Binance Square
SI Crypto News
565 Публикации

SI Crypto News

Latest news updates about BTC (bitcoin), Eth, Sol, USDC, USDT and others crypto currencies.
27 подписок(и/а)
70 подписчиков(а)
132 понравилось
Посты
·
--
Статья
برطانیہ میں صرف 240 کرپٹو ملینئرز نے آدھے سے زیادہ ٹیکس ایبل منافع کمایابرطانیہ میں کرپٹو سے متعلق ایک دلچسپ تصویر پہلی بار سرکاری اعداد و شمار کے ذریعے سامنے آئی ہے۔ برطانوی ٹیکس اتھارٹی HMRC کے مطابق، ملک میں کرپٹو سے ہونے والے بڑے منافع کا ایک بہت بڑا حصہ صرف چند افراد کے پاس ہے۔ 2024-25 کے ٹیکس سال میں تقریباً 17,600 افراد نے کرپٹو اثاثوں کی فروخت یا ڈسپوزل رپورٹ کی۔ ان میں سے صرف 240 افراد نے ایک ایک ملین پاؤنڈ سے زیادہ کا منافع ظاہر کیا۔ ان 240 افراد کا مجموعی منافع تقریباً £717 ملین رہا۔ یہ تعداد کل کرپٹو ٹیکس دہندگان کے 2 فیصد سے بھی کم بنتی ہے، لیکن حیران کن بات یہ ہے کہ ان لوگوں نے مجموعی طور پر رپورٹ کیے گئے £1.38 بلین کرپٹو منافع کا نصف سے زیادہ کمایا۔ عام سرمایہ کار کہاں کھڑے ہیں؟ دوسری طرف تصویر بالکل مختلف ہے۔ تقریباً 65 فیصد افراد نے £25,000 سے کم کرپٹو منافع رپورٹ کیا۔ یعنی کرپٹو مارکیٹ میں زیادہ تر لوگ بہت بڑے منافع نہیں کما رہے۔ بڑے منافع کا ایک نمایاں حصہ چند بڑے سرمایہ کاروں یا ملینئرز کے پاس مرکوز ہے۔ یہ صورتحال ہمیں یہ بھی بتاتی ہے کہ کرپٹو مارکیٹ میں صرف Bitcoin یا کسی دوسرے ٹوکن کی قیمت بڑھنا ہی پوری کہانی نہیں ہے۔ اصل فرق سرمایہ کاری کی مقدار، خریداری کے وقت اور مارکیٹ میں موجود سرمایہ سے بھی پڑتا ہے۔ کرپٹو سرمایہ کار عام ٹیکس دہندگان سے مختلف ہیں HMRC کے اعداد و شمار میں ایک اور دلچسپ پہلو سامنے آیا۔ کرپٹو سے متعلق ٹیکس رپورٹ کرنے والوں میں 54 فیصد افراد کی عمر 25 سے 44 سال کے درمیان تھی۔ اس کے مقابلے میں عام Capital Gains Tax population میں یہ تناسب صرف 17 فیصد بتایا گیا ہے۔ کرپٹو سرمایہ کاروں میں مردوں کی تعداد بھی نمایاں طور پر زیادہ رہی۔ تقریباً 87 فیصد کرپٹو ٹیکس دہندگان مرد تھے، جبکہ مجموعی Capital Gains Tax population میں یہ شرح 56 فیصد تھی۔ حکومت کی نظر اب کرپٹو پر زیادہ ہے برطانیہ میں کرپٹو ٹیکس رپورٹنگ کا نظام بھی تبدیل ہو رہا ہے۔ نئے عالمی Cryptoasset Reporting Framework کے تحت کرپٹو سروس فراہم کرنے والوں سے صارفین کے متعلق معلومات ٹیکس حکام کے ساتھ شیئر کرنے کی توقع ہے۔ HMRC کو یہ معلومات 2027 سے ملنا شروع ہوں گی۔ اس کا مطلب سادہ الفاظ میں یہ ہے کہ آنے والے وقت میں کرپٹو ٹریڈنگ کو چھپانا پہلے کے مقابلے میں زیادہ مشکل ہو سکتا ہے۔ سرمایہ کاروں کے لیے اپنی خریداری، فروخت، منافع اور نقصان کا ریکارڈ محفوظ رکھنا پہلے سے زیادہ اہم ہوگا۔ اس کا کرپٹو مارکیٹ پر کیا اثر پڑ سکتا ہے؟ مختصر مدت میں زیادہ ٹیکس اور رپورٹنگ کچھ سرمایہ کاروں کے لیے دباؤ پیدا کر سکتی ہے۔ لیکن طویل مدت میں واضح قوانین مارکیٹ کے لیے مثبت بھی ثابت ہو سکتے ہیں۔ جب حکومتیں کرپٹو کے لیے واضح قوانین بناتی ہیں تو بڑے مالیاتی اداروں اور سنجیدہ سرمایہ کاروں کے لیے اس شعبے میں داخل ہونا نسبتاً آسان ہو سکتا ہے۔ برطانیہ کی یہ رپورٹ ایک بات واضح کرتی ہے: کرپٹو اب صرف ایک چھوٹی ٹیکنالوجی نہیں رہی۔ حکومتیں اسے باقاعدہ مالیاتی اثاثے کے طور پر دیکھ رہی ہیں، اور اس کے ساتھ ٹیکس اور رپورٹنگ بھی تیزی سے اہم ہوتی جا رہی ہے #SICryptoNews #bitcoin #memecoin🚀🚀🚀

برطانیہ میں صرف 240 کرپٹو ملینئرز نے آدھے سے زیادہ ٹیکس ایبل منافع کمایا

برطانیہ میں کرپٹو سے متعلق ایک دلچسپ تصویر پہلی بار سرکاری اعداد و شمار کے ذریعے سامنے آئی ہے۔ برطانوی ٹیکس اتھارٹی HMRC کے مطابق، ملک میں کرپٹو سے ہونے والے بڑے منافع کا ایک بہت بڑا حصہ صرف چند افراد کے پاس ہے۔
2024-25 کے ٹیکس سال میں تقریباً 17,600 افراد نے کرپٹو اثاثوں کی فروخت یا ڈسپوزل رپورٹ کی۔ ان میں سے صرف 240 افراد نے ایک ایک ملین پاؤنڈ سے زیادہ کا منافع ظاہر کیا۔ ان 240 افراد کا مجموعی منافع تقریباً £717 ملین رہا۔
یہ تعداد کل کرپٹو ٹیکس دہندگان کے 2 فیصد سے بھی کم بنتی ہے، لیکن حیران کن بات یہ ہے کہ ان لوگوں نے مجموعی طور پر رپورٹ کیے گئے £1.38 بلین کرپٹو منافع کا نصف سے زیادہ کمایا۔
عام سرمایہ کار کہاں کھڑے ہیں؟
دوسری طرف تصویر بالکل مختلف ہے۔ تقریباً 65 فیصد افراد نے £25,000 سے کم کرپٹو منافع رپورٹ کیا۔
یعنی کرپٹو مارکیٹ میں زیادہ تر لوگ بہت بڑے منافع نہیں کما رہے۔ بڑے منافع کا ایک نمایاں حصہ چند بڑے سرمایہ کاروں یا ملینئرز کے پاس مرکوز ہے۔
یہ صورتحال ہمیں یہ بھی بتاتی ہے کہ کرپٹو مارکیٹ میں صرف Bitcoin یا کسی دوسرے ٹوکن کی قیمت بڑھنا ہی پوری کہانی نہیں ہے۔ اصل فرق سرمایہ کاری کی مقدار، خریداری کے وقت اور مارکیٹ میں موجود سرمایہ سے بھی پڑتا ہے۔
کرپٹو سرمایہ کار عام ٹیکس دہندگان سے مختلف ہیں
HMRC کے اعداد و شمار میں ایک اور دلچسپ پہلو سامنے آیا۔ کرپٹو سے متعلق ٹیکس رپورٹ کرنے والوں میں 54 فیصد افراد کی عمر 25 سے 44 سال کے درمیان تھی۔
اس کے مقابلے میں عام Capital Gains Tax population میں یہ تناسب صرف 17 فیصد بتایا گیا ہے۔
کرپٹو سرمایہ کاروں میں مردوں کی تعداد بھی نمایاں طور پر زیادہ رہی۔ تقریباً 87 فیصد کرپٹو ٹیکس دہندگان مرد تھے، جبکہ مجموعی Capital Gains Tax population میں یہ شرح 56 فیصد تھی۔
حکومت کی نظر اب کرپٹو پر زیادہ ہے
برطانیہ میں کرپٹو ٹیکس رپورٹنگ کا نظام بھی تبدیل ہو رہا ہے۔ نئے عالمی Cryptoasset Reporting Framework کے تحت کرپٹو سروس فراہم کرنے والوں سے صارفین کے متعلق معلومات ٹیکس حکام کے ساتھ شیئر کرنے کی توقع ہے۔
HMRC کو یہ معلومات 2027 سے ملنا شروع ہوں گی۔
اس کا مطلب سادہ الفاظ میں یہ ہے کہ آنے والے وقت میں کرپٹو ٹریڈنگ کو چھپانا پہلے کے مقابلے میں زیادہ مشکل ہو سکتا ہے۔ سرمایہ کاروں کے لیے اپنی خریداری، فروخت، منافع اور نقصان کا ریکارڈ محفوظ رکھنا پہلے سے زیادہ اہم ہوگا۔
اس کا کرپٹو مارکیٹ پر کیا اثر پڑ سکتا ہے؟
مختصر مدت میں زیادہ ٹیکس اور رپورٹنگ کچھ سرمایہ کاروں کے لیے دباؤ پیدا کر سکتی ہے۔ لیکن طویل مدت میں واضح قوانین مارکیٹ کے لیے مثبت بھی ثابت ہو سکتے ہیں۔
جب حکومتیں کرپٹو کے لیے واضح قوانین بناتی ہیں تو بڑے مالیاتی اداروں اور سنجیدہ سرمایہ کاروں کے لیے اس شعبے میں داخل ہونا نسبتاً آسان ہو سکتا ہے۔
برطانیہ کی یہ رپورٹ ایک بات واضح کرتی ہے: کرپٹو اب صرف ایک چھوٹی ٹیکنالوجی نہیں رہی۔ حکومتیں اسے باقاعدہ مالیاتی اثاثے کے طور پر دیکھ رہی ہیں، اور اس کے ساتھ ٹیکس اور رپورٹنگ بھی تیزی سے اہم ہوتی جا رہی ہے
#SICryptoNews #bitcoin #memecoin🚀🚀🚀
Статья
پاکستان کا نیا کرپٹو ریگولیٹری نظام: صرف 8 فیصد بجٹ میں بڑا قدمپاکستان نے کرپٹو اور ڈیجیٹل اثاثوں کے شعبے میں ایک ایسا قدم اٹھایا ہے جس نے ملکی اور عالمی سطح پر توجہ حاصل کی ہے۔ وزیرِ مملکت اور پاکستان ورچوئل ایسٹس ریگولیٹری اتھارٹی (PVARA) کے چیئرمین بلال بن صاقب کے مطابق، پاکستان نے اپنا نیا کرپٹو ریگولیٹری فریم ورک چھ ماہ سے بھی کم عرصے میں تیار اور عملی شکل دے دی، جبکہ اس مقصد کے لیے منظور کیے گئے بجٹ کا صرف 8 فیصد استعمال ہوا۔ بلال بن صاقب نے 28 اگست کو ہانگ کانگ میں ہونے والی Bitcoin Asia تقریب میں بتایا کہ اس پورے عمل پر تقریباً 200,000 ڈالر خرچ ہوئے۔ ان کے مطابق تقریباً 92 فیصد منظور شدہ بجٹ ابھی خرچ نہیں کیا گیا۔ یہ بات اس لیے بھی اہم ہے کیونکہ عام طور پر سرکاری نظام بنانے میں کافی وقت، وسائل اور بڑے انتظامی ڈھانچے کی ضرورت پڑتی ہے۔ پاکستان کا دعویٰ ہے کہ اس معاملے میں نسبتاً چھوٹی ٹیم، ٹیکنالوجی اور تیز رفتار ورک فلو کے ذریعے کام کو آگے بڑھایا گیا۔ کرپٹو کمپنیوں کے لیے کیا بدلے گا؟ نئے ریگولیٹری نظام کا مقصد پاکستان میں ڈیجیٹل اثاثوں سے متعلق کاروبار کو ایک واضح قانونی راستہ فراہم کرنا ہے۔ اس فریم ورک میں کرپٹو ایکسچینجز، کسٹڈی سروسز، بروکریج، اثاثوں کے انتظام، lending اور settlement جیسی سرگرمیاں شامل ہیں۔ ساتھ ہی کمپنیوں کے لیے گورننس، اینٹی منی لانڈرنگ، دہشت گردی کی مالی معاونت کی روک تھام، صارفین کے اثاثوں کی حفاظت، سائبر سیکیورٹی اور مارکیٹ کنڈکٹ جیسے معاملات پر بھی توجہ دی گئی ہے۔ سادہ الفاظ میں کہا جائے تو پہلے جہاں کرپٹو کاروبار کے لیے قانونی ماحول نسبتاً غیر واضح تھا، اب حکومت ایک باقاعدہ نظام کے ذریعے اس شعبے کو زیادہ منظم انداز میں آگے بڑھانا چاہتی ہے۔ اس کا عام صارف پر کیا اثر پڑ سکتا ہے؟ اگر ریگولیشن صحیح طریقے سے نافذ ہوتی ہے تو اس کا ایک بڑا فائدہ اعتماد کی صورت میں سامنے آ سکتا ہے۔ لوگوں کے لیے یہ جاننا آسان ہوگا کہ کون سی کمپنی قانونی طور پر کام کر رہی ہے اور کون سی نہیں۔ دوسری طرف، ذمہ دار اور قانونی کرپٹو کمپنیاں بھی پاکستان میں سرمایہ کاری اور کاروبار کے بارے میں زیادہ اعتماد محسوس کر سکتی ہیں۔ تاہم ریگولیشن کا مطلب یہ نہیں کہ کرپٹو مارکیٹ میں خطرات ختم ہو جائیں گے۔ Bitcoin اور دیگر ڈیجیٹل اثاثوں کی قیمتیں اب بھی تیزی سے اوپر نیچے ہو سکتی ہیں، اس لیے صارفین کے لیے تحقیق اور رسک مینجمنٹ ضروری رہے گی۔ پاکستان کی نظر صرف Bitcoin پر نہیں بلال بن صاقب نے ایک دلچسپ بات یہ بھی کی کہ مستقبل کی معیشت صرف آج کے کرپٹو اثاثوں تک محدود نہیں ہوگی۔ Stablecoins، tokenized assets، programmable payments اور Artificial Intelligence agents آنے والے سالوں میں مالیاتی نظام کو تبدیل کر سکتے ہیں۔ مثلاً مستقبل میں ایک AI agent کسی شخص یا کمپنی کی طرف سے خودکار طور پر ادائیگی کر سکے گا۔ اس صورت میں یہ سوال پیدا ہوگا کہ اگر ایک AI نے غلط مالیاتی ٹرانزیکشن کی تو ذمہ دار کون ہوگا؟ اسے کس حد تک پیسے خرچ کرنے کی اجازت ہوگی؟ اور anti-money laundering قوانین مشین سے مشین ہونے والی ادائیگیوں پر کیسے لاگو ہوں گے؟ یہ وہ مسائل ہیں جن پر دنیا بھر کے ریگولیٹرز کو آنے والے وقت میں غور کرنا ہوگا۔ اصل امتحان اب شروع ہوتا ہے صرف چھ ماہ سے کم عرصے میں فریم ورک بنانا اور کم بجٹ استعمال کرنا یقیناً قابلِ ذکر ہے، لیکن اصل کامیابی اس وقت ثابت ہوگی جب یہ نظام عملی طور پر کام کرے گا۔ پاکستان کو اب یہ دیکھنا ہوگا کہ وہ ایک طرف حقیقی اور ذمہ دار کرپٹو کاروبار کو ملک میں آنے کا موقع دے، جبکہ دوسری طرف صارفین، مالیاتی نظام اور مارکیٹ کو غیر ضروری خطرات سے بھی محفوظ رکھے۔ اگر یہ توازن برقرار رہتا ہے تو پاکستان صرف کرپٹو کو regulate کرنے والا ملک نہیں بلکہ ڈیجیٹل فنانس کے اگلے مرحلے میں حصہ لینے والا ملک بن سکتا ہے۔ #SICryptoNews #bitcoin #pakistancryptonews

