجحان سے فائدہ اٹھا سکتی ہیں۔ یہ تبدیلی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ کرپٹو انڈسٹری پہلے کے مقابلے میں زیادہ پختہ ہو رہی ہے۔ اب سرمایہ کار صرف قیمتوں میں اضافے کی امید پر سرمایہ کاری نہیں کر رہے بلکہ وہ ایسی ٹیکنالوجیز تلاش کر رہے ہیں جو حقیقی دنیا کے مسائل حل کر سکیں۔ اگر ادارہ جاتی سرمایہ کار اسی رفتار سے Stablecoins اور Tokenization کی طرف آتے رہے تو ممکن ہے کہ اگلا کرپٹو بُل رن صرف بٹ کوائن کے گرد نہ گھومے بلکہ پورا بلاک چین ایکو سسٹم اس کا فائدہ اٹھائے۔ مختصر طور پر، کرپٹو مارکیٹ کا مستقبل شاید پہلے سے زیادہ متنوع ہو، جہاں کامیابی صرف بٹ کوائن نہیں بلکہ متعدد بلاک چین نیٹ ورکس اور ان سے وابستہ کاروباروں کے حصے میں بھی آئے۔ #SICryptoNews #bitcoin #altcoins

کیا اگلا کرپٹو بُل رن بٹ کوائن کے بجائے Stablecoins اور Tokenization کی وجہ سے آئے گا؟

کرپٹو مارکیٹ میں ایک دلچسپ تبدیلی دیکھنے کو مل رہی ہے۔ کئی سالوں تک بٹ کوائن کو کرپٹو انڈسٹری کا سب سے اہم اثاثہ سمجھا جاتا رہا، لیکن اب ایسا لگتا ہے کہ بڑے مالیاتی ادارے اور سرمایہ کاری کے مشیر اپنی توجہ دوسرے شعبوں کی طرف منتقل کر رہے ہیں۔
Bitwise کے چیف انویسٹمنٹ آفیسر میٹ ہوگن کے مطابق، حال ہی میں ان کی ملاقات 40 سے زائد مالیاتی مشیروں سے ہوئی جن کے زیر انتظام مجموعی اثاثوں کی مالیت تقریباً 175 ٹریلین ڈالر ہے۔ ان ملاقاتوں سے یہ بات سامنے آئی کہ ادارہ جاتی سرمایہ کار اب صرف بٹ کوائن میں دلچسپی نہیں رکھتے بلکہ Stablecoins، Tokenization اور بلاک چین کے عملی استعمال کو زیادہ اہمیت دے رہے ہیں۔
ماضی میں کرپٹو مارکیٹ کی بحالی مختلف عوامل کی وجہ سے ہوئی۔ 2014 کے بعد Ethereum نے نئی ٹیکنالوجی متعارف کروائی، 2018 کے بعد DeFi نے مارکیٹ کو نئی سمت دی، جبکہ 2022 کے بعد Spot Bitcoin ETFs نے ادارہ جاتی سرمایہ کاروں کو کرپٹو مارکیٹ کی طرف راغب کیا۔
اب ماہرین کا خیال ہے کہ اگلا ترقی کا مرحلہ Stablecoins اور Tokenization سے جڑا ہو سکتا ہے۔ Stablecoins وہ ڈیجیٹل اثاثے ہیں جن کی قیمت عموماً کسی روایتی کرنسی جیسے امریکی ڈالر سے منسلک ہوتی ہے۔ دوسری طرف Tokenization حقیقی دنیا کے اثاثوں جیسے جائیداد، بانڈز یا شیئرز کو بلاک چین پر منتقل کرنے کا عمل ہے۔
اسی وجہ سے Ethereum، Solana، Chainlink، Avalanche اور Hyperliquid جیسے منصوبے سرمایہ کاروں کی توجہ حاصل کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ Circle، Coinbase اور Figure جیسی کمپنیاں بھی اس بڑھتے ہوئے رجحان سے فائدہ اٹھا سکتی ہیں۔
یہ تبدیلی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ کرپٹو انڈسٹری پہلے کے مقابلے میں زیادہ پختہ ہو رہی ہے۔ اب سرمایہ کار صرف قیمتوں میں اضافے کی امید پر سرمایہ کاری نہیں کر رہے بلکہ وہ ایسی ٹیکنالوجیز تلاش کر رہے ہیں جو حقیقی دنیا کے مسائل حل کر سکیں۔
اگر ادارہ جاتی سرمایہ کار اسی رفتار سے Stablecoins اور Tokenization کی طرف آتے رہے تو ممکن ہے کہ اگلا کرپٹو بُل رن صرف بٹ کوائن کے گرد نہ گھومے بلکہ پورا بلاک چین ایکو سسٹم اس کا فائدہ اٹھائے۔
مختصر طور پر، کرپٹو مارکیٹ کا مستقبل شاید پہلے سے زیادہ متنوع ہو، جہاں کامیابی صرف بٹ کوائن نہیں بلکہ متعدد بلاک چین نیٹ ورکس اور ان سے وابستہ کاروباروں کے حصے میں بھی آئے۔
#SICryptoNews #bitcoin #altcoins
Global politics and the cryptocurrency market are becoming more connected than ever. That is why former U.S. President Donald Trump's latest statement regarding a potential deal with Iran has caught the attention of Bitcoin investors around the world. According to Trump, a permanent agreement with Iran could be signed soon. He described the deal as a step toward preventing nuclear escalation and bringing more stability to the Middle East. He also claimed that the Strait of Hormuz would remain open for global trade after the agreement, an important factor for energy markets and international shipping. #SICryptoNews #bitcoin $BTC {future}(BTCUSDT)
Global politics and the cryptocurrency market are becoming more connected than ever. That is why former U.S. President Donald Trump's latest statement regarding a potential deal with Iran has caught the attention of Bitcoin investors around the world.
According to Trump, a permanent agreement with Iran could be signed soon. He described the deal as a step toward preventing nuclear escalation and bringing more stability to the Middle East. He also claimed that the Strait of Hormuz would remain open for global trade after the agreement, an important factor for energy markets and international shipping.
#SICryptoNews #bitcoin $BTC
Članek
بریکنگ نیوز: ایران ڈیل اور بٹ کوائن میں ممکنہ تیزیعالمی سیاست اور کرپٹو مارکیٹ کا تعلق پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط ہوتا جا رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدے کے اعلان نے بٹ کوائن سرمایہ کاروں کی توجہ اپنی جانب کھینچ لی ہے۔ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے ساتھ ایک مستقل معاہدہ جلد سائن کیا جا سکتا ہے۔ ان کے مطابق اس معاہدے کا مقصد خطے میں استحکام پیدا کرنا اور جوہری ہتھیاروں کے خطرات کو روکنا ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہا کہ معاہدے کے بعد ہرمز آبنائے تمام ممالک کے لیے کھول دی جائے گی، جو عالمی تجارت اور تیل کی سپلائی کے لیے انتہائی اہم راستہ ہے۔ کرپٹو مارکیٹ اس خبر پر اس لیے گہری نظر رکھے ہوئے ہے کیونکہ ماضی میں ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی نے بٹ کوائن کی قیمت کو متاثر کیا تھا۔ جب جنگی خدشات بڑھے تو سرمایہ کاروں میں خوف پیدا ہوا اور مارکیٹ دباؤ کا شکار ہوئی۔ لیکن جب جنگ بندی اور امن کی خبریں سامنے آئیں تو بٹ کوائن نے تیزی سے ریکوری دکھائی۔ اگر یہ معاہدہ واقعی سائن ہو جاتا ہے تو مختصر مدت میں مارکیٹ کا اعتماد بہتر ہو سکتا ہے۔ سرمایہ کاروں کا خوف کم ہو سکتا ہے اور بٹ کوائن سمیت دیگر کرپٹو اثاثوں میں خریداری بڑھ سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سے تجزیہ کار اس خبر کو ایک ممکنہ مثبت اشارہ قرار دے رہے ہیں۔ تاہم صرف ایک سیاسی معاہدہ بٹ کوائن کی طویل مدتی سمت کا فیصلہ نہیں کرے گا۔ ETF فنڈز میں سرمایہ کاری، عالمی معاشی حالات اور سرمایہ کاروں کی مجموعی دلچسپی بھی اتنی ہی اہم ہے۔ اگر ان عوامل سے بھی مثبت سگنلز ملتے ہیں تو بٹ کوائن مزید مضبوط ریکوری دکھا سکتا ہے۔ فی الحال مارکیٹ اگلے چند دنوں میں آنے والی سرکاری تصدیق کا انتظار کر رہی ہے۔ اگر معاہدہ طے پا جاتا ہے تو یہ نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ کرپٹو مارکیٹ کے لیے بھی ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتا ہے۔

