🚨 Trezor ڈیٹا لیک: CZ نے Software Wallets کو بہتر کیوں کہا؟
کرپٹو کی دنیا میں Hardware Wallets کو عام طور پر زیادہ محفوظ سمجھا جاتا ہے، لیکن حالیہ Trezor ڈیٹا بریچ نے اس سوچ کے ایک مختلف پہلو کو سامنے لا دیا ہے۔ 13 اگست کو Trezor نے بتایا کہ اس کے شپنگ پارٹنر ShipMonk کے سسٹم میں غیر مجاز رسائی ہوئی، جس کے نتیجے میں تقریباً 13,700 صارفین کی ذاتی معلومات متاثر ہوئیں۔ ان معلومات میں نام، فون نمبرز اور گھر کے پتے شامل تھے۔ یہاں اصل مسئلہ صرف ڈیٹا لیک نہیں بلکہ اس کے ممکنہ حقیقی دنیا کے خطرات ہیں۔ اگر کسی شخص کا نام اور گھر کا پتہ اس بات کے ساتھ جڑ جائے کہ وہ کرپٹو ہولڈر ہے، تو وہ phishing، social engineering یا حتیٰ کہ جسمانی حملے کا ہدف بن سکتا ہے۔ Binance کے بانی CZ نے اسی پہلو کی طرف توجہ دلائی۔ ان کے مطابق Software Wallets کا ایک فائدہ یہ ہے کہ انہیں خرید کر گھر پر فزیکل ڈیوائس منگوانے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ اس طرح صارف کی شناخت اور اس کے کرپٹو استعمال کے درمیان ایک اضافی رازداری برقرار رہ سکتی ہے۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ Hardware Wallets خراب ہیں۔ Hardware wallets اب بھی private keys کو آن لائن خطرات سے بچانے کے لیے اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اصل بات یہ ہے کہ ہر wallet کے اپنے فائدے اور خطرات ہیں۔ اس واقعے سے عام صارف کے لیے سب سے اہم سبق یہی ہے: اپنی seed phrase کسی کے ساتھ شیئر نہ کریں، اسے آن لائن محفوظ نہ کریں، اور کسی مشکوک email، call یا message پر اعتماد نہ کریں۔ کرپٹو میں صرف wallet کا انتخاب کافی نہیں، security habits بھی اتنی ہی اہم ہیں۔ #SICryptoNews #CZ #Wallet $BTC $ETH $LINK
ابوظہبی نے Bitcoin پر اربوں نہیں، مگر کروڑوں ڈالر کا بڑا داؤ لگا دیا! 🇦🇪₿
Bitcoin کی کہانی اب صرف عام crypto investors یا exchanges تک محدود نہیں رہی۔ دنیا بھر میں بڑے ادارے، pension funds اور سرکاری سرمایہ کاری کے ادارے بھی Bitcoin کو اپنے portfolios کا حصہ بناتے جا رہے ہیں۔ ابوظہبی سے آنے والی تازہ خبر اسی تبدیلی کی ایک اہم مثال ہے۔ حالیہ regulatory filings کے مطابق، ابوظہبی کے دو بڑے sovereign wealth ادارے BlackRock کے Bitcoin ETF، یعنی IBIT میں کروڑوں ڈالر کی سرمایہ کاری برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ تقریباً 764 ملین ڈالر کی Bitcoin ETF سرمایہ کاری Mubadala Investment Company نے بتایا ہے کہ اس کے پاس BlackRock کے Bitcoin ETF میں تقریباً 490 ملین ڈالر کی پوزیشن موجود ہے۔ یہ اس کے پورے 13F portfolio کی دوسری سب سے بڑی single holding ہے۔ دوسری جانب Abu Dhabi Investment Council نے بھی اسی Bitcoin ETF میں تقریباً 273.6 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری ظاہر کی ہے۔ دونوں positions کو ملا کر تقریباً 763.6 ملین ڈالر بنتے ہیں۔ سب سے دلچسپ بات یہ ہے کہ دونوں اداروں نے گزشتہ سہ ماہی کے مقابلے میں اپنی positions میں کوئی بڑی تبدیلی نہیں کی۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ صرف Bitcoin کی روزانہ قیمت میں ہونے والی تبدیلیوں پر مبنی مختصر مدت کی trade نہیں، بلکہ ایک طویل مدتی investment strategy کا حصہ بھی ہو سکتی ہے۔ BlackRock کا Bitcoin ETF کیوں اہم ہے؟ ابوظہبی کے فنڈز نے Bitcoin میں براہِ راست coins خریدنے کے بجائے BlackRock کے ETF کے ذریعے exposure حاصل کیا ہے۔ یہ بڑے اداروں کے لیے ایک آسان راستہ ہے۔ انہیں خود crypto wallets، private keys یا Bitcoin custody کا انتظام نہیں کرنا پڑتا۔ Bitcoin ETF کے ذریعے وہ ایک ایسے investment product میں سرمایہ کاری کر سکتے ہیں جو روایتی financial market کے ماحول سے زیادہ قریب ہے۔ اسی وجہ سے spot Bitcoin ETFs کی منظوری کے بعد institutional investors کے لیے Bitcoin تک رسائی کافی آسان ہوئی ہے۔ UAE کا Bitcoin ماڈل کچھ مختلف ہے UAE کی Bitcoin story کا ایک اور پہلو بھی دلچسپ ہے۔ Blockchain analytics firm Arkham Intelligence کے مطابق، تقریباً 6,782 BTC ایسے wallets سے منسلک کیے گئے تھے جو UAE کے Royal Group سے وابستہ Bitcoin mining activity سے متعلق تھے۔ یہ صورتحال امریکہ جیسے ممالک سے مختلف ہے، جہاں حکومت کے پاس موجود Bitcoin کا ایک بڑا حصہ law-enforcement seizures سے آیا ہے۔ UAE کے معاملے میں Bitcoin exposure میں investment اور mining دونوں کا کردار زیادہ نمایاں نظر آتا ہے۔ یعنی مختلف حکومتیں Bitcoin حاصل کرنے کے لیے مختلف راستے استعمال کر رہی ہیں۔ Crypto market کے لیے اس خبر کا کیا مطلب ہے؟ اس خبر کا سب سے بڑا اثر شاید market confidence کی صورت میں سامنے آ سکتا ہے۔ جب sovereign wealth funds، pension funds اور بڑے financial institutions Bitcoin میں سرمایہ کاری کرتے ہیں تو دوسرے investors کے لیے بھی Bitcoin کو ایک serious investment asset کے طور پر دیکھنا آسان ہو جاتا ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ Bitcoin اب risk-free asset بن گیا ہے۔ Bitcoin کی قیمت اب بھی بہت تیزی سے اوپر یا نیچے جا سکتی ہے، اور institutional investment بھی مستقبل میں تبدیل ہو سکتی ہے۔ لیکن ایک بات واضح ہے: Bitcoin آہستہ آہستہ traditional financial system کے قریب آ رہا ہے۔ ابوظہبی کے یہ تقریباً 764 ملین ڈالر کے ETF positions اسی بڑی تبدیلی کی ایک اور مثال ہیں۔ Bitcoin کی قیمت روزانہ بدل سکتی ہے، لیکن بڑے اداروں کا اس میں دلچسپی لینا ایک ایسا trend ہے جسے crypto market کے لیے نظر انداز کرنا آسان نہیں۔::: #SICryptoNews #bitcoin #UAECrypto
🚨 جاپان کا مرکزی بینک ستمبر میں Rate Hike کر سکتا ہے!