پاکستان کا نیا کرپٹو ریگولیٹری نظام: صرف 8 فیصد بجٹ میں بڑا قدم

پاکستان نے کرپٹو اور ڈیجیٹل اثاثوں کے شعبے میں ایک ایسا قدم اٹھایا ہے جس نے ملکی اور عالمی سطح پر توجہ حاصل کی ہے۔ وزیرِ مملکت اور پاکستان ورچوئل ایسٹس ریگولیٹری اتھارٹی (PVARA) کے چیئرمین بلال بن صاقب کے مطابق، پاکستان نے اپنا نیا کرپٹو ریگولیٹری فریم ورک چھ ماہ سے بھی کم عرصے میں تیار اور عملی شکل دے دی، جبکہ اس مقصد کے لیے منظور کیے گئے بجٹ کا صرف 8 فیصد استعمال ہوا۔
بلال بن صاقب نے 28 اگست کو ہانگ کانگ میں ہونے والی Bitcoin Asia تقریب میں بتایا کہ اس پورے عمل پر تقریباً 200,000 ڈالر خرچ ہوئے۔ ان کے مطابق تقریباً 92 فیصد منظور شدہ بجٹ ابھی خرچ نہیں کیا گیا۔
یہ بات اس لیے بھی اہم ہے کیونکہ عام طور پر سرکاری نظام بنانے میں کافی وقت، وسائل اور بڑے انتظامی ڈھانچے کی ضرورت پڑتی ہے۔ پاکستان کا دعویٰ ہے کہ اس معاملے میں نسبتاً چھوٹی ٹیم، ٹیکنالوجی اور تیز رفتار ورک فلو کے ذریعے کام کو آگے بڑھایا گیا۔
کرپٹو کمپنیوں کے لیے کیا بدلے گا؟
نئے ریگولیٹری نظام کا مقصد پاکستان میں ڈیجیٹل اثاثوں سے متعلق کاروبار کو ایک واضح قانونی راستہ فراہم کرنا ہے۔
اس فریم ورک میں کرپٹو ایکسچینجز، کسٹڈی سروسز، بروکریج، اثاثوں کے انتظام، lending اور settlement جیسی سرگرمیاں شامل ہیں۔ ساتھ ہی کمپنیوں کے لیے گورننس، اینٹی منی لانڈرنگ، دہشت گردی کی مالی معاونت کی روک تھام، صارفین کے اثاثوں کی حفاظت، سائبر سیکیورٹی اور مارکیٹ کنڈکٹ جیسے معاملات پر بھی توجہ دی گئی ہے۔
سادہ الفاظ میں کہا جائے تو پہلے جہاں کرپٹو کاروبار کے لیے قانونی ماحول نسبتاً غیر واضح تھا، اب حکومت ایک باقاعدہ نظام کے ذریعے اس شعبے کو زیادہ منظم انداز میں آگے بڑھانا چاہتی ہے۔
اس کا عام صارف پر کیا اثر پڑ سکتا ہے؟
اگر ریگولیشن صحیح طریقے سے نافذ ہوتی ہے تو اس کا ایک بڑا فائدہ اعتماد کی صورت میں سامنے آ سکتا ہے۔
لوگوں کے لیے یہ جاننا آسان ہوگا کہ کون سی کمپنی قانونی طور پر کام کر رہی ہے اور کون سی نہیں۔ دوسری طرف، ذمہ دار اور قانونی کرپٹو کمپنیاں بھی پاکستان میں سرمایہ کاری اور کاروبار کے بارے میں زیادہ اعتماد محسوس کر سکتی ہیں۔
تاہم ریگولیشن کا مطلب یہ نہیں کہ کرپٹو مارکیٹ میں خطرات ختم ہو جائیں گے۔ Bitcoin اور دیگر ڈیجیٹل اثاثوں کی قیمتیں اب بھی تیزی سے اوپر نیچے ہو سکتی ہیں، اس لیے صارفین کے لیے تحقیق اور رسک مینجمنٹ ضروری رہے گی۔
پاکستان کی نظر صرف Bitcoin پر نہیں
بلال بن صاقب نے ایک دلچسپ بات یہ بھی کی کہ مستقبل کی معیشت صرف آج کے کرپٹو اثاثوں تک محدود نہیں ہوگی۔
Stablecoins، tokenized assets، programmable payments اور Artificial Intelligence agents آنے والے سالوں میں مالیاتی نظام کو تبدیل کر سکتے ہیں۔
مثلاً مستقبل میں ایک AI agent کسی شخص یا کمپنی کی طرف سے خودکار طور پر ادائیگی کر سکے گا۔ اس صورت میں یہ سوال پیدا ہوگا کہ اگر ایک AI نے غلط مالیاتی ٹرانزیکشن کی تو ذمہ دار کون ہوگا؟ اسے کس حد تک پیسے خرچ کرنے کی اجازت ہوگی؟ اور anti-money laundering قوانین مشین سے مشین ہونے والی ادائیگیوں پر کیسے لاگو ہوں گے؟
یہ وہ مسائل ہیں جن پر دنیا بھر کے ریگولیٹرز کو آنے والے وقت میں غور کرنا ہوگا۔
اصل امتحان اب شروع ہوتا ہے
صرف چھ ماہ سے کم عرصے میں فریم ورک بنانا اور کم بجٹ استعمال کرنا یقیناً قابلِ ذکر ہے، لیکن اصل کامیابی اس وقت ثابت ہوگی جب یہ نظام عملی طور پر کام کرے گا۔
پاکستان کو اب یہ دیکھنا ہوگا کہ وہ ایک طرف حقیقی اور ذمہ دار کرپٹو کاروبار کو ملک میں آنے کا موقع دے، جبکہ دوسری طرف صارفین، مالیاتی نظام اور مارکیٹ کو غیر ضروری خطرات سے بھی محفوظ رکھے۔
اگر یہ توازن برقرار رہتا ہے تو پاکستان صرف کرپٹو کو regulate کرنے والا ملک نہیں بلکہ ڈیجیٹل فنانس کے اگلے مرحلے میں حصہ لینے والا ملک بن سکتا ہے۔
#SICryptoNews #bitcoin #pakistancryptonews
Статья
امریکی بینک اپنا بلاک چین نیٹ ورک بنانے کی تیاری میں — کرپٹو مارکیٹ کے لیے کیا مطلب ہے؟امریکہ کا روایتی بینکنگ سیکٹر اب بلاک چین ٹیکنالوجی کو صرف ایک تجربہ نہیں سمجھ رہا۔ تازہ پیش رفت کے مطابق، 39 ریاستی بینکنگ ایسوسی ایشنز نے مل کر BankChain Alliance تشکیل دیا ہے، جو تقریباً 3,283 امریکی بینکوں کی نمائندگی کرتی ہے۔ ان بینکوں کے مجموعی اثاثے تقریباً 21.8 ٹریلین ڈالر بتائے گئے ہیں۔ منصوبہ یہ ہے کہ 2027 تک بینکوں کے لیے ایک مشترکہ، انڈسٹری اونڈ بلاک چین نیٹ ورک تیار کیا جائے۔ اس نیٹ ورک کے ذریعے Tokenized Deposits، Stablecoins، Programmable Payments اور Automated Settlement جیسی سہولیات فراہم کرنے کا ہدف ہے۔ بینک آخر اپنا بلاک چین کیوں بنا رہے ہیں؟ روایتی بینکنگ سسٹم میں رقم کی منتقلی اور سیٹلمنٹ کے لیے مختلف اداروں اور نظاموں سے گزرنا پڑتا ہے۔ اس عمل میں وقت بھی لگ سکتا ہے اور اخراجات بھی بڑھ سکتے ہیں۔ بلاک چین کا ایک بڑا فائدہ یہ ہے کہ لین دین کو زیادہ تیزی سے ریکارڈ اور سیٹل کیا جا سکتا ہے، جبکہ سسٹم کو 24/7 چلانے کی گنجائش بھی موجود ہوتی ہے۔ BankChain کا تصور کچھ اسی مسئلے کو حل کرنے کی کوشش ہے، لیکن ایک اہم فرق کے ساتھ۔ یہ بینک کسی موجودہ پبلک کرپٹو نیٹ ورک پر مکمل انحصار کرنے کے بجائے ایسا انفراسٹرکچر چاہتے ہیں جسے بینکنگ انڈسٹری خود کنٹرول اور گورن کرے۔ XRP اور XLM کے لیے یہ خبر کیوں اہم ہے؟ یہاں XRP اور XLM کا ذکر اس لیے آتا ہے کیونکہ کئی سال سے پبلک بلاک چین نیٹ ورکس تیز رفتار عالمی ادائیگیوں اور سیٹلمنٹ کے لیے اپنی ٹیکنالوجی پیش کرتے رہے ہیں۔ لیکن ایک بات واضح رہنی چاہیے: BankChain کا XRP Ledger یا Stellar کے ساتھ کوئی براہِ راست تعلق اعلان نہیں کیا گیا۔ اس لیے یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ 3,283 بینک XRP خریدنے جا رہے ہیں یا BankChain لازمی طور پر XRP استعمال کرے گا۔ اصل سوال کچھ اور ہے۔ اگر بینک اپنے ٹوکنائزڈ ڈپازٹس اور اسٹیبل کوائنز کے ذریعے تیز اور 24/7 ادائیگیاں کر سکتے ہیں، تو پھر انہیں کسی بیرونی کرپٹو اثاثے کی ضرورت کتنی ہوگی؟ یہی وہ مقابلہ ہے جس پر آنے والے سالوں میں کرپٹو سرمایہ کاروں کو نظر رکھنی چاہیے۔ SWIFT بھی بلاک چین کی طرف بڑھ رہا ہے BankChain اکیلا منصوبہ نہیں ہے۔ SWIFT بھی بینکنگ سیکٹر کے لیے بلاک چین پر مبنی لیجر تیار کر رہا ہے، جبکہ بڑے مالیاتی ادارے ٹوکنائزڈ ڈپازٹس کے ذریعے بین الاقوامی لین دین کے نئے طریقے آزما رہے ہیں۔ دوسری طرف، نجی شعبے میں اسٹیبل کوائنز اور نئے آن چین پیمنٹ نیٹ ورکس بھی سامنے آ رہے ہیں۔ یعنی عالمی ادائیگیوں کی دنیا میں ایک نئی دوڑ شروع ہو چکی ہے۔ 15 ستمبر کا CLARITY Act ووٹ بھی اہم ہے اس خبر کا وقت بھی خاصا دلچسپ ہے۔ امریکی سینیٹ میں 15 ستمبر کو CLARITY Act پر اہم procedural vote متوقع ہے۔ ایسے وقت میں جب امریکہ میں کرپٹو ریگولیشن پر بحث جاری ہے، بینک خود بلاک چین انفراسٹرکچر بنانے کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ یہ اس بات کی علامت ہو سکتی ہے کہ روایتی مالیاتی ادارے کرپٹو ٹیکنالوجی کو مکمل طور پر نظر انداز کرنے کے بجائے اسے اپنے نظام میں شامل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اصل کہانی کیا ہے؟ میرے خیال میں اس خبر کا سب سے اہم پہلو 3,283 بینکوں کا نمبر نہیں، بلکہ بینکنگ انڈسٹری کا رویہ ہے۔ کچھ سال پہلے بلاک چین کو زیادہ تر کرپٹو مارکیٹ سے جوڑا جاتا تھا۔ آج بینک، SWIFT، ادائیگیوں کی بڑی کمپنیاں اور مالیاتی ادارے بھی اسی ٹیکنالوجی کو اپنے طریقے سے استعمال کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اب مستقبل کا سوال یہ نہیں کہ بینک بلاک چین استعمال کریں گے یا نہیں۔ اصل سوال یہ ہے: کیا وہ XRP، XLM جیسے پبلک نیٹ ورکس استعمال کریں گے، یا اپنے بند اور کنٹرول شدہ بلاک چین سسٹمز بنائیں گے؟ اسی مقابلے کا اثر آنے والے برسوں میں کرپٹو مارکیٹ پر بہت اہم ہو سکتا ہے۔ #SICryptoNews #bitcoin #Xrp🔥🔥