بریکنگ نیوز: ایران ڈیل اور بٹ کوائن میں ممکنہ تیزی

عالمی سیاست اور کرپٹو مارکیٹ کا تعلق پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط ہوتا جا رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدے کے اعلان نے بٹ کوائن سرمایہ کاروں کی توجہ اپنی جانب کھینچ لی ہے۔
ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے ساتھ ایک مستقل معاہدہ جلد سائن کیا جا سکتا ہے۔ ان کے مطابق اس معاہدے کا مقصد خطے میں استحکام پیدا کرنا اور جوہری ہتھیاروں کے خطرات کو روکنا ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہا کہ معاہدے کے بعد ہرمز آبنائے تمام ممالک کے لیے کھول دی جائے گی، جو عالمی تجارت اور تیل کی سپلائی کے لیے انتہائی اہم راستہ ہے۔
کرپٹو مارکیٹ اس خبر پر اس لیے گہری نظر رکھے ہوئے ہے کیونکہ ماضی میں ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی نے بٹ کوائن کی قیمت کو متاثر کیا تھا۔ جب جنگی خدشات بڑھے تو سرمایہ کاروں میں خوف پیدا ہوا اور مارکیٹ دباؤ کا شکار ہوئی۔ لیکن جب جنگ بندی اور امن کی خبریں سامنے آئیں تو بٹ کوائن نے تیزی سے ریکوری دکھائی۔
اگر یہ معاہدہ واقعی سائن ہو جاتا ہے تو مختصر مدت میں مارکیٹ کا اعتماد بہتر ہو سکتا ہے۔ سرمایہ کاروں کا خوف کم ہو سکتا ہے اور بٹ کوائن سمیت دیگر کرپٹو اثاثوں میں خریداری بڑھ سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سے تجزیہ کار اس خبر کو ایک ممکنہ مثبت اشارہ قرار دے رہے ہیں۔
تاہم صرف ایک سیاسی معاہدہ بٹ کوائن کی طویل مدتی سمت کا فیصلہ نہیں کرے گا۔ ETF فنڈز میں سرمایہ کاری، عالمی معاشی حالات اور سرمایہ کاروں کی مجموعی دلچسپی بھی اتنی ہی اہم ہے۔ اگر ان عوامل سے بھی مثبت سگنلز ملتے ہیں تو بٹ کوائن مزید مضبوط ریکوری دکھا سکتا ہے۔
فی الحال مارکیٹ اگلے چند دنوں میں آنے والی سرکاری تصدیق کا انتظار کر رہی ہے۔ اگر معاہدہ طے پا جاتا ہے تو یہ نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ کرپٹو مارکیٹ کے لیے بھی ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتا ہے۔
SpaceX IPO Highlights Growing Corporate Adoption of Bitcoin, Says Michael Saylor Bitcoin received another major vote of confidence this week as Michael Saylor described SpaceX’s public market debut as an important milestone for corporate Bitcoin adoption. In a post shared on June 13, the Strategy chairman congratulated Elon Musk and SpaceX on their highly anticipated IPO. Saylor noted that with Tesla and SpaceX holding Bitcoin on their balance sheets, around 25% of the so-called “Mag 8” technology giants now have exposure to Bitcoin. #SICryptoNews #bitcoin $BTC {future}(BTCUSDT) $SPCXB {spot}(SPCXBUSDT) $TSLAB {spot}(TSLABUSDT)
SpaceX IPO Highlights Growing Corporate Adoption of Bitcoin, Says Michael Saylor
Bitcoin received another major vote of confidence this week as Michael Saylor described SpaceX’s public market debut as an important milestone for corporate Bitcoin adoption.
In a post shared on June 13, the Strategy chairman congratulated Elon Musk and SpaceX on their highly anticipated IPO. Saylor noted that with Tesla and SpaceX holding Bitcoin on their balance sheets, around 25% of the so-called “Mag 8” technology giants now have exposure to Bitcoin.
#SICryptoNews #bitcoin $BTC
$SPCXB
$TSLAB
Članek
SpaceX IPO کے بعد Bitcoin کو بڑی کامیابی، مائیکل سیلر کا بڑا دعویٰBitcoin کی دنیا میں ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ معروف Bitcoin حامی اور Strategy کے چیئرمین مائیکل سیلر نے SpaceX کے IPO کو Bitcoin کے لیے ایک تاریخی لمحہ قرار دیا ہے۔ 13 جون کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم X پر جاری اپنے بیان میں مائیکل سیلر نے ایلون مسک اور SpaceX کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ اب "Mag 8" کہلانے والی بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں میں سے 25 فیصد کے بیلنس شیٹ پر Bitcoin موجود ہے۔ سیلر کا اشارہ Tesla اور SpaceX کی جانب تھا، جو دونوں ایلون مسک سے منسلک کمپنیاں ہیں۔ دستیاب اعداد و شمار کے مطابق SpaceX کے پاس تقریباً 18,712 Bitcoin موجود ہیں جبکہ Tesla تقریباً 11,509 Bitcoin کی مالک ہے۔ دونوں کمپنیوں کے مجموعی ذخائر 30,000 سے زیادہ Bitcoin بنتے ہیں۔ SpaceX کا حالیہ IPO سرمایہ کاروں کے لیے انتہائی دلچسپی کا باعث بنا۔ کمپنی کے شیئرز نے مارکیٹ میں زبردست آغاز کیا اور ابتدائی دن میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا۔ اس کامیابی نے نہ صرف SpaceX کی مقبولیت کو ظاہر کیا بلکہ Bitcoin کے بڑھتے ہوئے ادارہ جاتی استعمال کو بھی نمایاں کیا۔ دوسری جانب کارپوریٹ دنیا میں Bitcoin کی قبولیت مسلسل بڑھ رہی ہے۔ تازہ اعداد و شمار کے مطابق دنیا بھر کی 199 پبلک کمپنیاں مجموعی طور پر تقریباً 1.26 ملین Bitcoin رکھتی ہیں جن کی مالیت 80 ارب ڈالر سے زیادہ بنتی ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ جب دنیا کی بڑی ٹیکنالوجی کمپنیاں اپنے خزانے میں Bitcoin شامل کرتی ہیں تو اس سے مارکیٹ میں اعتماد بڑھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ زیادہ سے زیادہ کمپنیاں Bitcoin کو ایک طویل مدتی اثاثے کے طور پر دیکھ رہی ہیں۔ اگر یہ رجحان جاری رہا تو آنے والے سالوں میں Bitcoin کی کارپوریٹ اپنائیت مزید تیزی سے بڑھ سکتی ہے، جو پوری کرپٹو انڈسٹری کے لیے مثبت اشارہ سمجھا جا رہا ہے۔