جاپان کی مالیاتی پالیسی ایک بار پھر عالمی مارکیٹ کی توجہ حاصل کر رہی ہے۔ تازہ رپورٹس کے مطابق Bank of Japan (BOJ) ستمبر میں شرحِ سود بڑھانے پر سنجیدگی سے غور کر رہا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ مرکزی بینک صرف ایک اضافے تک محدود رہنے کے بجائے مستقبل میں شرحِ سود بڑھانے کی رفتار تیز کرنے پر بھی غور کر سکتا ہے۔ BOJ کی اگلی پالیسی میٹنگ 17 اور 18 ستمبر کو متوقع ہے، اور مارکیٹ میں اس وقت ریٹ ہائیک کے امکانات تقریباً 80 فیصد تک پہنچ چکے ہیں۔ اس فیصلے کے پیچھے کئی عوامل ہیں۔ جاپانی ین مسلسل دباؤ کا شکار ہے، جبکہ مہنگائی کے خطرات بھی بڑھ رہے ہیں۔ اس کے علاوہ مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال اور عالمی سطح پر AI ٹیکنالوجی کی مضبوط طلب بھی قیمتوں پر اثر ڈال رہی ہے۔ جاپان نے 2024 میں اپنی کئی سالہ انتہائی نرم مالیاتی پالیسی سے نکلنا شروع کیا تھا۔ اس کے بعد BOJ نے بتدریج شرحِ سود میں اضافہ کیا اور جون میں اسے 1 فیصد تک پہنچایا، جو کئی دہائیوں کی بلند سطح ہے۔ اب اصل سوال کرپٹو سرمایہ کاروں کے لیے ہے: اگر BOJ شرحِ سود بڑھاتا ہے تو Bitcoin پر کیا اثر پڑ سکتا ہے؟ شرحِ سود میں اضافہ عام طور پر مالی حالات کو سخت کرتا ہے۔ سستی liquidity کم ہو سکتی ہے اور سرمایہ کار زیادہ محتاط ہو سکتے ہیں۔ ایسی صورتحال میں Bitcoin اور دوسرے risk assets میں عارضی دباؤ یا زیادہ volatility دیکھنے کو مل سکتی ہے۔ خاص طور پر اگر BOJ ستمبر کے بعد بھی تیزی سے ریٹس بڑھانے کا اشارہ دیتا ہے تو عالمی مارکیٹ اسے سنجیدگی سے لے سکتی ہے۔ جاپانی ین کی حرکت، عالمی bond yields اور دیگر بڑے مرکزی بینکوں کی پالیسی بھی اس دوران اہم کردار ادا کریں گی۔ تاہم اس کا مطلب یہ نہیں کہ Bitcoin لازمی طور پر گرے گا۔ کرپٹو مارکیٹ پر کئی دوسرے عوامل بھی اثر انداز ہوتے ہیں، جن میں ETF flows، امریکی شرحِ سود، liquidity، institutional demand اور عالمی معاشی صورتحال شامل ہیں۔ اس لیے ستمبر کی BOJ میٹنگ صرف جاپانی سرمایہ کاروں کے لیے نہیں بلکہ Bitcoin اور پوری عالمی مالیاتی مارکیٹ کے لیے اہم ہو سکتی ہے۔ Bottom line: اگر BOJ واقعی شرحِ سود بڑھانے کی رفتار تیز کرتا ہے تو عالمی liquidity پر دباؤ آ سکتا ہے، جس سے کرپٹو مارکیٹ میں volatility بڑھنے کا امکان ہے۔ سرمایہ کاروں کے لیے بہتر ہوگا کہ صرف ایک خبر پر فیصلہ کرنے کے بجائے مجموعی market trend کو دیکھیں۔ #SICryptoNews #bitcoin #BankOfJapan
Tether کا پہلا مکمل Audit — USDT کے لیے اعتماد کا نیا قدم
کرپٹو مارکیٹ میں Tether اور اس کا stablecoin USDT کسی تعارف کا محتاج نہیں۔ دنیا بھر میں لاکھوں لوگ USDT کو trading، payments، remittances اور ڈالر کی قدر کے قریب رہنے والے ڈیجیٹل اثاثے کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ لیکن Tether کے بارے میں ایک سوال ہمیشہ زیرِ بحث رہا ہے: کیا USDT کے پیچھے واقعی کافی reserves موجود ہیں؟ اب Tether نے اس سوال کا جواب دینے کی سمت ایک اہم قدم اٹھایا ہے۔ Tether کے مطابق، اس نے پہلی بار اپنے مکمل financial statements کا independent audit کروایا ہے، جسے KPMG U.S. نے انجام دیا۔ Audit میں 2025 کے پورے سال کے financial accounts کا جائزہ لیا گیا اور KPMG نے unqualified opinion جاری کی۔ آسان الفاظ میں، auditors نے Tether کے 2025 financial statements پر کوئی بڑی qualification یا تحفظ درج نہیں کیا۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ audit کے مطابق 2025 کے آخر میں Tether کے reserve assets، متعلقہ liabilities سے تقریباً 6.814 ارب ڈالر زیادہ تھے۔ یہ figure USDT holders کے لیے اس لیے اہم ہے کیونکہ stablecoin کی اصل طاقت ہی صارفین کے اعتماد پر قائم ہوتی ہے۔ اس audit میں صرف کاغذات یا ایک دن کے reserve figures نہیں دیکھے گئے۔ KPMG نے transactions، systems، asset ownership، valuations، counterparties اور supporting documents کا بھی جائزہ لیا۔ ایک دلچسپ پہلو Tether کے gold reserves کا بھی ہے۔ KPMG نے Tether کے پاس موجود ہر gold bar کو physically count اور inspect کیا۔ اس سے audit کے عمل کی گہرائی کا اندازہ ہوتا ہے۔ تاہم ایک بات سمجھنا ضروری ہے: 6.814 ارب ڈالر کا surplus 31 دسمبر 2025 کی audited financial position سے متعلق ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ یہ رقم ہمیشہ اسی سطح پر رہے گی۔ Tether کے reserves، liabilities اور USDT supply وقت کے ساتھ تبدیل ہو سکتے ہیں۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکہ سمیت کئی ممالک stablecoins کے لیے نئے regulatory rules پر کام کر رہے ہیں۔ ایسے ماحول میں ایک مکمل independent audit Tether کے لیے transparency اور credibility کے حوالے سے اہم قدم بن سکتا ہے۔ USDT کی مارکیٹ میں بہت بڑی موجودگی ہے، اس لیے Tether پر اعتماد صرف ایک کمپنی کا معاملہ نہیں۔ اگر users اور institutions کو reserves کے بارے میں زیادہ clarity ملتی ہے تو اس کا مثبت اثر پورے crypto ecosystem پر پڑ سکتا ہے۔ مختصر طور پر، KPMG کا unqualified audit Tether کے لیے ایک بڑا transparency milestone ہے۔ یہ USDT کے بارے میں تمام سوالات ختم نہیں کرتا، لیکن investors کو پہلے کے مقابلے میں زیادہ detailed financial information ضرور فراہم کرتا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ یہ audit آنے والے وقت میں USDT کے اعتماد اور stablecoin market پر کتنا اثر ڈالتا ہے۔ #SICryptoNews #bitcoin #TetherUpdate