امریکی بینک اپنا بلاک چین نیٹ ورک بنانے کی تیاری میں — کرپٹو مارکیٹ کے لیے کیا مطلب ہے؟

امریکہ کا روایتی بینکنگ سیکٹر اب بلاک چین ٹیکنالوجی کو صرف ایک تجربہ نہیں سمجھ رہا۔ تازہ پیش رفت کے مطابق، 39 ریاستی بینکنگ ایسوسی ایشنز نے مل کر BankChain Alliance تشکیل دیا ہے، جو تقریباً 3,283 امریکی بینکوں کی نمائندگی کرتی ہے۔ ان بینکوں کے مجموعی اثاثے تقریباً 21.8 ٹریلین ڈالر بتائے گئے ہیں۔
منصوبہ یہ ہے کہ 2027 تک بینکوں کے لیے ایک مشترکہ، انڈسٹری اونڈ بلاک چین نیٹ ورک تیار کیا جائے۔ اس نیٹ ورک کے ذریعے Tokenized Deposits، Stablecoins، Programmable Payments اور Automated Settlement جیسی سہولیات فراہم کرنے کا ہدف ہے۔
بینک آخر اپنا بلاک چین کیوں بنا رہے ہیں؟
روایتی بینکنگ سسٹم میں رقم کی منتقلی اور سیٹلمنٹ کے لیے مختلف اداروں اور نظاموں سے گزرنا پڑتا ہے۔ اس عمل میں وقت بھی لگ سکتا ہے اور اخراجات بھی بڑھ سکتے ہیں۔
بلاک چین کا ایک بڑا فائدہ یہ ہے کہ لین دین کو زیادہ تیزی سے ریکارڈ اور سیٹل کیا جا سکتا ہے، جبکہ سسٹم کو 24/7 چلانے کی گنجائش بھی موجود ہوتی ہے۔
BankChain کا تصور کچھ اسی مسئلے کو حل کرنے کی کوشش ہے، لیکن ایک اہم فرق کے ساتھ۔
یہ بینک کسی موجودہ پبلک کرپٹو نیٹ ورک پر مکمل انحصار کرنے کے بجائے ایسا انفراسٹرکچر چاہتے ہیں جسے بینکنگ انڈسٹری خود کنٹرول اور گورن کرے۔
XRP اور XLM کے لیے یہ خبر کیوں اہم ہے؟
یہاں XRP اور XLM کا ذکر اس لیے آتا ہے کیونکہ کئی سال سے پبلک بلاک چین نیٹ ورکس تیز رفتار عالمی ادائیگیوں اور سیٹلمنٹ کے لیے اپنی ٹیکنالوجی پیش کرتے رہے ہیں۔
لیکن ایک بات واضح رہنی چاہیے: BankChain کا XRP Ledger یا Stellar کے ساتھ کوئی براہِ راست تعلق اعلان نہیں کیا گیا۔
اس لیے یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ 3,283 بینک XRP خریدنے جا رہے ہیں یا BankChain لازمی طور پر XRP استعمال کرے گا۔
اصل سوال کچھ اور ہے۔
اگر بینک اپنے ٹوکنائزڈ ڈپازٹس اور اسٹیبل کوائنز کے ذریعے تیز اور 24/7 ادائیگیاں کر سکتے ہیں، تو پھر انہیں کسی بیرونی کرپٹو اثاثے کی ضرورت کتنی ہوگی؟
یہی وہ مقابلہ ہے جس پر آنے والے سالوں میں کرپٹو سرمایہ کاروں کو نظر رکھنی چاہیے۔
SWIFT بھی بلاک چین کی طرف بڑھ رہا ہے
BankChain اکیلا منصوبہ نہیں ہے۔
SWIFT بھی بینکنگ سیکٹر کے لیے بلاک چین پر مبنی لیجر تیار کر رہا ہے، جبکہ بڑے مالیاتی ادارے ٹوکنائزڈ ڈپازٹس کے ذریعے بین الاقوامی لین دین کے نئے طریقے آزما رہے ہیں۔
دوسری طرف، نجی شعبے میں اسٹیبل کوائنز اور نئے آن چین پیمنٹ نیٹ ورکس بھی سامنے آ رہے ہیں۔
یعنی عالمی ادائیگیوں کی دنیا میں ایک نئی دوڑ شروع ہو چکی ہے۔
15 ستمبر کا CLARITY Act ووٹ بھی اہم ہے
اس خبر کا وقت بھی خاصا دلچسپ ہے۔
امریکی سینیٹ میں 15 ستمبر کو CLARITY Act پر اہم procedural vote متوقع ہے۔ ایسے وقت میں جب امریکہ میں کرپٹو ریگولیشن پر بحث جاری ہے، بینک خود بلاک چین انفراسٹرکچر بنانے کی طرف بڑھ رہے ہیں۔
یہ اس بات کی علامت ہو سکتی ہے کہ روایتی مالیاتی ادارے کرپٹو ٹیکنالوجی کو مکمل طور پر نظر انداز کرنے کے بجائے اسے اپنے نظام میں شامل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
اصل کہانی کیا ہے؟
میرے خیال میں اس خبر کا سب سے اہم پہلو 3,283 بینکوں کا نمبر نہیں، بلکہ بینکنگ انڈسٹری کا رویہ ہے۔
کچھ سال پہلے بلاک چین کو زیادہ تر کرپٹو مارکیٹ سے جوڑا جاتا تھا۔ آج بینک، SWIFT، ادائیگیوں کی بڑی کمپنیاں اور مالیاتی ادارے بھی اسی ٹیکنالوجی کو اپنے طریقے سے استعمال کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
اب مستقبل کا سوال یہ نہیں کہ بینک بلاک چین استعمال کریں گے یا نہیں۔
اصل سوال یہ ہے:
کیا وہ XRP، XLM جیسے پبلک نیٹ ورکس استعمال کریں گے، یا اپنے بند اور کنٹرول شدہ بلاک چین سسٹمز بنائیں گے؟
اسی مقابلے کا اثر آنے والے برسوں میں کرپٹو مارکیٹ پر بہت اہم ہو سکتا ہے۔
#SICryptoNews #bitcoin #Xrp🔥🔥
Статья
کرپٹو فراڈ کیس: لاس ویگاس کے بزنس مین کو 280 سال تک قید کا سامناکرپٹو کی دنیا میں جہاں ہر روز نئی ٹیکنالوجی اور سرمایہ کاری کے مواقع سامنے آ رہے ہیں، وہیں فراڈ کے واقعات بھی سرمایہ کاروں کے لیے ایک بڑا خطرہ بنے ہوئے ہیں۔ امریکہ میں سامنے آنے والا ایک تازہ کیس اسی خطرے کی یاد دہانی کراتا ہے۔ لاس ویگاس کے بزنس مین برینٹ سی کووار کو ایک وفاقی جیوری نے کرپٹو سرمایہ کاری اسکیم کے ذریعے کم از کم 400 سرمایہ کاروں سے تقریباً 24 ملین ڈالر فراڈ کرنے کا مجرم قرار دیا ہے۔ 30 فیصد منافع کا وعدہ کووار کی کمپنی Profit Connect نے 2017 سے 2021 تک سرمایہ کاروں کو یہ یقین دلایا کہ کمپنی مصنوعی ذہانت اور ایک سپر کمپیوٹر کی مدد سے کرپٹو مائننگ اور ٹرانزیکشنز کی تصدیق کرتی ہے۔ سرمایہ کاروں کو سالانہ 15 سے 30 فیصد تک فکس ریٹرن دینے کا وعدہ کیا گیا۔ اس کے علاوہ 100 فیصد رقم واپس کرنے کی گارنٹی بھی بتائی گئی۔ مسئلہ یہ تھا کہ حکام کے مطابق یہ دعوے حقیقت پر مبنی نہیں تھے۔ تحقیقات میں سامنے آیا کہ کمپنی منافع بخش نہیں تھی، اس کے پاس وہ کرپٹو ریزروز موجود نہیں تھے جن کا دعویٰ کیا جا رہا تھا، اور نہ ہی وہ سرمایہ کاروں کو وعدہ کیا گیا منافع مستقل طور پر دینے کی پوزیشن میں تھی۔ سرمایہ کاروں کا پیسہ کہاں گیا؟ استغاثہ کے مطابق سرمایہ کاروں سے حاصل کی گئی رقم کا استعمال کمپنی کے کاروباری اخراجات کے ساتھ ساتھ دیگر مقاصد کے لیے بھی کیا گیا۔ اس میں ملازمین کے تحائف اور کووار کے لیے گھر خریدنا بھی شامل تھا۔ کچھ رقم پرانے سرمایہ کاروں کو واپس کرنے کے لیے استعمال کی گئی تاکہ انہیں یہ تاثر دیا جا سکے کہ منافع واقعی کرپٹو مائننگ اور ٹرانزیکشن ویریفکیشن سے حاصل ہو رہا ہے۔ یہ وہ طریقہ ہے جسے عام طور پر نئے سرمایہ کاروں کے پیسے سے پرانے سرمایہ کاروں کو ادائیگی کرنے والی فراڈ اسکیم کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ عدالت کا فیصلہ نو روزہ ٹرائل کے بعد جیوری نے کووار کو وائر فراڈ، میل فراڈ اور منی لانڈرنگ سمیت مجموعی طور پر 15 الزامات میں مجرم قرار دیا۔ اس کی سزا 30 نومبر 2026 کو سنائی جائے گی۔ اسے قانونی طور پر زیادہ سے زیادہ 280 سال قید کا سامنا ہے۔ یہ بھی اہم ہے کہ ایک الگ کیس میں سان فرانسسکو کے رہائشی جاپھت ڈِل مین کو بھی ایک کرپٹو ٹریڈنگ اسکیم میں فراڈ کا مجرم قرار دیا گیا۔ حکام کے مطابق اس کیس میں 20 سے زیادہ سرمایہ کاروں سے تقریباً 1 ملین ڈالر حاصل کیے گئے تھے۔ کرپٹو سرمایہ کاروں کے لیے بڑا سبق اس کیس کا تعلق صرف ایک کمپنی یا ایک شخص سے نہیں۔ یہ ہر اس شخص کے لیے ایک اہم سبق ہے جو کرپٹو میں سرمایہ کاری کرنا چاہتا ہے۔ اگر کوئی کمپنی بغیر رسک کے بہت زیادہ منافع، فکس ریٹرن یا 100 فیصد رقم واپس کرنے کی گارنٹی دے رہی ہے تو فوراً محتاط ہو جانا چاہیے۔ کرپٹو مارکیٹ میں منافع ممکن ہے، لیکن کوئی بھی حقیقی سرمایہ کاری مکمل طور پر رسک فری نہیں ہوتی۔ سرمایہ کاری سے پہلے کمپنی کا بیک گراؤنڈ، اس کی قانونی حیثیت، اس کے مالی دعوے اور فنڈز کے استعمال کے طریقے کو ضرور چیک کریں۔ اس کیس کا سب سے اہم پیغام یہی ہے: کرپٹو میں ٹیکنالوجی جتنی اہم ہے، اتنا ہی ضروری ہے کہ آپ اپنے پیسے کے پیچھے موجود لوگوں اور کمپنیوں کو بھی سمجھیں۔ #SICryptoNews #CryptoScamAlert #CryptoNewss