SpaceX IPO کے بعد Bitcoin کو بڑی کامیابی، مائیکل سیلر کا بڑا دعویٰ

Bitcoin کی دنیا میں ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ معروف Bitcoin حامی اور Strategy کے چیئرمین مائیکل سیلر نے SpaceX کے IPO کو Bitcoin کے لیے ایک تاریخی لمحہ قرار دیا ہے۔
13 جون کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم X پر جاری اپنے بیان میں مائیکل سیلر نے ایلون مسک اور SpaceX کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ اب "Mag 8" کہلانے والی بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں میں سے 25 فیصد کے بیلنس شیٹ پر Bitcoin موجود ہے۔
سیلر کا اشارہ Tesla اور SpaceX کی جانب تھا، جو دونوں ایلون مسک سے منسلک کمپنیاں ہیں۔ دستیاب اعداد و شمار کے مطابق SpaceX کے پاس تقریباً 18,712 Bitcoin موجود ہیں جبکہ Tesla تقریباً 11,509 Bitcoin کی مالک ہے۔ دونوں کمپنیوں کے مجموعی ذخائر 30,000 سے زیادہ Bitcoin بنتے ہیں۔
SpaceX کا حالیہ IPO سرمایہ کاروں کے لیے انتہائی دلچسپی کا باعث بنا۔ کمپنی کے شیئرز نے مارکیٹ میں زبردست آغاز کیا اور ابتدائی دن میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا۔ اس کامیابی نے نہ صرف SpaceX کی مقبولیت کو ظاہر کیا بلکہ Bitcoin کے بڑھتے ہوئے ادارہ جاتی استعمال کو بھی نمایاں کیا۔
دوسری جانب کارپوریٹ دنیا میں Bitcoin کی قبولیت مسلسل بڑھ رہی ہے۔ تازہ اعداد و شمار کے مطابق دنیا بھر کی 199 پبلک کمپنیاں مجموعی طور پر تقریباً 1.26 ملین Bitcoin رکھتی ہیں جن کی مالیت 80 ارب ڈالر سے زیادہ بنتی ہے۔
ماہرین کا ماننا ہے کہ جب دنیا کی بڑی ٹیکنالوجی کمپنیاں اپنے خزانے میں Bitcoin شامل کرتی ہیں تو اس سے مارکیٹ میں اعتماد بڑھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ زیادہ سے زیادہ کمپنیاں Bitcoin کو ایک طویل مدتی اثاثے کے طور پر دیکھ رہی ہیں۔
اگر یہ رجحان جاری رہا تو آنے والے سالوں میں Bitcoin کی کارپوریٹ اپنائیت مزید تیزی سے بڑھ سکتی ہے، جو پوری کرپٹو انڈسٹری کے لیے مثبت اشارہ سمجھا جا رہا ہے۔
Humanity Protocol Blames North Korea-Linked Hackers for $36 Million Crypto Theft The cryptocurrency industry has once again been shaken by a major security incident. Humanity Protocol has revealed that hackers believed to be linked to North Korea were responsible for stealing approximately $36 million worth of H tokens. According to the project's investigation, the attack was not caused by a vulnerability in smart contracts or blockchain infrastructure. Instead, the breach occurred after attackers gained access to critical private keys stored on a compromised developer machine. #SICryptoNews #bitcoin $BTC {future}(BTCUSDT)
Humanity Protocol Blames North Korea-Linked Hackers for $36 Million Crypto Theft
The cryptocurrency industry has once again been shaken by a major security incident. Humanity Protocol has revealed that hackers believed to be linked to North Korea were responsible for stealing approximately $36 million worth of H tokens.
According to the project's investigation, the attack was not caused by a vulnerability in smart contracts or blockchain infrastructure. Instead, the breach occurred after attackers gained access to critical private keys stored on a compromised developer machine.
#SICryptoNews #bitcoin $BTC
Članek
Humanity Protocol نے 36 ملین ڈالر کی چوری کا الزام شمالی کوریا سے منسلک ہیکرز پر لگا دیاکرپٹو انڈسٹری ایک بار پھر ایک بڑے سیکیورٹی حادثے کی زد میں آ گئی ہے۔ Humanity Protocol نے انکشاف کیا ہے کہ تقریباً 36 ملین ڈالر مالیت کے H ٹوکنز کی چوری کے پیچھے ممکنہ طور پر شمالی کوریا سے منسلک ہیکرز کا ہاتھ ہے۔ کمپنی کی جانب سے جاری کردہ معلومات کے مطابق حملہ آوروں نے کسی اسمارٹ کانٹریکٹ یا بلاک چین کی کمزوری کا فائدہ نہیں اٹھایا، بلکہ ایک ڈویلپر کے متاثرہ کمپیوٹر کے ذریعے اہم پرائیویٹ کیز تک رسائی حاصل کی۔ تحقیقات میں سامنے آیا کہ ایک ڈویلپر کا کمپیوٹر میلویئر سے متاثر تھا۔ اسی ڈیوائس میں سات اہم پرائیویٹ کیز محفوظ تھیں جو غلطی سے مین نیٹ لانچ کے دوران بیک اپ کے طور پر رہ گئی تھیں۔ ان کیز میں ایڈمن والیٹ اور مختلف ملٹی سگنیچر اکاؤنٹس کی رسائی شامل تھی۔ ان چوری شدہ کیز کی مدد سے ہیکرز نے مکمل طور پر جائز نظر آنے والی ٹرانزیکشنز انجام دیں اور تقریباً 141 ملین H ٹوکنز Ethereum Bridge سے منتقل کر لیے۔ بعد ازاں مزید ٹوکنز BNB Smart Chain پر منٹ کیے گئے اور بڑی مقدار میں اثاثے ETH میں تبدیل کر دیے گئے۔ اس واقعے کے بعد مارکیٹ میں شدید ردعمل دیکھنے میں آیا۔ H ٹوکن کی قیمت چند گھنٹوں میں 80 سے 90 فیصد تک گر گئی، جس سے سرمایہ کاروں کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا۔ اگرچہ بعد میں قیمت میں کچھ بحالی دیکھی گئی، لیکن ٹوکن اب بھی اپنی سابقہ سطح سے کافی نیچے ٹریڈ کر رہا ہے۔ سائبر سیکیورٹی کمپنی Quantstamp کا کہنا ہے کہ اس حملے میں استعمال ہونے والے طریقے ماضی میں شمالی کوریا سے منسلک ہیکنگ گروپس کی سرگرمیوں سے ملتے جلتے ہیں۔ تاہم بعض آزاد محققین کا کہنا ہے کہ ریاستی سطح پر ملوث ہونے کے دعوے کی مزید تصدیق کی ضرورت ہے۔ یہ واقعہ ایک اہم سبق دیتا ہے کہ صرف بلاک چین اور اسمارٹ کانٹریکٹس کو محفوظ بنانا کافی نہیں۔ اگر پرائیویٹ کیز اور اندرونی سسٹمز محفوظ نہ ہوں تو اربوں ڈالر مالیت کے کرپٹو اثاثے خطرے میں پڑ سکتے ہیں۔ کرپٹو انڈسٹری میں بڑھتے ہوئے سائبر حملے اس بات کی یاد دہانی ہیں کہ سیکیورٹی ہر پروجیکٹ کی اولین ترجیح ہونی چاہیے۔