کرپٹو فراڈ کیس: لاس ویگاس کے بزنس مین کو 280 سال تک قید کا سامنا

کرپٹو کی دنیا میں جہاں ہر روز نئی ٹیکنالوجی اور سرمایہ کاری کے مواقع سامنے آ رہے ہیں، وہیں فراڈ کے واقعات بھی سرمایہ کاروں کے لیے ایک بڑا خطرہ بنے ہوئے ہیں۔ امریکہ میں سامنے آنے والا ایک تازہ کیس اسی خطرے کی یاد دہانی کراتا ہے۔
لاس ویگاس کے بزنس مین برینٹ سی کووار کو ایک وفاقی جیوری نے کرپٹو سرمایہ کاری اسکیم کے ذریعے کم از کم 400 سرمایہ کاروں سے تقریباً 24 ملین ڈالر فراڈ کرنے کا مجرم قرار دیا ہے۔
30 فیصد منافع کا وعدہ
کووار کی کمپنی Profit Connect نے 2017 سے 2021 تک سرمایہ کاروں کو یہ یقین دلایا کہ کمپنی مصنوعی ذہانت اور ایک سپر کمپیوٹر کی مدد سے کرپٹو مائننگ اور ٹرانزیکشنز کی تصدیق کرتی ہے۔
سرمایہ کاروں کو سالانہ 15 سے 30 فیصد تک فکس ریٹرن دینے کا وعدہ کیا گیا۔ اس کے علاوہ 100 فیصد رقم واپس کرنے کی گارنٹی بھی بتائی گئی۔
مسئلہ یہ تھا کہ حکام کے مطابق یہ دعوے حقیقت پر مبنی نہیں تھے۔
تحقیقات میں سامنے آیا کہ کمپنی منافع بخش نہیں تھی، اس کے پاس وہ کرپٹو ریزروز موجود نہیں تھے جن کا دعویٰ کیا جا رہا تھا، اور نہ ہی وہ سرمایہ کاروں کو وعدہ کیا گیا منافع مستقل طور پر دینے کی پوزیشن میں تھی۔
سرمایہ کاروں کا پیسہ کہاں گیا؟
استغاثہ کے مطابق سرمایہ کاروں سے حاصل کی گئی رقم کا استعمال کمپنی کے کاروباری اخراجات کے ساتھ ساتھ دیگر مقاصد کے لیے بھی کیا گیا۔ اس میں ملازمین کے تحائف اور کووار کے لیے گھر خریدنا بھی شامل تھا۔
کچھ رقم پرانے سرمایہ کاروں کو واپس کرنے کے لیے استعمال کی گئی تاکہ انہیں یہ تاثر دیا جا سکے کہ منافع واقعی کرپٹو مائننگ اور ٹرانزیکشن ویریفکیشن سے حاصل ہو رہا ہے۔
یہ وہ طریقہ ہے جسے عام طور پر نئے سرمایہ کاروں کے پیسے سے پرانے سرمایہ کاروں کو ادائیگی کرنے والی فراڈ اسکیم کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔
عدالت کا فیصلہ
نو روزہ ٹرائل کے بعد جیوری نے کووار کو وائر فراڈ، میل فراڈ اور منی لانڈرنگ سمیت مجموعی طور پر 15 الزامات میں مجرم قرار دیا۔
اس کی سزا 30 نومبر 2026 کو سنائی جائے گی۔ اسے قانونی طور پر زیادہ سے زیادہ 280 سال قید کا سامنا ہے۔
یہ بھی اہم ہے کہ ایک الگ کیس میں سان فرانسسکو کے رہائشی جاپھت ڈِل مین کو بھی ایک کرپٹو ٹریڈنگ اسکیم میں فراڈ کا مجرم قرار دیا گیا۔ حکام کے مطابق اس کیس میں 20 سے زیادہ سرمایہ کاروں سے تقریباً 1 ملین ڈالر حاصل کیے گئے تھے۔
کرپٹو سرمایہ کاروں کے لیے بڑا سبق
اس کیس کا تعلق صرف ایک کمپنی یا ایک شخص سے نہیں۔ یہ ہر اس شخص کے لیے ایک اہم سبق ہے جو کرپٹو میں سرمایہ کاری کرنا چاہتا ہے۔
اگر کوئی کمپنی بغیر رسک کے بہت زیادہ منافع، فکس ریٹرن یا 100 فیصد رقم واپس کرنے کی گارنٹی دے رہی ہے تو فوراً محتاط ہو جانا چاہیے۔
کرپٹو مارکیٹ میں منافع ممکن ہے، لیکن کوئی بھی حقیقی سرمایہ کاری مکمل طور پر رسک فری نہیں ہوتی۔
سرمایہ کاری سے پہلے کمپنی کا بیک گراؤنڈ، اس کی قانونی حیثیت، اس کے مالی دعوے اور فنڈز کے استعمال کے طریقے کو ضرور چیک کریں۔
اس کیس کا سب سے اہم پیغام یہی ہے: کرپٹو میں ٹیکنالوجی جتنی اہم ہے، اتنا ہی ضروری ہے کہ آپ اپنے پیسے کے پیچھے موجود لوگوں اور کمپنیوں کو بھی سمجھیں۔
#SICryptoNews #CryptoScamAlert #CryptoNewss
Статья
GTA VI لیکس سے منسلک Meme Coin CYBERLEEK کی حیران کن ریلیکرپٹو مارکیٹ میں کبھی کبھی ایسی خبریں سامنے آتی ہیں جن کا تعلق صرف کرپٹو سے نہیں ہوتا، بلکہ گیمنگ، سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ کلچر بھی ان میں شامل ہو جاتے ہیں۔ CYBERLEEK کی حالیہ کہانی بھی کچھ ایسی ہی ہے۔ GTA VI کے مبینہ لیکس سے منسلک اس Solana-based meme coin نے بہت کم وقت میں غیر معمولی تیزی دکھائی۔ رپورٹ کے مطابق، صرف 24 گھنٹوں میں CYBERLEEK کی قیمت تقریباً 35 فیصد بڑھی، جبکہ گزشتہ سات دنوں میں اس کا اضافہ تقریباً 40,000 فیصد تک پہنچ گیا۔ یہ اعداد و شمار یقیناً حیران کن ہیں، لیکن اصل سوال یہ ہے کہ آخر اس meme coin میں اتنی دلچسپی کیوں پیدا ہوئی؟ CYBERLEEK کا GTA VI سے کیا تعلق ہے؟ CYBERLEEK کو اس شخص یا گروپ سے منسلک بتایا جا رہا ہے جو GTA VI کی مبینہ leaked gameplay ویڈیوز شیئر کر رہا تھا۔ ان ویڈیوز میں گیم کے نقشے، free-roam gameplay اور مختلف scenes دکھائے گئے تھے۔ بعد میں Rockstar Games کی جانب سے copyright کارروائی کے بعد کچھ مواد X سے ہٹا دیا گیا۔ اسی دوران CYBERLEEK کی تشہیر بھی جاری رہی، جس سے گیمنگ کے شائقین اور کرپٹو کمیونٹی دونوں کی توجہ اس ٹوکن کی طرف گئی۔ Meme Coin اتنی تیزی سے کیوں بڑھا؟ Meme coins اکثر روایتی cryptocurrencies کی طرح صرف ٹیکنالوجی یا کاروباری بنیادوں پر نہیں چلتے۔ ان کی قیمت پر سوشل میڈیا، hype، community اور viral trends کا بہت بڑا اثر ہو سکتا ہے۔ GTA VI دنیا کے سب سے زیادہ انتظار کیے جانے والے ویڈیو گیمز میں شامل ہے۔ اس لیے جب GTA VI کے مبینہ لیکس اور ایک meme coin کا تعلق سامنے آیا تو لوگوں کی دلچسپی تیزی سے بڑھی۔ یہی hype CYBERLEEK کی قیمت میں تیزی کا ایک اہم سبب بن سکتی ہے۔ لیکن یہاں ایک بات سمجھنا بہت ضروری ہے: قیمت کا تیزی سے بڑھنا اس بات کی ضمانت نہیں کہ کوئی cryptocurrency محفوظ یا مضبوط سرمایہ کاری ہے۔ Secret Project کا دعویٰ CYBERLEEK سے منسلک گروپ کا کہنا ہے کہ یہ ٹوکن صرف فوری طور پر پیسہ بنانے کے لیے نہیں بنایا گیا۔ گروپ کے مطابق، اس meme coin سے حاصل ہونے والی رقم ایک Secret Project کے لیے infrastructure اور security تیار کرنے میں استعمال کی جائے گی۔ رپورٹس کے مطابق گروپ نے تقریباً 15 لاکھ ڈالر مالیت کے developer tokens بھی burn کیے، تاکہ یہ ثابت کرنے کی کوشش کی جا سکے کہ CYBERLEEK ایک pump-and-dump منصوبہ نہیں۔ تاہم سرمایہ کاروں کے لیے ضروری ہے کہ وہ ایسے دعووں کو خود verify کریں۔ صرف کسی project کا دعویٰ کافی نہیں ہوتا۔ Market Cap بھی 20 ملین ڈالر سے اوپر CYBERLEEK کی market capitalization ایک وقت میں مبینہ طور پر 20 ملین ڈالر سے زیادہ ہو گئی۔ ایک meme coin کے لیے اتنے کم وقت میں یہ کافی بڑی valuation ہے۔ لیکن meme coins میں volatility بہت زیادہ ہوتی ہے۔ جس رفتار سے قیمت اوپر جا سکتی ہے، اسی طرح اچانک نیچے بھی آ سکتی ہے۔ اس لیے صرف market cap یا price increase دیکھ کر فیصلہ کرنا خطرناک ہو سکتا ہے۔ GTA VI لیکس پر Take-Two کی کارروائی اس پوری کہانی کا دوسرا اہم پہلو GTA VI کے مبینہ leaks ہیں۔ Take-Two Interactive نے مبینہ طور پر Microsoft اور Discord سے معلومات حاصل کرنے کی کوشش کی ہے تاکہ ان افراد یا گروپ کو شناخت کیا جا سکے جو leaked material شیئر کر رہے ہیں۔ عدالتی دستاویزات میں GTA VI کے audiovisual material، artwork، images اور dialogue کے آن لائن شیئر کیے جانے کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ یعنی CYBERLEEK کی کہانی صرف ایک meme coin کی کہانی نہیں رہی۔ اس میں گیمنگ، copyright اور cryptocurrency تینوں شامل ہو چکے ہیں۔ Crypto Investors کے لیے سبق CYBERLEEK کی تیزی ہمیں ایک اہم سبق دیتی ہے: Viral hype meme coins کو بہت تیزی سے اوپر لے جا سکتی ہے، لیکن یہی hype اچانک ختم بھی ہو سکتی ہے۔ اگر کوئی شخص ایسے meme coin میں سرمایہ کاری کرنے کا سوچ رہا ہے تو صرف سوشل میڈیا کی پوسٹس یا price increase دیکھ کر فیصلہ نہیں کرنا چاہیے۔ Token کی liquidity، holders، token distribution، contract details اور project کی اصل activity کو ضرور دیکھنا چاہیے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ FOMO کو investment strategy نہ بنائیں۔ CYBERLEEK کی کہانی یقیناً دلچسپ ہے، لیکن دلچسپ ہونا اور محفوظ سرمایہ کاری ہونا دو مختلف چیزیں ہیں۔ کرپٹو مارکیٹ میں hype موقع پیدا کر سکتی ہے، لیکن اسی hype کے ساتھ خطرہ بھی بہت زیادہ ہوتا ہے۔ #SICryptoNews #memecoin #CryptoNewss