Humanity Protocol نے 36 ملین ڈالر کی چوری کا الزام شمالی کوریا سے منسلک ہیکرز پر لگا دیا

کرپٹو انڈسٹری ایک بار پھر ایک بڑے سیکیورٹی حادثے کی زد میں آ گئی ہے۔ Humanity Protocol نے انکشاف کیا ہے کہ تقریباً 36 ملین ڈالر مالیت کے H ٹوکنز کی چوری کے پیچھے ممکنہ طور پر شمالی کوریا سے منسلک ہیکرز کا ہاتھ ہے۔
کمپنی کی جانب سے جاری کردہ معلومات کے مطابق حملہ آوروں نے کسی اسمارٹ کانٹریکٹ یا بلاک چین کی کمزوری کا فائدہ نہیں اٹھایا، بلکہ ایک ڈویلپر کے متاثرہ کمپیوٹر کے ذریعے اہم پرائیویٹ کیز تک رسائی حاصل کی۔
تحقیقات میں سامنے آیا کہ ایک ڈویلپر کا کمپیوٹر میلویئر سے متاثر تھا۔ اسی ڈیوائس میں سات اہم پرائیویٹ کیز محفوظ تھیں جو غلطی سے مین نیٹ لانچ کے دوران بیک اپ کے طور پر رہ گئی تھیں۔ ان کیز میں ایڈمن والیٹ اور مختلف ملٹی سگنیچر اکاؤنٹس کی رسائی شامل تھی۔
ان چوری شدہ کیز کی مدد سے ہیکرز نے مکمل طور پر جائز نظر آنے والی ٹرانزیکشنز انجام دیں اور تقریباً 141 ملین H ٹوکنز Ethereum Bridge سے منتقل کر لیے۔ بعد ازاں مزید ٹوکنز BNB Smart Chain پر منٹ کیے گئے اور بڑی مقدار میں اثاثے ETH میں تبدیل کر دیے گئے۔
اس واقعے کے بعد مارکیٹ میں شدید ردعمل دیکھنے میں آیا۔ H ٹوکن کی قیمت چند گھنٹوں میں 80 سے 90 فیصد تک گر گئی، جس سے سرمایہ کاروں کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا۔ اگرچہ بعد میں قیمت میں کچھ بحالی دیکھی گئی، لیکن ٹوکن اب بھی اپنی سابقہ سطح سے کافی نیچے ٹریڈ کر رہا ہے۔
سائبر سیکیورٹی کمپنی Quantstamp کا کہنا ہے کہ اس حملے میں استعمال ہونے والے طریقے ماضی میں شمالی کوریا سے منسلک ہیکنگ گروپس کی سرگرمیوں سے ملتے جلتے ہیں۔ تاہم بعض آزاد محققین کا کہنا ہے کہ ریاستی سطح پر ملوث ہونے کے دعوے کی مزید تصدیق کی ضرورت ہے۔
یہ واقعہ ایک اہم سبق دیتا ہے کہ صرف بلاک چین اور اسمارٹ کانٹریکٹس کو محفوظ بنانا کافی نہیں۔ اگر پرائیویٹ کیز اور اندرونی سسٹمز محفوظ نہ ہوں تو اربوں ڈالر مالیت کے کرپٹو اثاثے خطرے میں پڑ سکتے ہیں۔
کرپٹو انڈسٹری میں بڑھتے ہوئے سائبر حملے اس بات کی یاد دہانی ہیں کہ سیکیورٹی ہر پروجیکٹ کی اولین ترجیح ہونی چاہیے۔
Can Solana Return to Its Highs? All Eyes on the $68 Level Solana (SOL) is back in the spotlight after showing signs of recovery following a sharp market correction. While the broader crypto market has faced increased volatility, Solana has managed to regain some strength, giving investors a reason to watch the asset closely once again. Earlier this month, Solana dropped to around $61 after trading near $96 in May. The decline wiped out more than one-third of its value in a short period, largely due to market-wide selling pressure, whale activity, and the liquidation of leveraged positions. #SICryptoNews #solana $SOL {future}(SOLUSDT) $BTC {future}(BTCUSDT)
Can Solana Return to Its Highs? All Eyes on the $68 Level
Solana (SOL) is back in the spotlight after showing signs of recovery following a sharp market correction. While the broader crypto market has faced increased volatility, Solana has managed to regain some strength, giving investors a reason to watch the asset closely once again.
Earlier this month, Solana dropped to around $61 after trading near $96 in May. The decline wiped out more than one-third of its value in a short period, largely due to market-wide selling pressure, whale activity, and the liquidation of leveraged positions.
#SICryptoNews #solana $SOL
$BTC
Članek
کیا سولانا دوبارہ بلندیوں کی طرف جا رہا ہے؟ 68 ڈالر کی سطح پر سب کی نظریںکرپٹو مارکیٹ میں حالیہ اتار چڑھاؤ کے باوجود سولانا (SOL) نے ایک بار پھر سرمایہ کاروں کی توجہ اپنی جانب مبذول کر لی ہے۔ گزشتہ چند ہفتوں میں شدید دباؤ کا شکار رہنے والا سولانا اب بحالی کے آثار دکھا رہا ہے، جس سے مارکیٹ میں نئی امید پیدا ہوئی ہے۔ جون کے آغاز میں سولانا کی قیمت تقریباً 61 ڈالر تک گر گئی تھی، جبکہ مئی میں یہ تقریباً 96 ڈالر کی سطح پر ٹریڈ ہو رہا تھا۔ اس طرح صرف چند دنوں میں قیمت میں 36 فیصد سے زیادہ کمی دیکھنے میں آئی۔ اس گراوٹ کی بڑی وجوہات میں مارکیٹ کی مجموعی کمزوری، بڑے سرمایہ کاروں کی فروخت اور لیوریج پوزیشنز کی جبری بندش شامل تھیں۔ تاہم اب صورتحال کچھ مختلف نظر آ رہی ہے۔ سولانا نے 61 ڈالر کے قریب مضبوط سپورٹ حاصل کی اور وہاں سے 10 فیصد سے زیادہ ریکوری کرتے ہوئے تقریباً 67 ڈالر تک پہنچ گیا ہے۔ تکنیکی تجزیے کے مطابق چارٹ پر ایک "فالنگ ویج" پیٹرن بن رہا ہے، جسے عام طور پر مثبت اشارہ سمجھا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ مختصر مدت کے چارٹ پر ایک "ایسینڈنگ ٹرائنگل" بھی نظر آ رہا ہے، جو قیمت میں مزید اضافے کا امکان ظاہر کرتا ہے۔ اس وقت سب سے اہم سطح 68 ڈالر ہے۔ اگر سولانا اس ریزسٹنس کو کامیابی سے عبور کر لیتا ہے تو اگلا ہدف 70 ڈالر اور اس کے بعد 76 ڈالر ہو سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ٹریڈرز اور سرمایہ کار اس سطح کو بہت غور سے دیکھ رہے ہیں۔ دوسری جانب کچھ ماہرین ابھی بھی محتاط ہیں۔ ان کے مطابق مکمل بُلش ٹرینڈ کی تصدیق کے لیے سولانا کو 72.57 ڈالر سے اوپر جانا ہوگا۔ جب تک ایسا نہیں ہوتا، مارکیٹ میں خطرات موجود رہیں گے اور قیمت دوبارہ 60 ڈالر کے سپورٹ ایریا کا رخ بھی کر سکتی ہے۔ مختصر طور پر، سولانا ایک اہم موڑ پر کھڑا ہے۔ آنے والے دن یہ طے کریں گے کہ آیا یہ کرپٹو کرنسی دوبارہ اوپر کی جانب مضبوط سفر شروع کرتی ہے یا مزید دباؤ کا سامنا کرتی ہے۔

کیا سولانا دوبارہ بلندیوں کی طرف جا رہا ہے؟ 68 ڈالر کی سطح پر سب کی نظریں

کرپٹو مارکیٹ میں حالیہ اتار چڑھاؤ کے باوجود سولانا (SOL) نے ایک بار پھر سرمایہ کاروں کی توجہ اپنی جانب مبذول کر لی ہے۔ گزشتہ چند ہفتوں میں شدید دباؤ کا شکار رہنے والا سولانا اب بحالی کے آثار دکھا رہا ہے، جس سے مارکیٹ میں نئی امید پیدا ہوئی ہے۔
جون کے آغاز میں سولانا کی قیمت تقریباً 61 ڈالر تک گر گئی تھی، جبکہ مئی میں یہ تقریباً 96 ڈالر کی سطح پر ٹریڈ ہو رہا تھا۔ اس طرح صرف چند دنوں میں قیمت میں 36 فیصد سے زیادہ کمی دیکھنے میں آئی۔ اس گراوٹ کی بڑی وجوہات میں مارکیٹ کی مجموعی کمزوری، بڑے سرمایہ کاروں کی فروخت اور لیوریج پوزیشنز کی جبری بندش شامل تھیں۔
تاہم اب صورتحال کچھ مختلف نظر آ رہی ہے۔ سولانا نے 61 ڈالر کے قریب مضبوط سپورٹ حاصل کی اور وہاں سے 10 فیصد سے زیادہ ریکوری کرتے ہوئے تقریباً 67 ڈالر تک پہنچ گیا ہے۔
تکنیکی تجزیے کے مطابق چارٹ پر ایک "فالنگ ویج" پیٹرن بن رہا ہے، جسے عام طور پر مثبت اشارہ سمجھا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ مختصر مدت کے چارٹ پر ایک "ایسینڈنگ ٹرائنگل" بھی نظر آ رہا ہے، جو قیمت میں مزید اضافے کا امکان ظاہر کرتا ہے۔
اس وقت سب سے اہم سطح 68 ڈالر ہے۔ اگر سولانا اس ریزسٹنس کو کامیابی سے عبور کر لیتا ہے تو اگلا ہدف 70 ڈالر اور اس کے بعد 76 ڈالر ہو سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ٹریڈرز اور سرمایہ کار اس سطح کو بہت غور سے دیکھ رہے ہیں۔
دوسری جانب کچھ ماہرین ابھی بھی محتاط ہیں۔ ان کے مطابق مکمل بُلش ٹرینڈ کی تصدیق کے لیے سولانا کو 72.57 ڈالر سے اوپر جانا ہوگا۔ جب تک ایسا نہیں ہوتا، مارکیٹ میں خطرات موجود رہیں گے اور قیمت دوبارہ 60 ڈالر کے سپورٹ ایریا کا رخ بھی کر سکتی ہے۔
مختصر طور پر، سولانا ایک اہم موڑ پر کھڑا ہے۔ آنے والے دن یہ طے کریں گے کہ آیا یہ کرپٹو کرنسی دوبارہ اوپر کی جانب مضبوط سفر شروع کرتی ہے یا مزید دباؤ کا سامنا کرتی ہے۔
Michael Saylor Defends Bitcoin Sale Amid Market Backlash A fresh debate has emerged in the crypto industry after Michael Saylor publicly defended Strategy’s recent Bitcoin sale. The move attracted significant attention from investors and market watchers, especially as Bitcoin and Strategy’s stock both faced sharp declines in the days that followed. Earlier this month, Strategy revealed that it sold 32 BTC between May 26 and May 31 for approximately $2.5 million. The announcement surprised many in the crypto community, as the company has long been known for its aggressive Bitcoin accumulation strategy. #SICryptoNews #bitcoin $BTC {future}(BTCUSDT)
Michael Saylor Defends Bitcoin Sale Amid Market Backlash
A fresh debate has emerged in the crypto industry after Michael Saylor publicly defended Strategy’s recent Bitcoin sale. The move attracted significant attention from investors and market watchers, especially as Bitcoin and Strategy’s stock both faced sharp declines in the days that followed.
Earlier this month, Strategy revealed that it sold 32 BTC between May 26 and May 31 for approximately $2.5 million. The announcement surprised many in the crypto community, as the company has long been known for its aggressive Bitcoin accumulation strategy.
#SICryptoNews #bitcoin $BTC
Članek
مائیکل سیلر نے بٹ کوائن فروخت کرنے کے فیصلے کا دفاع کر دیاکرپٹو مارکیٹ میں اس ہفتے ایک نئی بحث نے جنم لیا جب مائیکل سیلر نے اپنی کمپنی Strategy کی جانب سے بٹ کوائن فروخت کرنے کے فیصلے کا دفاع کیا۔ کمپنی کی جانب سے بٹ کوائن فروخت کرنے کی خبر سامنے آنے کے بعد مارکیٹ میں کافی ہلچل دیکھی گئی اور سرمایہ کاروں کی جانب سے مختلف ردعمل سامنے آئے۔ جون کے آغاز میں Strategy نے انکشاف کیا تھا کہ اس نے مئی کے آخری دنوں میں 32 بٹ کوائن تقریباً 2.5 ملین ڈالر میں فروخت کیے۔ خبر سامنے آنے کے بعد بٹ کوائن کی قیمت میں تقریباً 15 فیصد کمی دیکھی گئی جبکہ کمپنی کے شیئرز بھی دباؤ کا شکار رہے۔ BTC Prague کانفرنس کے دوران مائیکل سیلر نے تنقید کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ہمیشہ انفرادی سرمایہ کاروں کو بٹ کوائن نہ بیچنے کا مشورہ دیا تھا، لیکن کبھی یہ دعویٰ نہیں کیا کہ کمپنی خود کبھی بٹ کوائن فروخت نہیں کرے گی۔ ان کے مطابق Strategy نے گزشتہ کئی برسوں سے اپنی مالی دستاویزات میں واضح طور پر بتایا ہوا ہے کہ ضرورت پڑنے پر بٹ کوائن فروخت کیا جا سکتا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ فروخت کیے گئے بٹ کوائن کمپنی کے خریداری نرخ سے زیادہ قیمت پر فروخت ہوئے، جس سے کمپنی کو معمولی منافع بھی حاصل ہوا۔ تاہم اس فیصلے نے کرپٹو کمیونٹی میں بحث چھیڑ دی۔ کچھ ماہرین کا خیال ہے کہ اس فروخت نے مارکیٹ پر منفی اثر ڈالا جبکہ دیگر کا ماننا ہے کہ اس دوران مصنوعی ذہانت یعنی AI سے متعلق اسٹاکس میں بڑھتی دلچسپی نے بھی سرمایہ کاروں کی توجہ بٹ کوائن سے ہٹا دی۔ تنقید کے باوجود Strategy نے بٹ کوائن پر اپنا اعتماد برقرار رکھا ہے۔ کمپنی نے حال ہی میں مزید 1,550 بٹ کوائن خریدے ہیں، جس کے بعد اس کے پاس موجود بٹ کوائن کی تعداد 845,000 سے تجاوز کر گئی ہے۔ یہ صورتحال ایک بار پھر اس بات کو ظاہر کرتی ہے کہ بڑے اداروں کے فیصلے کرپٹو مارکیٹ پر نمایاں اثر ڈال سکتے ہیں۔ اب سرمایہ کاروں کی نظریں اس بات پر ہیں کہ آنے والے دنوں میں بٹ کوائن کی قیمت اور مارکیٹ کا مجموعی رجحان کس سمت جاتا ہے۔ #SICryptoNews