GTA VI لیکس سے منسلک Meme Coin CYBERLEEK کی حیران کن ریلی

کرپٹو مارکیٹ میں کبھی کبھی ایسی خبریں سامنے آتی ہیں جن کا تعلق صرف کرپٹو سے نہیں ہوتا، بلکہ گیمنگ، سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ کلچر بھی ان میں شامل ہو جاتے ہیں۔ CYBERLEEK کی حالیہ کہانی بھی کچھ ایسی ہی ہے۔
GTA VI کے مبینہ لیکس سے منسلک اس Solana-based meme coin نے بہت کم وقت میں غیر معمولی تیزی دکھائی۔ رپورٹ کے مطابق، صرف 24 گھنٹوں میں CYBERLEEK کی قیمت تقریباً 35 فیصد بڑھی، جبکہ گزشتہ سات دنوں میں اس کا اضافہ تقریباً 40,000 فیصد تک پہنچ گیا۔
یہ اعداد و شمار یقیناً حیران کن ہیں، لیکن اصل سوال یہ ہے کہ آخر اس meme coin میں اتنی دلچسپی کیوں پیدا ہوئی؟
CYBERLEEK کا GTA VI سے کیا تعلق ہے؟
CYBERLEEK کو اس شخص یا گروپ سے منسلک بتایا جا رہا ہے جو GTA VI کی مبینہ leaked gameplay ویڈیوز شیئر کر رہا تھا۔
ان ویڈیوز میں گیم کے نقشے، free-roam gameplay اور مختلف scenes دکھائے گئے تھے۔ بعد میں Rockstar Games کی جانب سے copyright کارروائی کے بعد کچھ مواد X سے ہٹا دیا گیا۔
اسی دوران CYBERLEEK کی تشہیر بھی جاری رہی، جس سے گیمنگ کے شائقین اور کرپٹو کمیونٹی دونوں کی توجہ اس ٹوکن کی طرف گئی۔
Meme Coin اتنی تیزی سے کیوں بڑھا؟
Meme coins اکثر روایتی cryptocurrencies کی طرح صرف ٹیکنالوجی یا کاروباری بنیادوں پر نہیں چلتے۔
ان کی قیمت پر سوشل میڈیا، hype، community اور viral trends کا بہت بڑا اثر ہو سکتا ہے۔
GTA VI دنیا کے سب سے زیادہ انتظار کیے جانے والے ویڈیو گیمز میں شامل ہے۔ اس لیے جب GTA VI کے مبینہ لیکس اور ایک meme coin کا تعلق سامنے آیا تو لوگوں کی دلچسپی تیزی سے بڑھی۔
یہی hype CYBERLEEK کی قیمت میں تیزی کا ایک اہم سبب بن سکتی ہے۔
لیکن یہاں ایک بات سمجھنا بہت ضروری ہے:
قیمت کا تیزی سے بڑھنا اس بات کی ضمانت نہیں کہ کوئی cryptocurrency محفوظ یا مضبوط سرمایہ کاری ہے۔
Secret Project کا دعویٰ
CYBERLEEK سے منسلک گروپ کا کہنا ہے کہ یہ ٹوکن صرف فوری طور پر پیسہ بنانے کے لیے نہیں بنایا گیا۔
گروپ کے مطابق، اس meme coin سے حاصل ہونے والی رقم ایک Secret Project کے لیے infrastructure اور security تیار کرنے میں استعمال کی جائے گی۔
رپورٹس کے مطابق گروپ نے تقریباً 15 لاکھ ڈالر مالیت کے developer tokens بھی burn کیے، تاکہ یہ ثابت کرنے کی کوشش کی جا سکے کہ CYBERLEEK ایک pump-and-dump منصوبہ نہیں۔
تاہم سرمایہ کاروں کے لیے ضروری ہے کہ وہ ایسے دعووں کو خود verify کریں۔ صرف کسی project کا دعویٰ کافی نہیں ہوتا۔
Market Cap بھی 20 ملین ڈالر سے اوپر
CYBERLEEK کی market capitalization ایک وقت میں مبینہ طور پر 20 ملین ڈالر سے زیادہ ہو گئی۔
ایک meme coin کے لیے اتنے کم وقت میں یہ کافی بڑی valuation ہے۔
لیکن meme coins میں volatility بہت زیادہ ہوتی ہے۔ جس رفتار سے قیمت اوپر جا سکتی ہے، اسی طرح اچانک نیچے بھی آ سکتی ہے۔
اس لیے صرف market cap یا price increase دیکھ کر فیصلہ کرنا خطرناک ہو سکتا ہے۔
GTA VI لیکس پر Take-Two کی کارروائی
اس پوری کہانی کا دوسرا اہم پہلو GTA VI کے مبینہ leaks ہیں۔
Take-Two Interactive نے مبینہ طور پر Microsoft اور Discord سے معلومات حاصل کرنے کی کوشش کی ہے تاکہ ان افراد یا گروپ کو شناخت کیا جا سکے جو leaked material شیئر کر رہے ہیں۔
عدالتی دستاویزات میں GTA VI کے audiovisual material، artwork، images اور dialogue کے آن لائن شیئر کیے جانے کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔
یعنی CYBERLEEK کی کہانی صرف ایک meme coin کی کہانی نہیں رہی۔ اس میں گیمنگ، copyright اور cryptocurrency تینوں شامل ہو چکے ہیں۔
Crypto Investors کے لیے سبق
CYBERLEEK کی تیزی ہمیں ایک اہم سبق دیتی ہے:
Viral hype meme coins کو بہت تیزی سے اوپر لے جا سکتی ہے، لیکن یہی hype اچانک ختم بھی ہو سکتی ہے۔
اگر کوئی شخص ایسے meme coin میں سرمایہ کاری کرنے کا سوچ رہا ہے تو صرف سوشل میڈیا کی پوسٹس یا price increase دیکھ کر فیصلہ نہیں کرنا چاہیے۔
Token کی liquidity، holders، token distribution، contract details اور project کی اصل activity کو ضرور دیکھنا چاہیے۔
سب سے اہم بات یہ ہے کہ FOMO کو investment strategy نہ بنائیں۔
CYBERLEEK کی کہانی یقیناً دلچسپ ہے، لیکن دلچسپ ہونا اور محفوظ سرمایہ کاری ہونا دو مختلف چیزیں ہیں۔
کرپٹو مارکیٹ میں hype موقع پیدا کر سکتی ہے، لیکن اسی hype کے ساتھ خطرہ بھی بہت زیادہ ہوتا ہے۔
#SICryptoNews #memecoin #CryptoNewss
Статья
جنوبی کوریا کا کرپٹو کی طرف بڑا قدم: 3,500 کمپنیوں کو رسائیجنوبی کوریا ایک بار پھر ڈیجیٹل فنانس کے میدان میں تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔ ملک نے ایک ایسے پروگرام پر پیش رفت کی ہے جس کے تحت تقریباً 3,500 کمپنیاں اور پروفیشنل انویسٹرز مخصوص شرائط کے ساتھ کرپٹو مارکیٹ میں داخل ہو سکیں گے۔ یہ تبدیلی اس لیے اہم ہے کیونکہ جنوبی کوریا میں کئی سالوں سے مقامی کمپنیاں کرپٹو ایکسچینجز کے ذریعے براہِ راست ورچوئل اثاثوں کی خرید و فروخت نہیں کر پا رہی تھیں۔ اصل مسئلہ بینکوں کے ریئل نیم اکاؤنٹس سے متعلق تھا، جس کی وجہ سے کمپنیوں کے لیے کرپٹو مارکیٹ میں داخل ہونا تقریباً ناممکن ہو گیا تھا۔ اب صورتحال بدلتی نظر آ رہی ہے۔ نئے روڈ میپ کے تحت تقریباً 2,500 لسٹڈ کمپنیاں اور تقریباً 1,000 پروفیشنل انویسٹرز کرپٹو سے منسلک بینک اکاؤنٹس کے لیے اہل ہو سکتے ہیں۔ تاہم، یہ ابھی بھی ایک کنٹرولڈ اور ریگولیٹڈ پائلٹ پروگرام ہے، یعنی ہر کمپنی کو کھلی چھوٹ نہیں دی جا رہی۔ صرف کرپٹو ہی نہیں، ٹوکنائزیشن بھی اہم ہے جنوبی کوریا کی حکمت عملی صرف Bitcoin یا دوسرے cryptocurrencies تک محدود نہیں۔ ملک Tokenized Securities کے لیے بھی قانونی بنیاد تیار کر رہا ہے۔ اس کا مطلب آسان الفاظ میں یہ ہے کہ روایتی مالیاتی اثاثوں کو بلاک چین پر ڈیجیٹل شکل میں جاری اور منتقل کیا جا سکے گا، جبکہ ان پر سیکیورٹیز کے قوانین بھی لاگو ہوں گے۔ یہ تبدیلی مستقبل میں بانڈز، حصص اور دیگر مالیاتی اثاثوں کی خرید و فروخت کو زیادہ ڈیجیٹل اور تیز بنانے میں مدد دے سکتی ہے۔ نو بینک ڈپازٹ ٹوکنز کی ٹیسٹنگ کر رہے ہیں جنوبی کوریا کا ایک اور اہم منصوبہ Project Hangang ہے۔ اس کے دوسرے مرحلے میں اب نو بینک ڈپازٹ ٹوکنز کی ٹیکنالوجی کو آزما رہے ہیں۔ ڈپازٹ ٹوکن کو سادہ الفاظ میں بینک ڈپازٹ کی ایک ڈیجیٹل شکل سمجھا جا سکتا ہے۔ اس کا مقصد عام cryptocurrency بنانا نہیں بلکہ موجودہ بینکنگ اور ادائیگی کے نظام کو بلاک چین ٹیکنالوجی کے ساتھ جوڑنا ہے۔ اس ٹیکنالوجی کو حکومتی ادائیگیوں، ڈیجیٹل واؤچرز، ٹوکنائزڈ اثاثوں کی سیٹلمنٹ اور حتیٰ کہ AI agents کی جانب سے خودکار ادائیگیوں کے لیے بھی آزمایا جا رہا ہے۔ کرپٹو مارکیٹ کے لیے اس کا کیا مطلب ہے؟ سب سے بڑا اثر شاید اعتماد کا ہو سکتا ہے۔ جب کمپنیاں، بینک اور مالیاتی ادارے کسی ملک کے ریگولیٹڈ ڈیجیٹل اثاثہ نظام میں شامل ہوتے ہیں تو مارکیٹ صرف ریٹیل ٹریڈرز تک محدود نہیں رہتی۔ اس سے custody، tokenization، payments اور institutional investment جیسے شعبے بھی ترقی کر سکتے ہیں۔ جنوبی کوریا کا یہ قدم اس بات کی علامت ہے کہ ملک کرپٹو کو صرف ایک speculative asset کے طور پر نہیں دیکھ رہا، بلکہ اسے مستقبل کے مالیاتی انفراسٹرکچر کا حصہ بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔ اگر یہ منصوبے کامیاب رہتے ہیں تو آنے والے سالوں میں جنوبی کوریا ایشیا کی ان مارکیٹس میں شامل ہو سکتا ہے جہاں crypto، blockchain اور traditional finance ایک ہی نظام میں زیادہ قریب سے کام کریں گے۔ #SICryptoNews #bitcoin #SouthKoreaCrypto

جنوبی کوریا کا کرپٹو کی طرف بڑا قدم: 3,500 کمپنیوں کو رسائی

جنوبی کوریا ایک بار پھر ڈیجیٹل فنانس کے میدان میں تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔ ملک نے ایک ایسے پروگرام پر پیش رفت کی ہے جس کے تحت تقریباً 3,500 کمپنیاں اور پروفیشنل انویسٹرز مخصوص شرائط کے ساتھ کرپٹو مارکیٹ میں داخل ہو سکیں گے۔
یہ تبدیلی اس لیے اہم ہے کیونکہ جنوبی کوریا میں کئی سالوں سے مقامی کمپنیاں کرپٹو ایکسچینجز کے ذریعے براہِ راست ورچوئل اثاثوں کی خرید و فروخت نہیں کر پا رہی تھیں۔ اصل مسئلہ بینکوں کے ریئل نیم اکاؤنٹس سے متعلق تھا، جس کی وجہ سے کمپنیوں کے لیے کرپٹو مارکیٹ میں داخل ہونا تقریباً ناممکن ہو گیا تھا۔
اب صورتحال بدلتی نظر آ رہی ہے۔
نئے روڈ میپ کے تحت تقریباً 2,500 لسٹڈ کمپنیاں اور تقریباً 1,000 پروفیشنل انویسٹرز کرپٹو سے منسلک بینک اکاؤنٹس کے لیے اہل ہو سکتے ہیں۔ تاہم، یہ ابھی بھی ایک کنٹرولڈ اور ریگولیٹڈ پائلٹ پروگرام ہے، یعنی ہر کمپنی کو کھلی چھوٹ نہیں دی جا رہی۔
صرف کرپٹو ہی نہیں، ٹوکنائزیشن بھی اہم ہے
جنوبی کوریا کی حکمت عملی صرف Bitcoin یا دوسرے cryptocurrencies تک محدود نہیں۔ ملک Tokenized Securities کے لیے بھی قانونی بنیاد تیار کر رہا ہے۔
اس کا مطلب آسان الفاظ میں یہ ہے کہ روایتی مالیاتی اثاثوں کو بلاک چین پر ڈیجیٹل شکل میں جاری اور منتقل کیا جا سکے گا، جبکہ ان پر سیکیورٹیز کے قوانین بھی لاگو ہوں گے۔
یہ تبدیلی مستقبل میں بانڈز، حصص اور دیگر مالیاتی اثاثوں کی خرید و فروخت کو زیادہ ڈیجیٹل اور تیز بنانے میں مدد دے سکتی ہے۔
نو بینک ڈپازٹ ٹوکنز کی ٹیسٹنگ کر رہے ہیں
جنوبی کوریا کا ایک اور اہم منصوبہ Project Hangang ہے۔ اس کے دوسرے مرحلے میں اب نو بینک ڈپازٹ ٹوکنز کی ٹیکنالوجی کو آزما رہے ہیں۔
ڈپازٹ ٹوکن کو سادہ الفاظ میں بینک ڈپازٹ کی ایک ڈیجیٹل شکل سمجھا جا سکتا ہے۔ اس کا مقصد عام cryptocurrency بنانا نہیں بلکہ موجودہ بینکنگ اور ادائیگی کے نظام کو بلاک چین ٹیکنالوجی کے ساتھ جوڑنا ہے۔
اس ٹیکنالوجی کو حکومتی ادائیگیوں، ڈیجیٹل واؤچرز، ٹوکنائزڈ اثاثوں کی سیٹلمنٹ اور حتیٰ کہ AI agents کی جانب سے خودکار ادائیگیوں کے لیے بھی آزمایا جا رہا ہے۔
کرپٹو مارکیٹ کے لیے اس کا کیا مطلب ہے؟
سب سے بڑا اثر شاید اعتماد کا ہو سکتا ہے۔
جب کمپنیاں، بینک اور مالیاتی ادارے کسی ملک کے ریگولیٹڈ ڈیجیٹل اثاثہ نظام میں شامل ہوتے ہیں تو مارکیٹ صرف ریٹیل ٹریڈرز تک محدود نہیں رہتی۔ اس سے custody، tokenization، payments اور institutional investment جیسے شعبے بھی ترقی کر سکتے ہیں۔
جنوبی کوریا کا یہ قدم اس بات کی علامت ہے کہ ملک کرپٹو کو صرف ایک speculative asset کے طور پر نہیں دیکھ رہا، بلکہ اسے مستقبل کے مالیاتی انفراسٹرکچر کا حصہ بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔
اگر یہ منصوبے کامیاب رہتے ہیں تو آنے والے سالوں میں جنوبی کوریا ایشیا کی ان مارکیٹس میں شامل ہو سکتا ہے جہاں crypto، blockchain اور traditional finance ایک ہی نظام میں زیادہ قریب سے کام کریں گے۔
#SICryptoNews #bitcoin #SouthKoreaCrypto
Статья
پاکستان Stablecoins کے ذریعے سالانہ 400 ملین ڈالر بچا سکتا ہےپاکستان میں Stablecoins کو Remittances یعنی بیرونِ ملک سے آنے والی رقوم کی منتقلی کے لیے استعمال کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔ مقصد صرف Crypto کو فروغ دینا نہیں، بلکہ رقم کی منتقلی کو سستا، تیز اور زیادہ شفاف بنانا ہے۔ پاکستان ورچوئل ایسٹس ریگولیٹری اتھارٹی (PVARA) کے چیئرمین بلال بن ثاقب کے مطابق، پاکستان کو ہر سال تقریباً 40 ارب ڈالر کی Remittances موصول ہوتی ہیں۔ اگر Stablecoins کے ذریعے رقم بھیجنے کی لاگت میں صرف ایک فیصد کمی آ جائے تو پاکستان تقریباً 400 ملین ڈالر سالانہ بچا سکتا ہے۔ یہ بات سمجھنے کے لیے ایک سادہ مثال کافی ہے۔ بیرونِ ملک مقیم پاکستانی جب اپنے گھر والوں کو رقم بھیجتے ہیں تو اس رقم کو ایک ملک سے دوسرے ملک منتقل کرنے میں مختلف فیس اور دیگر اخراجات شامل ہو سکتے ہیں۔ Stablecoins Blockchain کے ذریعے ایک متبادل راستہ فراہم کر سکتے ہیں۔ لیکن پاکستان کا منصوبہ صرف Remittances تک محدود نہیں۔ حکومت Cross-Border Payments، Digital Exports، Trade Finance اور Tokenisation جیسے شعبوں میں بھی Virtual Assets کے استعمال کے امکانات دیکھ رہی ہے۔ خاص طور پر Freelancers، Software Developers، Designers اور دوسرے Digital Workers کے لیے یہ تبدیلی اہم ہو سکتی ہے۔ اگر وہ بیرونِ ملک سے اپنی Payments زیادہ آسانی اور کم لاگت کے ساتھ وصول کر سکیں تو پاکستان کی Digital Economy کو فائدہ پہنچ سکتا ہے۔ پاکستان پہلے ہی Virtual Asset sector کو ایک باقاعدہ Regulatory Framework میں لانے کی کوشش کر رہا ہے۔ اس کا مقصد غیر رسمی سرگرمیوں کو ایک منظم نظام میں لانا، Licensed Operators کے ذریعے مارکیٹ کو بہتر بنانا اور Anti-Money Laundering قوانین پر عمل درآمد کو مضبوط کرنا ہے۔ تاہم اصل کامیابی اس وقت ہوگی جب یہ ٹیکنالوجی عام لوگوں اور کاروبار کے لیے واقعی فائدہ مند ثابت ہو۔ اگر Stablecoins Remittances کی لاگت کم کرنے، بین الاقوامی Payments کو تیز کرنے اور Digital Workers کے لیے Payments آسان بنانے میں کامیاب ہوتے ہیں، تو یہ پاکستان کی معیشت کے لیے ایک اہم قدم ہو سکتا ہے۔ 400 ملین ڈالر کی ممکنہ بچت صرف ایک Crypto Story نہیں، بلکہ پاکستان کے لیے سستی اور جدید Digital Payments کی طرف ایک ممکنہ راستہ ہے۔ #SICryptoNews #pakistanicrypto #Stablecoins

پاکستان Stablecoins کے ذریعے سالانہ 400 ملین ڈالر بچا سکتا ہے

پاکستان میں Stablecoins کو Remittances یعنی بیرونِ ملک سے آنے والی رقوم کی منتقلی کے لیے استعمال کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔ مقصد صرف Crypto کو فروغ دینا نہیں، بلکہ رقم کی منتقلی کو سستا، تیز اور زیادہ شفاف بنانا ہے۔
پاکستان ورچوئل ایسٹس ریگولیٹری اتھارٹی (PVARA) کے چیئرمین بلال بن ثاقب کے مطابق، پاکستان کو ہر سال تقریباً 40 ارب ڈالر کی Remittances موصول ہوتی ہیں۔
اگر Stablecoins کے ذریعے رقم بھیجنے کی لاگت میں صرف ایک فیصد کمی آ جائے تو پاکستان تقریباً 400 ملین ڈالر سالانہ بچا سکتا ہے۔
یہ بات سمجھنے کے لیے ایک سادہ مثال کافی ہے۔ بیرونِ ملک مقیم پاکستانی جب اپنے گھر والوں کو رقم بھیجتے ہیں تو اس رقم کو ایک ملک سے دوسرے ملک منتقل کرنے میں مختلف فیس اور دیگر اخراجات شامل ہو سکتے ہیں۔ Stablecoins Blockchain کے ذریعے ایک متبادل راستہ فراہم کر سکتے ہیں۔
لیکن پاکستان کا منصوبہ صرف Remittances تک محدود نہیں۔
حکومت Cross-Border Payments، Digital Exports، Trade Finance اور Tokenisation جیسے شعبوں میں بھی Virtual Assets کے استعمال کے امکانات دیکھ رہی ہے۔
خاص طور پر Freelancers، Software Developers، Designers اور دوسرے Digital Workers کے لیے یہ تبدیلی اہم ہو سکتی ہے۔ اگر وہ بیرونِ ملک سے اپنی Payments زیادہ آسانی اور کم لاگت کے ساتھ وصول کر سکیں تو پاکستان کی Digital Economy کو فائدہ پہنچ سکتا ہے۔
پاکستان پہلے ہی Virtual Asset sector کو ایک باقاعدہ Regulatory Framework میں لانے کی کوشش کر رہا ہے۔ اس کا مقصد غیر رسمی سرگرمیوں کو ایک منظم نظام میں لانا، Licensed Operators کے ذریعے مارکیٹ کو بہتر بنانا اور Anti-Money Laundering قوانین پر عمل درآمد کو مضبوط کرنا ہے۔
تاہم اصل کامیابی اس وقت ہوگی جب یہ ٹیکنالوجی عام لوگوں اور کاروبار کے لیے واقعی فائدہ مند ثابت ہو۔
اگر Stablecoins Remittances کی لاگت کم کرنے، بین الاقوامی Payments کو تیز کرنے اور Digital Workers کے لیے Payments آسان بنانے میں کامیاب ہوتے ہیں، تو یہ پاکستان کی معیشت کے لیے ایک اہم قدم ہو سکتا ہے۔
400 ملین ڈالر کی ممکنہ بچت صرف ایک Crypto Story نہیں، بلکہ پاکستان کے لیے سستی اور جدید Digital Payments کی طرف ایک ممکنہ راستہ ہے۔
#SICryptoNews #pakistanicrypto #Stablecoins
Статья
X کی Stablecoin Payments پر نظر: Creators کو USDC میں ادائیگی؟سوشل میڈیا پلیٹ فارم X اپنے creators کے لیے payments کے نظام میں ایک بڑی تبدیلی پر غور کر رہا ہے۔ رپورٹس کے مطابق X، content creators کو royalties اور rewards ادا کرنے کے لیے stablecoins، خاص طور پر USDC، استعمال کرنے پر بات چیت کر رہا ہے۔ اگر یہ منصوبہ حقیقت بن جاتا ہے تو creators کے لیے payments کا طریقہ کافی بدل سکتا ہے۔ Stablecoins چونکہ امریکی ڈالر کے ساتھ منسلک ہوتے ہیں، اس لیے ان کی قیمت عام cryptocurrencies کے مقابلے میں زیادہ مستحکم رہنے کی کوشش کرتی ہے۔ اسی وجہ سے انہیں تیز اور کم لاگت payments کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ یہ خبر X کے creator rewards system میں تبدیلی کے ساتھ سامنے آئی ہے۔ کمپنی اپنے پرانے Revenue Sharing Program میں نئی enrollment روک رہی ہے اور اس کی جگہ Original Content Rewards Program متعارف کرا رہی ہے۔ نئے نظام میں creators کو ان کے original content سے حاصل ہونے والے qualified impressions کی بنیاد پر rewards دیے جائیں گے۔ اگر مستقبل میں یہ rewards USDC کی شکل میں ملنے لگیں تو دنیا کے مختلف ممالک میں موجود creators کے لیے یہ ایک دلچسپ تبدیلی ہو سکتی ہے۔ خاص طور پر cross-border payments میں traditional banking کے مقابلے میں stablecoins تیز اور آسان راستہ فراہم کر سکتے ہیں۔ یہ قدم X کے وسیع financial ambitions سے بھی جڑا ہوا ہے۔ Elon Musk پہلے ہی X کو صرف ایک social media platform کے بجائے ایک “everything app” بنانے کا تصور پیش کر چکے ہیں۔ X Money بھی اسی سمت میں ایک اہم قدم ہے، اگرچہ اس وقت اس میں crypto یا stablecoin support شامل نہیں۔ فی الحال X کی stablecoin payments سے متعلق بات چیت حتمی فیصلے میں تبدیل نہیں ہوئی۔ لیکن اگر X واقعی USDC کے ذریعے creator payments شروع کرتا ہے تو یہ social media، digital payments اور crypto کے درمیان ایک اہم bridge ثابت ہو سکتا ہے۔ اہم بات: یہ ابھی ایک زیرِ غور منصوبہ ہے، اس لیے اسے X کی حتمی پالیسی یا confirmed payment method نہیں سمجھنا چاہیے۔ #SICryptoNews #digitalpayments #Stablecoins