مائیکل سیلر نے بٹ کوائن فروخت کرنے کے فیصلے کا دفاع کر دیا

کرپٹو مارکیٹ میں اس ہفتے ایک نئی بحث نے جنم لیا جب مائیکل سیلر نے اپنی کمپنی Strategy کی جانب سے بٹ کوائن فروخت کرنے کے فیصلے کا دفاع کیا۔ کمپنی کی جانب سے بٹ کوائن فروخت کرنے کی خبر سامنے آنے کے بعد مارکیٹ میں کافی ہلچل دیکھی گئی اور سرمایہ کاروں کی جانب سے مختلف ردعمل سامنے آئے۔
جون کے آغاز میں Strategy نے انکشاف کیا تھا کہ اس نے مئی کے آخری دنوں میں 32 بٹ کوائن تقریباً 2.5 ملین ڈالر میں فروخت کیے۔ خبر سامنے آنے کے بعد بٹ کوائن کی قیمت میں تقریباً 15 فیصد کمی دیکھی گئی جبکہ کمپنی کے شیئرز بھی دباؤ کا شکار رہے۔
BTC Prague کانفرنس کے دوران مائیکل سیلر نے تنقید کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ہمیشہ انفرادی سرمایہ کاروں کو بٹ کوائن نہ بیچنے کا مشورہ دیا تھا، لیکن کبھی یہ دعویٰ نہیں کیا کہ کمپنی خود کبھی بٹ کوائن فروخت نہیں کرے گی۔ ان کے مطابق Strategy نے گزشتہ کئی برسوں سے اپنی مالی دستاویزات میں واضح طور پر بتایا ہوا ہے کہ ضرورت پڑنے پر بٹ کوائن فروخت کیا جا سکتا ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ فروخت کیے گئے بٹ کوائن کمپنی کے خریداری نرخ سے زیادہ قیمت پر فروخت ہوئے، جس سے کمپنی کو معمولی منافع بھی حاصل ہوا۔ تاہم اس فیصلے نے کرپٹو کمیونٹی میں بحث چھیڑ دی۔ کچھ ماہرین کا خیال ہے کہ اس فروخت نے مارکیٹ پر منفی اثر ڈالا جبکہ دیگر کا ماننا ہے کہ اس دوران مصنوعی ذہانت یعنی AI سے متعلق اسٹاکس میں بڑھتی دلچسپی نے بھی سرمایہ کاروں کی توجہ بٹ کوائن سے ہٹا دی۔
تنقید کے باوجود Strategy نے بٹ کوائن پر اپنا اعتماد برقرار رکھا ہے۔ کمپنی نے حال ہی میں مزید 1,550 بٹ کوائن خریدے ہیں، جس کے بعد اس کے پاس موجود بٹ کوائن کی تعداد 845,000 سے تجاوز کر گئی ہے۔
یہ صورتحال ایک بار پھر اس بات کو ظاہر کرتی ہے کہ بڑے اداروں کے فیصلے کرپٹو مارکیٹ پر نمایاں اثر ڈال سکتے ہیں۔ اب سرمایہ کاروں کی نظریں اس بات پر ہیں کہ آنے والے دنوں میں بٹ کوائن کی قیمت اور مارکیٹ کا مجموعی رجحان کس سمت جاتا ہے۔
#SICryptoNews
Bank of Japan Set for Highest Interest Rate in 31 Years: What It Means for Crypto The global financial market is closely watching Japan as the Bank of Japan (BOJ) prepares to raise its policy interest rate to 1%, a level not seen since 1995. #SICryptoNews #BoJ $BTC {future}(BTCUSDT) $SPCX {future}(SPCXUSDT) $TSLAB {spot}(TSLABUSDT)
Bank of Japan Set for Highest Interest Rate in 31 Years: What It Means for Crypto
The global financial market is closely watching Japan as the Bank of Japan (BOJ) prepares to raise its policy interest rate to 1%, a level not seen since 1995.
#SICryptoNews #BoJ $BTC
$SPCX
$TSLAB
Članek
بینک آف جاپان 31 سال کی بلند ترین شرحِ سود کی جانب، کرپٹو مارکیٹ پر کیا اثر پڑے گا؟دنیا بھر کی مالیاتی منڈیوں کی نظریں اس وقت جاپان پر جمی ہوئی ہیں، کیونکہ بینک آف جاپان اگلے ہفتے شرحِ سود کو بڑھا کر 1 فیصد تک لے جانے کی تیاری کر رہا ہے۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو یہ 1995 کے بعد پہلی بار ہوگا کہ جاپان کی شرحِ سود اس سطح پر پہنچے گی۔ کئی سالوں تک جاپان نے انتہائی نرم مالیاتی پالیسی اپنائے رکھی تاکہ معیشت کو سہارا دیا جا سکے۔ لیکن اب بڑھتی ہوئی مہنگائی اور توانائی کی قیمتوں میں اضافے نے مرکزی بینک کو سخت فیصلے لینے پر مجبور کر دیا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ بینک آف جاپان کے گورنر کازو اوئیڈا طبی علاج کی وجہ سے آئندہ اجلاس میں شرکت نہیں کریں گے۔ ان کی جگہ ڈپٹی گورنر شن ایچی اوچیڈا میڈیا بریفنگ دیں گے، جس پر سرمایہ کار خصوصی توجہ دے رہے ہیں۔ ماہرین کا خیال ہے کہ شرحِ سود میں اضافے سے جاپانی کرنسی "ین" مضبوط ہو سکتی ہے۔ مضبوط ین درآمدی مہنگائی کو کم کرنے میں مدد دے سکتا ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ سرمایہ کاروں کے رویے پر بھی اثر ڈال سکتا ہے۔ کرپٹو مارکیٹ کے لیے یہ خبر خاص اہمیت رکھتی ہے۔ جب شرحِ سود بڑھتی ہے تو عام طور پر سرمایہ کار زیادہ محفوظ اثاثوں کو ترجیح دیتے ہیں، جس کے نتیجے میں بٹ کوائن اور دیگر کرپٹو کرنسیوں پر مختصر مدت کے لیے دباؤ آ سکتا ہے۔ اس کے علاوہ بلند شرحِ سود مارکیٹ میں موجود اضافی لیکویڈیٹی کو بھی کم کر سکتی ہے، جو اکثر کرپٹو مارکیٹ کی تیزی کا ایک اہم سبب ہوتی ہے۔ اگرچہ قلیل مدت میں کچھ منفی اثرات دیکھنے کو مل سکتے ہیں، لیکن طویل مدت میں کرپٹو مارکیٹ کی سمت کا انحصار عالمی معاشی حالات، امریکی فیڈرل ریزرو کی پالیسیوں اور سرمایہ کاروں کے اعتماد پر رہے گا۔ آنے والے دنوں میں سرمایہ کاروں کی نظریں بینک آف جاپان کے فیصلے اور اس کے بعد آنے والے بیانات پر مرکوز رہیں گی، کیونکہ یہی عوامل مالیاتی اور کرپٹو مارکیٹوں کی اگلی سمت کا تعین کر سکتے ہیں۔ #SICryptoNews #JapanCrypto #BoJ

بینک آف جاپان 31 سال کی بلند ترین شرحِ سود کی جانب، کرپٹو مارکیٹ پر کیا اثر پڑے گا؟

دنیا بھر کی مالیاتی منڈیوں کی نظریں اس وقت جاپان پر جمی ہوئی ہیں، کیونکہ بینک آف جاپان اگلے ہفتے شرحِ سود کو بڑھا کر 1 فیصد تک لے جانے کی تیاری کر رہا ہے۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو یہ 1995 کے بعد پہلی بار ہوگا کہ جاپان کی شرحِ سود اس سطح پر پہنچے گی۔
کئی سالوں تک جاپان نے انتہائی نرم مالیاتی پالیسی اپنائے رکھی تاکہ معیشت کو سہارا دیا جا سکے۔ لیکن اب بڑھتی ہوئی مہنگائی اور توانائی کی قیمتوں میں اضافے نے مرکزی بینک کو سخت فیصلے لینے پر مجبور کر دیا ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ بینک آف جاپان کے گورنر کازو اوئیڈا طبی علاج کی وجہ سے آئندہ اجلاس میں شرکت نہیں کریں گے۔ ان کی جگہ ڈپٹی گورنر شن ایچی اوچیڈا میڈیا بریفنگ دیں گے، جس پر سرمایہ کار خصوصی توجہ دے رہے ہیں۔
ماہرین کا خیال ہے کہ شرحِ سود میں اضافے سے جاپانی کرنسی "ین" مضبوط ہو سکتی ہے۔ مضبوط ین درآمدی مہنگائی کو کم کرنے میں مدد دے سکتا ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ سرمایہ کاروں کے رویے پر بھی اثر ڈال سکتا ہے۔
کرپٹو مارکیٹ کے لیے یہ خبر خاص اہمیت رکھتی ہے۔ جب شرحِ سود بڑھتی ہے تو عام طور پر سرمایہ کار زیادہ محفوظ اثاثوں کو ترجیح دیتے ہیں، جس کے نتیجے میں بٹ کوائن اور دیگر کرپٹو کرنسیوں پر مختصر مدت کے لیے دباؤ آ سکتا ہے۔
اس کے علاوہ بلند شرحِ سود مارکیٹ میں موجود اضافی لیکویڈیٹی کو بھی کم کر سکتی ہے، جو اکثر کرپٹو مارکیٹ کی تیزی کا ایک اہم سبب ہوتی ہے۔
اگرچہ قلیل مدت میں کچھ منفی اثرات دیکھنے کو مل سکتے ہیں، لیکن طویل مدت میں کرپٹو مارکیٹ کی سمت کا انحصار عالمی معاشی حالات، امریکی فیڈرل ریزرو کی پالیسیوں اور سرمایہ کاروں کے اعتماد پر رہے گا۔
آنے والے دنوں میں سرمایہ کاروں کی نظریں بینک آف جاپان کے فیصلے اور اس کے بعد آنے والے بیانات پر مرکوز رہیں گی، کیونکہ یہی عوامل مالیاتی اور کرپٹو مارکیٹوں کی اگلی سمت کا تعین کر سکتے ہیں۔
#SICryptoNews #JapanCrypto #BoJ
Bitcoin Surges While Oil Prices Fall After Trump Cancels Planned Iran Strikes Global financial markets reacted quickly after U.S. President Donald Trump announced that the United States would not proceed with the planned military strikes against Iran. The statement sparked optimism across multiple markets, leading to a sharp rise in cryptocurrencies and a significant drop in oil prices. #SICryptoNews #TRUMP $BTC {future}(BTCUSDT) $ETH {future}(ETHUSDT) $TSLAB
Bitcoin Surges While Oil Prices Fall After Trump Cancels Planned Iran Strikes
Global financial markets reacted quickly after U.S. President Donald Trump announced that the United States would not proceed with the planned military strikes against Iran. The statement sparked optimism across multiple markets, leading to a sharp rise in cryptocurrencies and a significant drop in oil prices.
#SICryptoNews #TRUMP $BTC
$ETH
$TSLAB
Članek