X کی Stablecoin Payments پر نظر: Creators کو USDC میں ادائیگی؟

سوشل میڈیا پلیٹ فارم X اپنے creators کے لیے payments کے نظام میں ایک بڑی تبدیلی پر غور کر رہا ہے۔ رپورٹس کے مطابق X، content creators کو royalties اور rewards ادا کرنے کے لیے stablecoins، خاص طور پر USDC، استعمال کرنے پر بات چیت کر رہا ہے۔
اگر یہ منصوبہ حقیقت بن جاتا ہے تو creators کے لیے payments کا طریقہ کافی بدل سکتا ہے۔ Stablecoins چونکہ امریکی ڈالر کے ساتھ منسلک ہوتے ہیں، اس لیے ان کی قیمت عام cryptocurrencies کے مقابلے میں زیادہ مستحکم رہنے کی کوشش کرتی ہے۔ اسی وجہ سے انہیں تیز اور کم لاگت payments کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔
یہ خبر X کے creator rewards system میں تبدیلی کے ساتھ سامنے آئی ہے۔ کمپنی اپنے پرانے Revenue Sharing Program میں نئی enrollment روک رہی ہے اور اس کی جگہ Original Content Rewards Program متعارف کرا رہی ہے۔ نئے نظام میں creators کو ان کے original content سے حاصل ہونے والے qualified impressions کی بنیاد پر rewards دیے جائیں گے۔
اگر مستقبل میں یہ rewards USDC کی شکل میں ملنے لگیں تو دنیا کے مختلف ممالک میں موجود creators کے لیے یہ ایک دلچسپ تبدیلی ہو سکتی ہے۔ خاص طور پر cross-border payments میں traditional banking کے مقابلے میں stablecoins تیز اور آسان راستہ فراہم کر سکتے ہیں۔
یہ قدم X کے وسیع financial ambitions سے بھی جڑا ہوا ہے۔ Elon Musk پہلے ہی X کو صرف ایک social media platform کے بجائے ایک “everything app” بنانے کا تصور پیش کر چکے ہیں۔ X Money بھی اسی سمت میں ایک اہم قدم ہے، اگرچہ اس وقت اس میں crypto یا stablecoin support شامل نہیں۔
فی الحال X کی stablecoin payments سے متعلق بات چیت حتمی فیصلے میں تبدیل نہیں ہوئی۔ لیکن اگر X واقعی USDC کے ذریعے creator payments شروع کرتا ہے تو یہ social media، digital payments اور crypto کے درمیان ایک اہم bridge ثابت ہو سکتا ہے۔
اہم بات: یہ ابھی ایک زیرِ غور منصوبہ ہے، اس لیے اسے X کی حتمی پالیسی یا confirmed payment method نہیں سمجھنا چاہیے۔
#SICryptoNews #digitalpayments #Stablecoins
Статья
$49 ملین کمانے والا ٹریڈر، 12 سیکنڈ میں $24 ملین ہار گیاکرپٹو مارکیٹ میں کبھی کبھی صرف چند سیکنڈز پوری کہانی بدل دیتے ہیں۔ اس بار ایک تجربہ کار شارٹ سیلر کے ساتھ کچھ ایسا ہی ہوا، جس نے پہلے کرپٹو مارکیٹ میں تقریباً 49 ملین ڈالر کا منافع کمایا، لیکن Ethereum کی ایک شارٹ پوزیشن نے اس کے منافع کا بڑا حصہ صرف 12 سیکنڈز میں ختم کر دیا۔ Hyperliquid پر “pension-usdt.eth” کے نام سے موجود والٹ تقریباً دو ماہ سے Ethereum کو شارٹ کر رہا تھا۔ اس کی پوزیشن تقریباً 50,000 ETH کی تھی۔ اس دوران ٹریڈر نے مارکیٹ میں کئی کامیاب شارٹ ٹریڈز کیں اور خاصا منافع بنایا۔ لیکن مارکیٹ ہمیشہ ایک ہی سمت میں نہیں چلتی۔ Ethereum کی قیمت میں اچانک تیزی آئی اور شارٹ پوزیشن پر نقصان بڑھتا گیا۔ آخرکار Hyperliquid نے اس پوزیشن کو زبردستی لیکویڈیٹ کر دیا۔ سب سے حیران کن بات یہ ہے کہ یہ پورا عمل صرف 12 سیکنڈز میں مکمل ہوا اور ٹریڈر کو تقریباً 24 ملین ڈالر کا نقصان برداشت کرنا پڑا۔ لیکویڈیشن کے دوران ہزاروں ETH مارکیٹ میں زبردستی خریدے گئے۔ جب کسی بڑی شارٹ پوزیشن کو بند کرنے کے لیے خریداری ہوتی ہے تو یہ قیمت کو مزید اوپر لے جا سکتی ہے۔ یہی کچھ یہاں بھی ہوا۔ ان 12 سیکنڈز میں Ether کی قیمت تقریباً 43 ڈالر بڑھ گئی۔ یہ واقعہ صرف ایک ٹریڈر کے نقصان کی کہانی نہیں بلکہ leveraged crypto trading کے خطرے کی واضح مثال بھی ہے۔ جب مارکیٹ آپ کے حق میں ہو تو leverage منافع کو تیزی سے بڑھا سکتا ہے، لیکن سمت تبدیل ہوتے ہی یہی leverage نقصان کو بھی کئی گنا کر دیتا ہے۔ اس دن مجموعی طور پر کرپٹو مارکیٹ میں تقریباً 2.74 ارب ڈالر کی short positions liquidate ہوئیں۔ یعنی صرف ایک ٹریڈر نہیں، بلکہ بڑی تعداد میں bearish traders کو اچانک تیزی نے متاثر کیا۔ اس واقعے سے سب سے اہم سبق یہی ہے کہ کرپٹو مارکیٹ میں کوئی بھی trade یقینی نہیں ہوتی۔ چاہے کسی ٹریڈر کا پچھلا ریکارڈ کتنا ہی اچھا کیوں نہ ہو، ایک غلط position، زیادہ leverage اور اچانک price move چند سیکنڈز میں بڑے نقصان کا سبب بن سکتے ہیں۔ کرپٹو میں منافع اہم ہے، لیکن risk management اس سے بھی زیادہ اہم ہے۔ #SICryptoNews #CryptoTrading. #bitcoin

$49 ملین کمانے والا ٹریڈر، 12 سیکنڈ میں $24 ملین ہار گیا

کرپٹو مارکیٹ میں کبھی کبھی صرف چند سیکنڈز پوری کہانی بدل دیتے ہیں۔ اس بار ایک تجربہ کار شارٹ سیلر کے ساتھ کچھ ایسا ہی ہوا، جس نے پہلے کرپٹو مارکیٹ میں تقریباً 49 ملین ڈالر کا منافع کمایا، لیکن Ethereum کی ایک شارٹ پوزیشن نے اس کے منافع کا بڑا حصہ صرف 12 سیکنڈز میں ختم کر دیا۔
Hyperliquid پر “pension-usdt.eth” کے نام سے موجود والٹ تقریباً دو ماہ سے Ethereum کو شارٹ کر رہا تھا۔ اس کی پوزیشن تقریباً 50,000 ETH کی تھی۔ اس دوران ٹریڈر نے مارکیٹ میں کئی کامیاب شارٹ ٹریڈز کیں اور خاصا منافع بنایا۔
لیکن مارکیٹ ہمیشہ ایک ہی سمت میں نہیں چلتی۔
Ethereum کی قیمت میں اچانک تیزی آئی اور شارٹ پوزیشن پر نقصان بڑھتا گیا۔ آخرکار Hyperliquid نے اس پوزیشن کو زبردستی لیکویڈیٹ کر دیا۔ سب سے حیران کن بات یہ ہے کہ یہ پورا عمل صرف 12 سیکنڈز میں مکمل ہوا اور ٹریڈر کو تقریباً 24 ملین ڈالر کا نقصان برداشت کرنا پڑا۔
لیکویڈیشن کے دوران ہزاروں ETH مارکیٹ میں زبردستی خریدے گئے۔ جب کسی بڑی شارٹ پوزیشن کو بند کرنے کے لیے خریداری ہوتی ہے تو یہ قیمت کو مزید اوپر لے جا سکتی ہے۔ یہی کچھ یہاں بھی ہوا۔ ان 12 سیکنڈز میں Ether کی قیمت تقریباً 43 ڈالر بڑھ گئی۔
یہ واقعہ صرف ایک ٹریڈر کے نقصان کی کہانی نہیں بلکہ leveraged crypto trading کے خطرے کی واضح مثال بھی ہے۔ جب مارکیٹ آپ کے حق میں ہو تو leverage منافع کو تیزی سے بڑھا سکتا ہے، لیکن سمت تبدیل ہوتے ہی یہی leverage نقصان کو بھی کئی گنا کر دیتا ہے۔
اس دن مجموعی طور پر کرپٹو مارکیٹ میں تقریباً 2.74 ارب ڈالر کی short positions liquidate ہوئیں۔ یعنی صرف ایک ٹریڈر نہیں، بلکہ بڑی تعداد میں bearish traders کو اچانک تیزی نے متاثر کیا۔
اس واقعے سے سب سے اہم سبق یہی ہے کہ کرپٹو مارکیٹ میں کوئی بھی trade یقینی نہیں ہوتی۔ چاہے کسی ٹریڈر کا پچھلا ریکارڈ کتنا ہی اچھا کیوں نہ ہو، ایک غلط position، زیادہ leverage اور اچانک price move چند سیکنڈز میں بڑے نقصان کا سبب بن سکتے ہیں۔
کرپٹو میں منافع اہم ہے، لیکن risk management اس سے بھی زیادہ اہم ہے۔
#SICryptoNews #CryptoTrading. #bitcoin
Статья
🔥 ٹرمپ مزید Bitcoin خریدیں گے؟ امریکہ میں Crypto کا بڑا فیصلہ!امریکی کرپٹو مارکیٹ ایک بار پھر خبروں میں ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سینیٹ پر زور دیا ہے کہ وہ Crypto CLARITY Act کو منظور کرے۔ اسی موقع پر ٹرمپ نے یہ بھی اشارہ دیا کہ اگر ریگولیٹرز مناسب تجاویز دیتے ہیں تو امریکی حکومت مستقبل میں مزید Bitcoin خریدنے پر غور کر سکتی ہے۔ وائٹ ہاؤس میں کرپٹو انڈسٹری سے وابستہ اہم افراد سے ملاقات کے بعد ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ کو Bitcoin، crypto اور نئی ٹیکنالوجی کے میدان میں اپنی برتری برقرار رکھنے کے لیے واضح قوانین کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق CLARITY Act امریکہ کو چین اور دوسرے ممالک سے آگے رکھنے میں مدد دے سکتا ہے۔ لیکن آخر یہ CLARITY Act ہے کیا؟ سادہ الفاظ میں، یہ بل امریکی کرپٹو مارکیٹ کے لیے ایک واضح regulatory framework بنانے کی کوشش ہے۔ اس کا مقصد یہ طے کرنا ہے کہ مختلف digital assets کو securities، commodities یا payment stablecoins میں کس طرح تقسیم کیا جائے۔ ابھی امریکہ میں کرپٹو کمپنیوں اور ریگولیٹرز کے درمیان کئی معاملات پر غیر یقینی صورتحال موجود ہے، جس کی وجہ سے کاروبار اور سرمایہ کار دونوں محتاط رہتے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ CLARITY Act پہلے ہی House of Representatives سے گزر چکا ہے، لیکن Senate میں کافی عرصے سے اس پر اختلافات جاری ہیں۔ اب اس بل پر ووٹنگ ستمبر میں متوقع ہے۔ Bitcoin کے حوالے سے ٹرمپ کا بیان بھی مارکیٹ کے لیے اہم ہے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا امریکی حکومت مزید Bitcoin جمع کرے گی، تو انہوں نے کہا کہ اس معاملے پر بات ہوئی ہے اور اگر متعلقہ حکام سفارشات پیش کرتے ہیں تو وہ انہیں سنیں گے۔ امریکہ پہلے ہی Strategic Bitcoin Reserve قائم کر چکا ہے، جس میں زیادہ تر Bitcoin مختلف قانونی کارروائیوں کے دوران ضبط کیے گئے اثاثوں سے آیا ہے۔ تاہم، موجودہ پالیسی حکومت کو مارکیٹ سے لازمی طور پر نیا Bitcoin خریدنے کا وعدہ نہیں کرتی۔ اگر CLARITY Act منظور ہو جاتا ہے تو اس کا سب سے بڑا فائدہ regulatory clarity ہو سکتا ہے۔ واضح قوانین سے بڑے اداروں اور سرمایہ کاروں کا اعتماد بہتر ہو سکتا ہے، جبکہ کرپٹو کمپنیوں کے لیے امریکہ میں کاروبار کرنا نسبتاً آسان ہو سکتا ہے۔ لیکن اس خبر کو Bitcoin کی قیمت میں فوری اضافے کی ضمانت سمجھنا درست نہیں ہوگا۔ قانون سازی، ریگولیٹری فیصلے اور مارکیٹ کا ردعمل الگ الگ چیزیں ہیں۔ فی الحال سب کی نظریں ستمبر کی Senate vote پر ہیں۔ اگر بل آگے بڑھتا ہے اور Bitcoin خریدنے کے حوالے سے بھی کوئی عملی قدم سامنے آتا ہے، تو یہ امریکی کرپٹو پالیسی میں ایک اہم تبدیلی ثابت ہو سکتی ہے۔ #SICryptoNews #CLARITYAct #TRUMP

🔥 ٹرمپ مزید Bitcoin خریدیں گے؟ امریکہ میں Crypto کا بڑا فیصلہ!