ٹرمپ کے ایران پر حملے منسوخ کرنے کے اعلان کے بعد بٹ کوائن میں تیزی، تیل کی قیمتوں میں بڑی کمیعالمی مالیاتی منڈیوں میں اس وقت ایک اہم پیش رفت دیکھنے میں آئی جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا کہ امریکہ ایران کے خلاف طے شدہ فوجی حملے نہیں کرے گا۔ اس خبر کے سامنے آتے ہی نہ صرف کرپٹو مارکیٹ بلکہ تیل کی مارکیٹ میں بھی فوری ردعمل دیکھنے کو ملا۔ صدر ٹرمپ کے مطابق ایران کے ساتھ مذاکرات اعلیٰ سطح تک پہنچ چکے ہیں اور مستقل امن معاہدے کے بیشتر نکات پر اتفاق ہو گیا ہے۔ اگرچہ بحری ناکہ بندی ابھی برقرار رہے گی، لیکن دونوں فریقوں کے درمیان امن معاہدہ تقریباً مکمل ہونے کے قریب بتایا جا رہا ہے۔ اس اعلان کے فوراً بعد بٹ کوائن کی قیمت میں نمایاں اضافہ ہوا۔ بٹ کوائن تقریباً 62,300 ڈالر سے بڑھ کر 63,700 ڈالر تک پہنچ گیا، جو گزشتہ کئی دنوں کی بلند ترین سطح ہے۔ صرف بٹ کوائن ہی نہیں بلکہ ایتھیریم، بی این بی اور سولانا سمیت دیگر بڑی کرپٹو کرنسیاں بھی تیزی کے ساتھ اوپر گئیں۔ دوسری جانب تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی دیکھی گئی۔ امریکی خام تیل کی قیمت چند ہی منٹوں میں 91 ڈالر سے گر کر 87 ڈالر سے نیچے آ گئی۔ ماہرین کے مطابق مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کم ہونے کی توقع نے تیل کی سپلائی سے متعلق خدشات کو کم کیا، جس کی وجہ سے قیمتوں میں کمی آئی۔ سرمایہ کار عموماً ایسے حالات میں خطرناک اثاثوں کی طرف واپس آتے ہیں جب جنگ یا جغرافیائی سیاسی خطرات کم ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کرپٹو مارکیٹ میں سرمایہ کاری کا رجحان بڑھا اور قیمتوں میں تیزی دیکھی گئی۔ اگر آنے والے دنوں میں امن معاہدہ واقعی طے پا جاتا ہے تو اس کے مثبت اثرات نہ صرف عالمی معیشت بلکہ کرپٹو مارکیٹ پر بھی مزید دیکھنے کو مل سکتے ہیں

ٹرمپ کے ایران پر حملے منسوخ کرنے کے اعلان کے بعد بٹ کوائن میں تیزی، تیل کی قیمتوں میں بڑی کمی

عالمی مالیاتی منڈیوں میں اس وقت ایک اہم پیش رفت دیکھنے میں آئی جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا کہ امریکہ ایران کے خلاف طے شدہ فوجی حملے نہیں کرے گا۔ اس خبر کے سامنے آتے ہی نہ صرف کرپٹو مارکیٹ بلکہ تیل کی مارکیٹ میں بھی فوری ردعمل دیکھنے کو ملا۔
صدر ٹرمپ کے مطابق ایران کے ساتھ مذاکرات اعلیٰ سطح تک پہنچ چکے ہیں اور مستقل امن معاہدے کے بیشتر نکات پر اتفاق ہو گیا ہے۔ اگرچہ بحری ناکہ بندی ابھی برقرار رہے گی، لیکن دونوں فریقوں کے درمیان امن معاہدہ تقریباً مکمل ہونے کے قریب بتایا جا رہا ہے۔
اس اعلان کے فوراً بعد بٹ کوائن کی قیمت میں نمایاں اضافہ ہوا۔ بٹ کوائن تقریباً 62,300 ڈالر سے بڑھ کر 63,700 ڈالر تک پہنچ گیا، جو گزشتہ کئی دنوں کی بلند ترین سطح ہے۔ صرف بٹ کوائن ہی نہیں بلکہ ایتھیریم، بی این بی اور سولانا سمیت دیگر بڑی کرپٹو کرنسیاں بھی تیزی کے ساتھ اوپر گئیں۔
دوسری جانب تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی دیکھی گئی۔ امریکی خام تیل کی قیمت چند ہی منٹوں میں 91 ڈالر سے گر کر 87 ڈالر سے نیچے آ گئی۔ ماہرین کے مطابق مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کم ہونے کی توقع نے تیل کی سپلائی سے متعلق خدشات کو کم کیا، جس کی وجہ سے قیمتوں میں کمی آئی۔
سرمایہ کار عموماً ایسے حالات میں خطرناک اثاثوں کی طرف واپس آتے ہیں جب جنگ یا جغرافیائی سیاسی خطرات کم ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کرپٹو مارکیٹ میں سرمایہ کاری کا رجحان بڑھا اور قیمتوں میں تیزی دیکھی گئی۔
اگر آنے والے دنوں میں امن معاہدہ واقعی طے پا جاتا ہے تو اس کے مثبت اثرات نہ صرف عالمی معیشت بلکہ کرپٹو مارکیٹ پر بھی مزید دیکھنے کو مل سکتے ہیں
Prijavite se, če želite raziskati več vsebin
Pridružite se globalnim kriptouporabnikom na trgu Binance Square
⚡️ Pridobite najnovejše in koristne informacije o kriptovalutah.
💬 Zaupanje največje borze kriptovalut na svetu.
👍 Odkrijte prave vpoglede potrjenih ustvarjalcev.
E-naslov/telefonska številka
Zemljevid spletišča
Nastavitve piškotkov
Pogoji uporabe platforme