امریکی کرپٹو مارکیٹ ایک بار پھر خبروں میں ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سینیٹ پر زور دیا ہے کہ وہ Crypto CLARITY Act کو منظور کرے۔ اسی موقع پر ٹرمپ نے یہ بھی اشارہ دیا کہ اگر ریگولیٹرز مناسب تجاویز دیتے ہیں تو امریکی حکومت مستقبل میں مزید Bitcoin خریدنے پر غور کر سکتی ہے۔
وائٹ ہاؤس میں کرپٹو انڈسٹری سے وابستہ اہم افراد سے ملاقات کے بعد ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ کو Bitcoin، crypto اور نئی ٹیکنالوجی کے میدان میں اپنی برتری برقرار رکھنے کے لیے واضح قوانین کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق CLARITY Act امریکہ کو چین اور دوسرے ممالک سے آگے رکھنے میں مدد دے سکتا ہے۔
لیکن آخر یہ CLARITY Act ہے کیا؟
سادہ الفاظ میں، یہ بل امریکی کرپٹو مارکیٹ کے لیے ایک واضح regulatory framework بنانے کی کوشش ہے۔ اس کا مقصد یہ طے کرنا ہے کہ مختلف digital assets کو securities، commodities یا payment stablecoins میں کس طرح تقسیم کیا جائے۔ ابھی امریکہ میں کرپٹو کمپنیوں اور ریگولیٹرز کے درمیان کئی معاملات پر غیر یقینی صورتحال موجود ہے، جس کی وجہ سے کاروبار اور سرمایہ کار دونوں محتاط رہتے ہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ CLARITY Act پہلے ہی House of Representatives سے گزر چکا ہے، لیکن Senate میں کافی عرصے سے اس پر اختلافات جاری ہیں۔ اب اس بل پر ووٹنگ ستمبر میں متوقع ہے۔
Bitcoin کے حوالے سے ٹرمپ کا بیان بھی مارکیٹ کے لیے اہم ہے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا امریکی حکومت مزید Bitcoin جمع کرے گی، تو انہوں نے کہا کہ اس معاملے پر بات ہوئی ہے اور اگر متعلقہ حکام سفارشات پیش کرتے ہیں تو وہ انہیں سنیں گے۔
امریکہ پہلے ہی Strategic Bitcoin Reserve قائم کر چکا ہے، جس میں زیادہ تر Bitcoin مختلف قانونی کارروائیوں کے دوران ضبط کیے گئے اثاثوں سے آیا ہے۔ تاہم، موجودہ پالیسی حکومت کو مارکیٹ سے لازمی طور پر نیا Bitcoin خریدنے کا وعدہ نہیں کرتی۔
اگر CLARITY Act منظور ہو جاتا ہے تو اس کا سب سے بڑا فائدہ regulatory clarity ہو سکتا ہے۔ واضح قوانین سے بڑے اداروں اور سرمایہ کاروں کا اعتماد بہتر ہو سکتا ہے، جبکہ کرپٹو کمپنیوں کے لیے امریکہ میں کاروبار کرنا نسبتاً آسان ہو سکتا ہے۔
لیکن اس خبر کو Bitcoin کی قیمت میں فوری اضافے کی ضمانت سمجھنا درست نہیں ہوگا۔ قانون سازی، ریگولیٹری فیصلے اور مارکیٹ کا ردعمل الگ الگ چیزیں ہیں۔
فی الحال سب کی نظریں ستمبر کی Senate vote پر ہیں۔ اگر بل آگے بڑھتا ہے اور Bitcoin خریدنے کے حوالے سے بھی کوئی عملی قدم سامنے آتا ہے، تو یہ امریکی کرپٹو پالیسی میں ایک اہم تبدیلی ثابت ہو سکتی ہے۔
#SICryptoNews #CLARITYAct #TRUMP
$1.2 trillion has been added to precious metals and crypto in the last 3 hours. Gold up +3.08%, adding $934 billion. Silver up +3.86%, adding $136 billion. Bitcoin up +8.14%, adding $103 billion. Ethereum up +9.66%, adding $22 billion. This comes as the Treasury announced it will double its bond buybacks, pushing the 30 year yield down from a 19 year high to 5.187%. When yields fall, assets that pay no interest look better. #SICryptoNews #FOMCWatch $BTC {future}(BTCUSDT) $XAUT {future}(XAUTUSDT) $LINK {future}(LINKUSDT)
$1.2 trillion has been added to precious metals and crypto in the last 3 hours.

Gold up +3.08%, adding $934 billion.
Silver up +3.86%, adding $136 billion.
Bitcoin up +8.14%, adding $103 billion.
Ethereum up +9.66%, adding $22 billion.

This comes as the Treasury announced it will double its bond buybacks, pushing the 30 year yield down from a 19 year high to 5.187%.

When yields fall, assets that pay no interest look better.
#SICryptoNews #FOMCWatch $BTC
$XAUT
$LINK
🚨 BLOODBATH in Asian Markets Over $650 BILLION has been wiped out from Asian stocks as semiconductor and tech stocks sell off across Asian markets. 🇰🇷 South Korea's KOSPI -5.5%, wiping out ₩279.7T ($186B). 🇯🇵 Japan's NIKKEI -3.1%, wiping out ¥36.7T ($232B). 🇨🇳 China's SSE -2%, wiping out ¥1.29T ($180B). 🇹🇼 Taiwan's stock market -1.5%, wiping out NT$1.80T ($55B). #SICryptoNews #Asianmarket $BTC {future}(BTCUSDT) $LINK {future}(LINKUSDT) $NVDA.US {stock_us}(NVDA.US)
🚨 BLOODBATH in Asian Markets

Over $650 BILLION has been wiped out from Asian stocks as semiconductor and tech stocks sell off across Asian markets.

🇰🇷 South Korea's KOSPI -5.5%, wiping out ₩279.7T ($186B).

🇯🇵 Japan's NIKKEI -3.1%, wiping out ¥36.7T ($232B).

🇨🇳 China's SSE -2%, wiping out ¥1.29T ($180B).

🇹🇼 Taiwan's stock market -1.5%, wiping out NT$1.80T ($55B).
#SICryptoNews #Asianmarket $BTC
$LINK
$NVDA.US
BTC+1,68%
LINK+3,13%
NVDAUS-0,21%
Статья
Meme Coins کیسے بنتے ہیں؟ Bonding Curve کے پیچھے چھپی اصل کہانیMeme coins کو دیکھ کر اکثر یہی لگتا ہے کہ کوئی funny تصویر یا viral trend آیا، لوگوں نے coin خریدنا شروع کیا اور قیمت اچانک اوپر چلی گئی۔ لیکن حقیقت اس سے کہیں زیادہ technical ہے۔ آج کل بہت سے meme coins ایسے platforms پر launch ہوتے ہیں جہاں bonding curve قیمت طے کرتی ہے۔ آسان الفاظ میں، جتنے زیادہ لوگ token خریدتے جاتے ہیں، قیمت اتنی ہی بڑھتی جاتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ شروع میں خریدنے والوں کو کم قیمت مل سکتی ہے، جبکہ بعد میں آنے والوں کو کہیں زیادہ قیمت ادا کرنا پڑتی ہے۔ Pump.fun نے اس process کو کافی آسان بنا دیا ہے۔ ایک عام Pump.fun token کی supply ایک billion tokens ہوتی ہے، جس میں تقریباً 800 million tokens bonding curve کے ذریعے فروخت کے لیے رکھے جاتے ہیں۔ جب curve میں تقریباً 85 SOL جمع ہو جائیں تو token graduation کے مرحلے میں داخل ہو سکتا ہے اور decentralized exchange پر منتقل ہو جاتا ہے۔ لیکن یہاں ایک اہم بات ہے: ہر token graduation تک نہیں پہنچتا۔ فراہم کردہ data کے مطابق دو فیصد سے بھی کم tokens graduation حاصل کرتے ہیں۔ یعنی بہت بڑی تعداد اسی ابتدائی trading phase میں ختم ہو جاتی ہے۔ اصل خطرہ late buyers کے لیے ہے۔ اگر کسی نے token بہت شروع میں خریدا تو اس کی entry price انتہائی کم ہو سکتی ہے۔ لیکن جب hype بڑھتی ہے اور نئے لوگ خریدنے آتے ہیں تو price کافی اوپر پہنچ چکی ہوتی ہے۔ پھر اگر بڑے holders یا insiders اپنی holdings sell کرنا شروع کر دیں تو price تیزی سے نیچے جا سکتی ہے۔ اسی لیے bonding curve کو صرف ایک pricing system سمجھنا کافی نہیں۔ یہ دراصل market میں value کی distribution کو بھی متاثر کرتی ہے۔ Early buyers کو فائدہ ہو سکتا ہے، جبکہ late buyers زیادہ risk لے کر market میں داخل ہوتے ہیں۔ Meme coin خریدنے سے پہلے صرف اس کا نام، logo یا social media hype نہ دیکھیں۔ Top holders، creator wallet، bundled transactions، curve کی position اور liquidity ضرور چیک کریں۔ Meme coins میں بڑا profit ممکن ہے، لیکن اسی کے ساتھ چند منٹوں میں بڑا نقصان بھی ہو سکتا ہے۔ یہاں سب سے اہم چیز hype نہیں، بلکہ risk کو سمجھنا ہے۔ #SICryptoNews #memecoin $BROCCOLI714 {future}(BROCCOLI714USDT) $PEPE {spot}(PEPEUSDT) $DOGE {spot}(DOGEUSDT)

Meme Coins کیسے بنتے ہیں؟ Bonding Curve کے پیچھے چھپی اصل کہانی

Meme coins کو دیکھ کر اکثر یہی لگتا ہے کہ کوئی funny تصویر یا viral trend آیا، لوگوں نے coin خریدنا شروع کیا اور قیمت اچانک اوپر چلی گئی۔ لیکن حقیقت اس سے کہیں زیادہ technical ہے۔
آج کل بہت سے meme coins ایسے platforms پر launch ہوتے ہیں جہاں bonding curve قیمت طے کرتی ہے۔ آسان الفاظ میں، جتنے زیادہ لوگ token خریدتے جاتے ہیں، قیمت اتنی ہی بڑھتی جاتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ شروع میں خریدنے والوں کو کم قیمت مل سکتی ہے، جبکہ بعد میں آنے والوں کو کہیں زیادہ قیمت ادا کرنا پڑتی ہے۔
Pump.fun نے اس process کو کافی آسان بنا دیا ہے۔ ایک عام Pump.fun token کی supply ایک billion tokens ہوتی ہے، جس میں تقریباً 800 million tokens bonding curve کے ذریعے فروخت کے لیے رکھے جاتے ہیں۔ جب curve میں تقریباً 85 SOL جمع ہو جائیں تو token graduation کے مرحلے میں داخل ہو سکتا ہے اور decentralized exchange پر منتقل ہو جاتا ہے۔
لیکن یہاں ایک اہم بات ہے: ہر token graduation تک نہیں پہنچتا۔ فراہم کردہ data کے مطابق دو فیصد سے بھی کم tokens graduation حاصل کرتے ہیں۔ یعنی بہت بڑی تعداد اسی ابتدائی trading phase میں ختم ہو جاتی ہے۔
اصل خطرہ late buyers کے لیے ہے۔ اگر کسی نے token بہت شروع میں خریدا تو اس کی entry price انتہائی کم ہو سکتی ہے۔ لیکن جب hype بڑھتی ہے اور نئے لوگ خریدنے آتے ہیں تو price کافی اوپر پہنچ چکی ہوتی ہے۔ پھر اگر بڑے holders یا insiders اپنی holdings sell کرنا شروع کر دیں تو price تیزی سے نیچے جا سکتی ہے۔
اسی لیے bonding curve کو صرف ایک pricing system سمجھنا کافی نہیں۔ یہ دراصل market میں value کی distribution کو بھی متاثر کرتی ہے۔ Early buyers کو فائدہ ہو سکتا ہے، جبکہ late buyers زیادہ risk لے کر market میں داخل ہوتے ہیں۔
Meme coin خریدنے سے پہلے صرف اس کا نام، logo یا social media hype نہ دیکھیں۔ Top holders، creator wallet، bundled transactions، curve کی position اور liquidity ضرور چیک کریں۔
Meme coins میں بڑا profit ممکن ہے، لیکن اسی کے ساتھ چند منٹوں میں بڑا نقصان بھی ہو سکتا ہے۔ یہاں سب سے اہم چیز hype نہیں، بلکہ risk
کو سمجھنا ہے۔
#SICryptoNews #memecoin $BROCCOLI714
$PEPE
$DOGE
Войдите, чтобы посмотреть больше материала
Присоединяйтесь к пользователям криптовалют по всему миру на Binance Square
⚡️ Получайте новейшую и полезную информацию о криптоактивах.
💬 Нам доверяет крупнейшая в мире криптобиржа.
👍 Получите достоверные аналитические данные от верифицированных создателей контента.
Эл. почта/номер телефона
Структура веб-страницы
Настройки cookie
Правила и условия платформы