امریکی SEC نے Crypto Rules پر میٹنگ منسوخ کر دی، کرپٹو مارکیٹ کے لیے اس کا کیا مطلب ہے؟
امریکا سے کرپٹو انڈسٹری کے لیے ایک اہم خبر سامنے آئی ہے۔ امریکی سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن، یعنی SEC نے جمعے کو ہونے والی ایک اہم میٹنگ اچانک منسوخ کر دی ہے۔ اس میٹنگ میں کرپٹو سے متعلق نئے قوانین اور تجاویز پر ووٹنگ ہونی تھی۔ SEC کے مطابق میٹنگ ایک غیر متوقع شیڈولنگ مسئلے کی وجہ سے ملتوی کی گئی ہے۔ اگرچہ یہ وجہ بظاہر معمول کی لگتی ہے، لیکن کرپٹو انڈسٹری کے لیے اس میٹنگ کی خاص اہمیت تھی، کیونکہ اس میں ایسے اقدامات پر بات ہونی تھی جو نئی کرپٹو کمپنیوں کے لیے سرمایہ اکٹھا کرنے کا عمل آسان بنا سکتے تھے۔ اصل معاملہ کیا ہے؟ کئی سالوں سے امریکا میں کرپٹو کمپنیوں اور ریگولیٹرز کے درمیان ایک بنیادی سوال موجود ہے: آخر مختلف crypto tokens کو کس طرح regulate کیا جائے؟ روایتی مالیاتی مارکیٹ میں securities کے لیے سخت قوانین موجود ہیں۔ کمپنیوں کو سرمایہ اکٹھا کرنے سے پہلے مختلف رجسٹریشن، disclosure اور investor protection requirements پوری کرنا پڑتی ہیں۔ کرپٹو انڈسٹری کا کہنا ہے کہ ہر token کو روایتی security سمجھنا درست نہیں۔ بہت سے tokens کا کردار commodities یا دوسرے ڈیجیٹل اثاثوں سے زیادہ ملتا ہے۔ موجودہ SEC قیادت بھی اس بات پر زور دیتی رہی ہے کہ crypto اور blockchain technology کے لیے ایسے rules ہونے چاہئیں جو innovation کو مکمل طور پر روکنے کے بجائے اسے ایک واضح قانونی راستہ فراہم کریں۔ کرپٹو اسٹارٹ اپس کے لیے بڑی خبر کیوں تھی؟ اس میٹنگ میں جن تجاویز پر بات متوقع تھی، ان میں crypto startups کے لیے کچھ regulatory exemptions شامل تھیں۔ سادہ الفاظ میں، اگر ایسی exemptions منظور ہوتی ہیں تو نئی crypto companies کو کچھ حالات میں روایتی securities offering rules سے مکمل طور پر یا محدود مدت کے لیے استثنا مل سکتا ہے۔ یہ چھوٹی کمپنیوں کے لیے خاص طور پر اہم ہو سکتا ہے۔ ایک نئی blockchain startup کو اگر شروع ہی میں پیچیدہ قانونی requirements، مہنگی compliance اور طویل regulatory process سے گزرنا پڑے تو اس کے لیے business launch کرنا مشکل ہو سکتا ہے۔ اس کے برعکس، ایک واضح startup exemption کمپنی کو محدود سرمایہ حاصل کرنے، اپنی technology آزمانے اور market میں قدم رکھنے کا موقع دے سکتی ہے۔ SEC کی crypto policy میں تبدیلی یہ خبر اس لیے بھی اہم ہے کیونکہ امریکی SEC کی موجودہ قیادت نے گزشتہ دور کے مقابلے میں crypto کے حوالے سے زیادہ supportive approach اختیار کی ہے۔ SEC کے چیئرمین Paul Atkins نے crypto regulation میں تبدیلی اور capital markets کو blockchain technology کے لیے زیادہ مناسب بنانے کی بات کی ہے۔ ان کی جانب سے پہلے بھی ایک ایسے safe harbor کی تجویز کا ذکر کیا گیا تھا جس کے ذریعے crypto companies کو token-based projects شروع کرنے اور سرمایہ حاصل کرنے کے لیے نسبتاً واضح راستہ مل سکے۔ اسی طرح ایک startup exemption کا تصور بھی سامنے آیا، جس کے تحت مخصوص شرائط پوری کرنے والی نئی کمپنیاں محدود رقم اکٹھی کر سکتی ہیں یا ایک مخصوص مدت تک regulatory requirements میں کچھ رعایت حاصل کر سکتی ہیں۔ یہ اقدامات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ امریکا crypto industry کو مکمل طور پر traditional financial system سے باہر رکھنے کے بجائے اسے ایک نئے regulatory framework میں لانے کی کوشش کر رہا ہے۔ CLARITY Act بھی اہم ہے SEC کی میٹنگ کی منسوخی ایسے وقت ہوئی ہے جب امریکی سینیٹ CLARITY Act پر ووٹنگ کیے بغیر پانچ ہفتوں کے recess پر چلی گئی ہے۔ CLARITY Act کو crypto industry کے لیے ایک اہم قانون سمجھا جاتا ہے کیونکہ اس کا مقصد digital assets کے لیے زیادہ واضح وفاقی rules بنانا ہے۔ اس وقت امریکا میں crypto companies کے لیے سب سے بڑا مسئلہ صرف قوانین کی سختی نہیں بلکہ کئی معاملات میں قانونی وضاحت کی کمی بھی ہے۔ ایک کمپنی کے لیے یہ جاننا بہت ضروری ہے کہ اس کا token کس category میں آتا ہے، اسے کس regulator کے تحت کام کرنا ہے اور investors کو کون سی معلومات فراہم کرنا ضروری ہیں۔ جب rules واضح نہ ہوں تو کمپنیوں کے لیے long-term planning مشکل ہو جاتی ہے۔ اس تاخیر کا crypto market پر کیا اثر پڑ سکتا ہے؟ مختصر مدت میں اس خبر کا سب سے بڑا اثر market sentiment پر پڑ سکتا ہے۔ سرمایہ کار عام طور پر ایسی regulatory clarity کو مثبت سمجھتے ہیں کیونکہ واضح قوانین business uncertainty کم کرتے ہیں۔ اگر crypto-friendly rules میں مزید تاخیر ہوتی ہے تو کچھ companies اپنے expansion یا fundraising plans کو مؤخر کر سکتی ہیں۔ دوسری طرف، صرف ایک SEC meeting کے ملتوی ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ crypto regulation کا پورا عمل رک گیا ہے۔ SEC اب بھی digital assets اور blockchain-based financial products کے لیے نئے regulatory approaches پر کام کر رہی ہے۔ اس لیے اس خبر کو crypto market کے لیے کسی بڑے negative signal کے طور پر دیکھنا شاید قبل از وقت ہوگا۔ سرمایہ کاروں کو کیا سمجھنا چاہیے؟ عام crypto investor کے لیے سب سے اہم بات یہ ہے کہ regulatory news کو فوری price prediction کے طور پر استعمال نہ کیا جائے۔ SEC کی ایک میٹنگ ملتوی ہونے سے Bitcoin، Ethereum یا دوسرے tokens کی قیمت لازمی طور پر اوپر یا نیچے نہیں جاتی۔ Crypto prices پر کئی عوامل اثر انداز ہوتے ہیں، جن میں interest rates، liquidity، ETF flows، institutional demand، global economy اور market sentiment شامل ہیں۔ البتہ regulatory clarity ایک طویل مدت کا اہم factor ضرور ہے۔ اگر امریکا میں crypto companies کے لیے واضح rules بن جاتے ہیں تو بڑے financial institutions اور نئے startups کے لیے اس sector میں داخل ہونا نسبتاً آسان ہو سکتا ہے۔ آگے کیا ہوگا؟ اب سب کی نظریں SEC کی اگلی meeting پر ہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ نئی تاریخ کب مقرر کی جاتی ہے اور کیا وہی crypto exemptions دوبارہ agenda پر آتی ہیں۔ ساتھ ہی CLARITY Act کا مستقبل بھی اہم رہے گا۔ اگر امریکا واقعی crypto اور blockchain کو اپنے financial system کا مستقل حصہ بنانا چاہتا ہے تو industry کو سب سے زیادہ ضرورت واضح، مستقل اور قابلِ عمل rules کی ہے۔ فی الحال SEC کی میٹنگ کی منسوخی صرف ایک تاخیر ہے، لیکن crypto industry کے لیے یہ reminder ضرور ہے کہ امریکا میں regulatory transformation ابھی مکمل نہیں ہوا۔ نتیجہ یہی ہے کہ crypto market کے لیے اصل game صرف Bitcoin کی قیمت نہیں، بلکہ وہ قوانین بھی ہیں جو آنے والے سالوں میں digital assets کے مستقبل کا تعین کریں گے۔ #SICryptoNews #bitcoin #CLARITYActHitsAnotherRoadblock
کیا Crypto Tokens کی قیمتیں دگنی ہو سکتی ہیں؟ Bitwise CIO کی نئی رائے
کرپٹو مارکیٹ میں ایک سوال ہمیشہ سے اہم رہا ہے: آخر کسی token کی اصل value بنتی کہاں سے ہے؟ کیا صرف hype، community اور speculation کسی cryptocurrency کی قیمت کو طویل عرصے تک اوپر لے جا سکتے ہیں؟ یا پھر آنے والے وقت میں وہی crypto projects زیادہ کامیاب ہوں گے جو اپنے users، network activity اور حقیقی revenue کو اپنے native token کے ساتھ جوڑ سکیں گے؟ Bitwise کے Chief Investment Officer Matt Hougan نے اسی سوال پر ایک دلچسپ نقطۂ نظر پیش کیا ہے۔ ان کے مطابق اگر crypto protocols اپنی پیدا ہونے والی آمدنی کو tokens کے ساتھ زیادہ مضبوط طریقے سے connect کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو کچھ crypto assets کی valuations دگنی یا اس سے بھی زیادہ ہو سکتی ہیں۔ یہ بات بظاہر ایک bullish prediction لگتی ہے، لیکن Hougan کی بات کو سمجھنے کے لیے ہمیں پہلے یہ دیکھنا ہوگا کہ crypto میں revenue capture کا مطلب کیا ہے اور یہ اتنا اہم کیوں بنتا جا رہا ہے۔ Crypto میں Revenue Capture کیا ہے؟ آسان زبان میں سمجھیں تو revenue capture کا مطلب ہے کہ کسی blockchain یا crypto protocol پر ہونے والی economic activity سے جو fees یا آمدنی پیدا ہوتی ہے، اس کا کچھ حصہ اس protocol کے token کی demand یا supply پر اثر ڈالے۔ ماضی میں بہت سے crypto tokens بنیادی طور پر governance کے لیے استعمال ہوتے تھے۔ یعنی token رکھنے والے لوگ کسی proposal پر vote کر سکتے تھے، لیکن protocol سے حاصل ہونے والی آمدنی لازمی طور پر token holders یا token کی economics سے براہ راست نہیں جڑی ہوتی تھی۔ یہاں ایک مسئلہ پیدا ہوتا تھا۔ فرض کریں ایک decentralized application روزانہ لاکھوں ڈالر کی fees generate کر رہی ہے، مگر اس protocol کا token اس revenue سے کسی واضح طریقے سے connected نہیں۔ ایسی صورت میں network تو کامیاب ہو سکتا ہے، لیکن ضروری نہیں کہ اس کامیابی کا فائدہ token کی value میں بھی نظر آئے۔ اب کچھ بڑے crypto projects اس model کو تبدیل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہ projects اپنی fees یا revenue کو استعمال کرتے ہوئے tokens کو market سے خریدتے ہیں، انہیں burn کرتے ہیں یا کسی دوسرے mechanism کے ذریعے token economics کو مضبوط کرتے ہیں۔ اسی تبدیلی کو Matt Hougan crypto valuations کے لیے اہم سمجھتے ہیں۔ Hyperliquid اس trend کی بڑی مثال Hougan نے اپنے analysis میں Hyperliquid کو خاص طور پر نمایاں کیا ہے۔ Hyperliquid ایک decentralized trading platform ہے جہاں بڑی مقدار میں trading activity ہوتی ہے۔ اس trading activity سے fees generate ہوتی ہیں۔ Hyperliquid کے model میں trading fees کا بڑا حصہ Assistance Fund کے ذریعے HYPE tokens کی خریداری کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ خریدے گئے HYPE tokens کو burn کیا جاتا ہے، یعنی انہیں circulation سے مستقل طور پر نکال دیا جاتا ہے۔ Hougan کے مطابق تقریباً 99 فیصد fee revenue اس mechanism کی طرف جا چکا ہے۔ یہ model اس لیے دلچسپ ہے کیونکہ یہاں network کی کامیابی اور token کی demand کے درمیان ایک واضح تعلق بنتا ہے۔ اگر platform پر trading بڑھے گی تو fees بڑھ سکتی ہیں۔ اگر fees بڑھتی ہیں تو HYPE خریدنے کے لیے زیادہ capital استعمال ہو سکتا ہے۔ اور اگر زیادہ tokens خرید کر burn کیے جائیں تو circulating supply کم ہو سکتی ہے۔ یقیناً یہ ایک سیدھا سا equation نہیں ہے کہ fees بڑھیں گی تو token لازمی مہنگا ہوگا۔ Crypto market میں sentiment، liquidity، competition اور investor expectations بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ لیکن کم از کم economic connection پہلے کے مقابلے میں زیادہ واضح نظر آتا ہے۔ Uniswap بھی revenue کو token economics سے جوڑ رہا ہے Uniswap decentralized finance کی دنیا کے سب سے معروف protocols میں سے ایک ہے۔ Uniswap نے بھی protocol fees اور UNI token کے درمیان تعلق مضبوط کرنے کی طرف قدم اٹھایا ہے۔ دسمبر 2025 میں governance کے بعد Uniswap نے اپنے revenue model میں تبدیلیاں کیں اور token burn mechanism کو activate کیا۔ اس کے بعد protocol fees سے تقریباً 7.5 million UNI tokens کے burns finance کیے جانے کی اطلاع دی گئی۔ اس کا بنیادی خیال بہت سادہ ہے۔ Protocol استعمال ہوگا، fees generate ہوں گی، اور ان fees کا ایک حصہ UNI token کو خریدنے اور burn کرنے کے لیے استعمال ہوگا۔ یہ model investors کو یہ دیکھنے کا موقع دیتا ہے کہ protocol کی activity اور token economics کس طرح ایک دوسرے سے connect ہو رہے ہیں۔ اگر Uniswap کی activity بڑھتی ہے اور fees میں اضافہ ہوتا ہے تو نظریاتی طور پر token buybacks یا burns کے لیے بھی زیادہ resources دستیاب ہو سکتے ہیں۔ لیکن یہاں بھی ایک بات ذہن میں رکھنا ضروری ہے: burn کا مطلب ہمیشہ قیمت میں فوری اضافہ نہیں ہوتا۔ Price پر demand، market conditions اور overall crypto sentiment بھی اثر انداز ہوتے ہیں۔ Aave کا طریقہ کچھ مختلف ہے Aave نے بھی token buybacks کے ذریعے اپنے ecosystem کی economic activity اور AAVE token کے درمیان تعلق مضبوط کرنے کی کوشش کی ہے۔ DAO records کے مطابق buyback program کے پہلے دس ماہ میں 205,000 سے زیادہ AAVE tokens خریدے گئے، جبکہ اس کے لیے تقریباً $42 million مختص کیے گئے تھے۔ یہ AAVE کی total supply کے مقابلے میں بھی ایک قابلِ ذکر مقدار ہے۔ Aave کا broader revenue framework بھی evolve ہو رہا ہے۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ Aave ecosystem سے پیدا ہونے والی revenue کا بڑا حصہ DAO treasury اور token economics کے ساتھ align کیا جائے۔ یہاں ایک اہم فرق ہے۔ Protocol کی revenue DAO تک پہنچنا اور وہ revenue براہ راست AAVE خریدنے کے لیے استعمال ہونا ایک ہی چیز نہیں۔ Governance decisions، allocations اور future buyback mechanisms الگ مراحل ہو سکتے ہیں۔ اسی لیے investors کو headlines کے بجائے پورے mechanism کو سمجھنا چاہیے۔ Pump.fun بھی اسی راستے پر Revenue-linked token economics صرف بڑے DeFi protocols تک محدود نہیں رہی۔ Pump.fun نے بھی اپنے revenue model کو token buybacks کے ساتھ جوڑنے کی کوشش کی ہے۔ اس platform کے official token model کے مطابق protocol revenue کا ایک حصہ PUMP token buybacks کے لیے مختص کیا جاتا ہے۔ حالیہ اعداد و شمار میں ایک ہفتے کے دوران Pump.fun نے تقریباً $10 million protocol fees generate کیے، جبکہ تقریباً $5 million کے PUMP tokens buy اور burn کیے گئے۔ یہ ایک اہم development ہے کیونکہ اس سے پتہ چلتا ہے کہ revenue capture کا trend مختلف قسم کے crypto applications تک پہنچ رہا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ اگر trading platform، decentralized exchange، lending protocol اور دوسرے blockchain applications اپنی revenue کو tokens کے ساتھ جوڑ سکتے ہیں، تو کیا پوری crypto market کی valuation approach تبدیل ہو سکتی ہے؟ Matt Hougan کا جواب کافی حد تک “ہاں” کی طرف جاتا ہے۔ Stock Buybacks سے کیا مماثلت ہے؟ Hougan نے crypto token buybacks کا موازنہ traditional companies کے stock buybacks سے بھی کیا ہے۔ Traditional stock market میں کوئی profitable company اپنی کمائی سے اپنے shares واپس خرید سکتی ہے۔ اس سے market میں موجود shares کی تعداد کم ہو سکتی ہے اور باقی shares کی ownership نسبتاً زیادہ concentrated ہو جاتی ہے۔ Crypto میں token buyback اور burn کا تصور کچھ حد تک اسی طرح کام کر سکتا ہے۔ لیکن دونوں چیزوں کو مکمل طور پر ایک جیسا سمجھنا غلط ہوگا۔ ایک company کا stock عام طور پر shareholder کو مخصوص قانونی حقوق دیتا ہے، جبکہ crypto token کے rights مختلف ہو سکتے ہیں۔ ہر token holder کو company shareholder کی طرح profits، assets یا dividends پر contractual claim حاصل نہیں ہوتا۔ اس لیے crypto revenue models کو سمجھتے وقت stock market کی مثال صرف ایک آسان comparison کے طور پر استعمال کی جا سکتی ہے، مکمل equivalence کے طور پر نہیں۔ کیا Crypto Valuations واقعی Double ہو سکتی ہیں؟ یہاں سب سے اہم بات آتی ہے۔ Matt Hougan نے یہ نہیں کہا کہ تمام cryptocurrencies کی قیمتیں لازمی دگنی ہوں گی۔ ان کا argument conditional ہے۔ یعنی اگر crypto protocols کی revenue capture مضبوط ہوتی ہے، اگر users کی activity برقرار رہتی ہے، اگر tokens کے economic models بہتر ہوتے ہیں اور اگر investors اس نئے model کو زیادہ value دیتے ہیں، تو valuations میں بہت بڑی growth ممکن ہے۔ یہ ایک prediction ہے، guarantee نہیں۔ مثال کے طور پر اگر کسی protocol کی revenue مسلسل بڑھ رہی ہے لیکن token کی supply بھی تیزی سے بڑھ رہی ہے، تو revenue growth کا فائدہ محدود ہو سکتا ہے۔ اسی طرح اگر network activity کم ہو جائے تو fees بھی کم ہو سکتی ہیں اور buybacks یا burns بھی کم ہو سکتے ہیں۔ اس لیے صرف “token burn” دیکھ کر کسی project کو bullish سمجھ لینا خطرناک ہو سکتا ہے۔ Solana اور Layer-1 networks کی طرف بھی توجہ یہ trend DeFi protocols سے نکل کر Layer-1 blockchains تک بھی پہنچ رہا ہے۔ Hougan نے Solana کے ایسے proposals کا حوالہ دیا ہے جن کا مقصد network fees، token burns اور issuance economics میں تبدیلی لانا ہے۔ مثلاً ایک proposed model میں transaction fee structure کو تبدیل کرنے اور کچھ fees کو burn کرنے کی بات کی گئی ہے۔ اگر ایسے proposals مکمل طور پر implement ہوتے ہیں اور network activity بھی مضبوط رہتی ہے تو SOL کی supply dynamics پر اثر پڑ سکتا ہے۔ لیکن یہاں بھی احتیاط ضروری ہے۔ Proposal، validator signaling اور final implementation تین مختلف چیزیں ہیں۔ جب تک کوئی change مکمل طور پر approve اور implement نہ ہو جائے، اس کے ممکنہ اثرات کو guaranteed outcome نہیں سمجھنا چاہیے۔ Regulation بھی بہت اہم ہے Crypto revenue models کی کامیابی صرف technology پر depend نہیں کرتی۔ Regulation بھی ایک بڑا factor ہے۔ امریکہ میں crypto regulations کے حوالے سے حالیہ تبدیلیوں نے industry کو زیادہ واضح rules کی امید دی ہے۔ اگر regulators ایسے models کے لیے زیادہ واضح guidelines فراہم کرتے ہیں جن میں protocol revenue، token buybacks یا دیگر economic mechanisms شامل ہوں، تو crypto projects کے لیے نئے models بنانا آسان ہو سکتا ہے۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہر token buyback یا revenue-sharing mechanism automatically قانونی طور پر approved ہے۔ کسی token کی legal classification، اس کی offering، investors سے کیے گئے promises اور project team کا کردار سب اہم ہو سکتے ہیں۔ اسی لیے crypto investors کو صرف یہ دیکھ کر فیصلہ نہیں کرنا چاہیے کہ “revenue token کے ساتھ connected ہے۔” Legal structure بھی اتنا ہی اہم ہے۔ Crypto market کے لیے اس trend کا اصل مطلب کیا ہے؟ میرے خیال میں Hougan کی بات کا سب سے اہم حصہ “price double” نہیں بلکہ valuation کا طریقہ بدلنے کا امکان ہے۔ Crypto market میں ایک طویل عرصے تک tokens کی valuation بہت زیادہ speculation، narratives اور future expectations پر depend کرتی رہی۔ Bitcoin کے معاملے میں scarcity، adoption اور network effects کی بحث ہوتی ہے۔ لیکن altcoins میں سوال زیادہ مشکل ہے: یہ token آخر value پیدا کیسے کرتا ہے؟ اگر کوئی protocol ہزاروں یا لاکھوں users کو service فراہم کر رہا ہے، کروڑوں ڈالر کی fees generate کر رہا ہے اور اس revenue کا ایک واضح حصہ token economics کو support کر رہا ہے، تو investor کے پاس valuation کرنے کے لیے ایک اضافی metric موجود ہو جاتا ہے۔ یہ crypto market کو ایک زیادہ mature direction میں لے جا سکتا ہے۔ Investors کو کیا دیکھنا چاہیے؟ اگر یہ trend آگے بڑھتا ہے تو investors کے لیے صرف token price دیکھنا کافی نہیں ہوگا۔ سب سے پہلے دیکھیں کہ protocol کی حقیقی revenue کتنی ہے۔ پھر دیکھیں کہ یہ revenue کہاں جا رہی ہے۔ کیا وہ treasury میں جا رہی ہے؟ کیا users کو incentives دیے جا رہے ہیں؟ کیا tokens buy کیے جا رہے ہیں؟ کیا tokens burn کیے جا رہے ہیں؟ اور سب سے اہم، کیا یہ mechanism مستقل اور transparent ہے؟ دوسرا اہم metric network activity ہے۔ اگر token buybacks صرف ایک مختصر مدت کے لیے ہو رہے ہیں اور protocol کی underlying activity کمزور ہے تو long-term thesis زیادہ مضبوط نہیں ہوگی۔ تیسری چیز token supply ہے۔ اگر project ایک طرف tokens buy اور burn کر رہا ہے لیکن دوسری طرف بہت بڑی نئی supply market میں آ رہی ہے تو net effect کو سمجھنا ضروری ہے۔ آگے کیا ہو سکتا ہے؟ Matt Hougan کا اندازہ ہے کہ اگلے 12 سے 24 ماہ میں مزید DeFi applications اور Layer-1 networks revenue-linked token models کی طرف جا سکتے ہیں۔ اگر یہ prediction درست ثابت ہوتی ہے تو crypto market میں ایک دلچسپ تبدیلی آ سکتی ہے۔ Future میں شاید investors صرف یہ نہ پوچھیں کہ: “یہ token کس project کا ہے؟” بلکہ وہ یہ بھی پوچھیں گے: “یہ protocol کتنی revenue generate کرتا ہے؟” “اس revenue کا کتنا حصہ token کو benefit کرتا ہے؟” “Token کی supply کتنی تیزی سے بڑھ رہی ہے؟” اور “کیا network کی growth واقعی token کی demand میں تبدیل ہو رہی ہے؟” یہ سوالات crypto investing کو زیادہ data-driven بنا سکتے ہیں۔ آخری بات Bitwise CIO Matt Hougan کی prediction crypto market کے لیے یقیناً دلچسپ ہے، لیکن اسے ایک bullish scenario کے طور پر دیکھنا زیادہ مناسب ہے، guaranteed future کے طور پر نہیں۔ Crypto valuations دگنی ہوں گی یا نہیں، اس کا انحصار صرف token burns یا buybacks پر نہیں ہوگا۔ User adoption، network activity، revenue growth، token supply، competition، liquidity اور regulation سب مل کر فیصلہ کریں گے کہ کسی token کی حقیقی economic value کتنی بنتی ہے۔ لیکن ایک چیز واضح ہے: crypto industry آہستہ آہستہ اس سوال کا جواب دینے کی کوشش کر رہی ہے کہ “اگر network پیسہ کماتا ہے تو اس کا فائدہ token کو کیسے ملے گا؟” Hyperliquid، Uniswap، Aave اور Pump.fun جیسے projects اس direction میں مختلف تجربات کر رہے ہیں۔ اگر آنے والے سالوں میں یہ models کامیاب ہوتے ہیں تو crypto valuation کا انداز واقعی بدل سکتا ہے۔ اور شاید یہی وہ تبدیلی ہے جس کی طرف Matt Hougan اشارہ کر رہے ہیں۔ نوٹ: یہ مضمون صرف معلومات اور تعلیمی مقصد کے لیے ہے، اسے investment advice نہ سمجھا جائے۔ Crypto assets میں سرمایہ کاری میں نمایاں risk موجود ہوتا ہے، اور کسی بھی token کی قیمت بڑھنے کی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔ #SICryptoNews #bitcoin #BullRunAhead
Bank of England اور Polygon کا نیا تجربہ: کیا Digital Pound اور Stablecoins ایک ساتھ کام کر سکتے ہیں
دنیا کا مالیاتی نظام آہستہ آہستہ ایک ایسے دور کی طرف بڑھ رہا ہے جہاں روایتی پیسوں کے ساتھ ساتھ stablecoins، blockchain اور digital currencies بھی اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔ اسی سمت میں ایک دلچسپ قدم برطانیہ سے سامنے آیا ہے۔ Bank of England نے اپنے Digital Pound Lab کے Phase 2 میں Polygon Labs، NOBO Finance اور Dun & Bradstreet کو شامل کیا ہے۔ مقصد یہ دیکھنا ہے کہ blockchain، stablecoins اور ممکنہ digital pound کو کاروباری لین دین، خاص طور پر international trade finance، میں کس طرح استعمال کیا جا سکتا ہے۔ چھوٹے کاروباروں کے لیے کیا بدلے گا؟ بین الاقوامی تجارت میں چھوٹے اور درمیانے کاروباروں کو اکثر ایک مسئلے کا سامنا ہوتا ہے: payment آنے میں وقت لگتا ہے اور financing حاصل کرنے کے لیے بار بار verification کروانی پڑتی ہے۔ نئے تجربے میں ایک ایسا SME Bankable Profile بنانے کی کوشش کی جائے گی جس میں کاروبار کی transaction history، open finance data اور business information شامل ہوگی۔ سادہ الفاظ میں، اگر کوئی کاروبار پہلے ہی ایک verified financial profile رکھتا ہے تو مستقبل میں اسے ہر نئے financing provider کے سامنے دوبارہ وہی لمبا verification process مکمل نہ کرنا پڑے۔ Dun & Bradstreet business اور risk information فراہم کرے گا، جبکہ Polygon smart contracts کے ذریعے consent، verification اور financing process کو manage کرنے میں مدد دے گا۔ Stablecoin اور Digital Pound ایک ہی transaction میں اس منصوبے کا دوسرا حصہ شاید crypto industry کے لیے زیادہ دلچسپ ہے۔ اس experiment میں یہ test کیا جائے گا کہ ایک ہی trade transaction میں مختلف قسم کی digital money استعمال کی جا سکتی ہے یا نہیں۔ مثال کے طور پر، ایک exporter کو stablecoin میں advance payment مل سکتی ہے، جبکہ UK کا importer اپنی final payment digital pound میں مکمل کر سکتا ہے۔ یعنی ایک transaction میں private digital money اور central-bank money دونوں اپنا کردار ادا کریں گے۔ اگر یہ model عملی طور پر کامیاب ثابت ہوتا ہے تو مستقبل میں international trade کے لیے payment process زیادہ تیز اور flexible ہو سکتا ہے۔ Polygon کے لیے بھی اہم پیش رفت اس پورے تجربے میں Polygon Labs blockchain infrastructure فراہم کرے گا۔ اس میں stablecoin settlement، wallets اور smart contracts جیسے tools شامل ہیں۔ یہ Polygon کے لیے بھی اہم ہے کیونکہ network صرف crypto trading کے بجائے institutional payments اور real-world financial applications میں اپنی technology کے استعمال کو بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے۔ کیا Digital Pound اب launch ہونے والا ہے؟ یہاں ایک اہم وضاحت ضروری ہے۔ Bank of England نے ابھی Digital Pound launch کرنے کا فیصلہ نہیں کیا۔ Digital Pound Lab ایک experimental environment ہے جہاں مختلف ideas اور technologies کو test کیا جا رہا ہے۔ اس test میں حقیقی customers یا حقیقی money استعمال نہیں ہو رہا۔ اس لیے اسے Digital Pound کی launch announcement سمجھنا درست نہیں ہوگا۔ Crypto market پر ممکنہ اثر میرے خیال میں اس خبر کا سب سے بڑا پہلو Bitcoin یا کسی ایک cryptocurrency کی price نہیں، بلکہ blockchain اور stablecoins کا traditional financial system میں بڑھتا ہوا استعمال ہے۔ اگر مرکزی بینک، financial institutions اور بڑے کاروبار blockchain-based payments کو مزید test کرتے ہیں، تو stablecoins کے لیے adoption کا راستہ کھل سکتا ہے۔ یہ crypto industry کے لیے ایک مثبت signal ہے، کیونکہ blockchain کو صرف speculation کے بجائے payments، trade finance اور business infrastructure کے طور پر استعمال کرنے کے امکانات بڑھ رہے ہیں۔ ابھی یہ صرف ایک experiment ہے، لیکن ایسے experiments ہی مستقبل کے financial system کی بنیاد بن سکتے ہیں۔ #SICryptoNews #bitcoin #BankOfEngland $LINK
Bitcoin Strategic Reserve کیا ہے؟ حکومتیں Bitcoin کو قومی خزانے کا حصہ کیوں بنا رہی ہیں؟
Bitcoin Strategic Reserve کیا ہے؟ حکومتیں Bitcoin کو قومی خزانے کا حصہ کیوں بنا رہی ہیں؟ کچھ سال پہلے اگر کوئی کہتا کہ حکومتیں Bitcoin کو اپنے قومی ذخائر میں رکھنے پر غور کریں گی تو شاید یہ بات عجیب لگتی۔ Bitcoin کو زیادہ تر لوگ ایک نئی اور risky cryptocurrency سمجھتے تھے۔ لیکن اب صورتحال بدل رہی ہے۔ Gold، foreign currencies اور government bonds کے ساتھ Bitcoin کا نام بھی reserve asset کے طور پر لیا جا رہا ہے۔ امریکہ کی طرف سے Strategic Bitcoin Reserve بنانے کے فیصلے نے اس بحث کو مزید اہم بنا دیا ہے۔ لیکن آخر Bitcoin Strategic Reserve ہوتا کیا ہے؟ اور اگر حکومتیں Bitcoin خریدنا شروع کر دیں تو عام crypto investors کے لیے اس کا کیا مطلب ہوگا؟ آئیے آسان الفاظ میں سمجھتے ہیں۔ Bitcoin Strategic Reserve کیا ہوتا ہے؟ سادہ الفاظ میں، Bitcoin Strategic Reserve حکومت کی طرف سے Bitcoin کا ایسا ذخیرہ ہے جسے قومی اثاثے کے طور پر محفوظ رکھا جاتا ہے۔ جس طرح حکومتیں اپنے پاس Gold یا foreign currency reserves رکھتی ہیں، اسی طرح Bitcoin کو بھی ایک long-term strategic asset کے طور پر رکھنے کا تصور ہے۔ اس کا مقصد ضروری نہیں کہ Bitcoin کو روزانہ کی payments میں استعمال کیا جائے۔ اصل مقصد اسے ایک ایسے asset کے طور پر رکھنا ہے جس کی value مستقبل میں ملک کے financial reserves کا حصہ بن سکتی ہے۔ امریکہ نے Bitcoin Reserve کیوں بنایا؟ 6 مارچ 2025 کو امریکی صدر Donald Trump نے ایک Executive Order پر دستخط کیے جس کے بعد US Strategic Bitcoin Reserve بنانے کی ہدایت دی گئی۔ ابتدائی طور پر reserve میں تقریباً 200,000 BTC شامل کیے گئے، جو زیادہ تر مختلف criminal cases اور asset seizures کے ذریعے پہلے ہی امریکی حکومت کے قبضے میں تھے۔ یہاں ایک اہم فرق سمجھنا ضروری ہے۔ حکومت نے یہ تمام Bitcoin عام مارکیٹ سے خرید کر reserve میں نہیں ڈالے۔ ان میں سے بڑی مقدار پہلے ہی government custody میں موجود تھی۔ نئے framework کے تحت reserve میں موجود Bitcoin کو فروخت نہ کرنے کی پالیسی بھی اہم ہے۔ یعنی حکومت اسے فوری طور پر cash میں تبدیل کرنے کے بجائے ایک long-term asset کے طور پر دیکھ رہی ہے۔ Bitcoin کو reserve asset بنانے کی سب سے بڑی وجہ کیا ہے؟ اس کے حامی عام طور پر تین بنیادی arguments دیتے ہیں: Scarcity، Sovereignty اور Diversification۔ 1. Bitcoin کی محدود supply Bitcoin کی سب سے مشہور خصوصیت اس کی limited supply ہے۔ Bitcoin کی maximum supply تقریباً 21 million coins ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ اس کی supply کو کسی حکومت یا مرکزی بینک کی مرضی سے لامحدود نہیں بڑھایا جا سکتا۔ Bitcoin supporters کے لیے یہی scarcity اسے ایک دلچسپ long-term asset بناتی ہے۔ 2. Financial Sovereignty دوسرا argument financial independence کا ہے۔ Bitcoin کسی ایک حکومت یا مرکزی بینک کے control میں نہیں ہے۔ اگر کوئی ملک اپنے reserves کا کچھ حصہ ایسے asset میں رکھتا ہے جسے کسی ایک foreign government کے monetary system سے براہ راست control نہیں کیا جا سکتا، تو اسے ایک قسم کی financial protection سمجھا جا سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کچھ policymakers Bitcoin کو صرف investment نہیں بلکہ sovereign asset کے طور پر دیکھنے لگے ہیں۔ 3. Diversification تیسرا reason portfolio diversification ہے۔ حکومتوں کے reserves عام طور پر مختلف assets میں تقسیم ہوتے ہیں۔ Bitcoin کو شامل کرنے کا خیال یہ ہے کہ national reserve portfolio میں ایک مختلف type کا asset بھی موجود ہو۔ لیکن یہاں ایک مسئلہ ہے۔ Bitcoin کی volatility بہت زیادہ ہے۔ یعنی جس طرح Bitcoin تیزی سے اوپر جا سکتا ہے، اسی طرح اس کی price میں بڑی کمی بھی آ سکتی ہے۔ اسی لیے Bitcoin کو reserve asset بنانے پر ابھی بھی شدید بحث جاری ہے۔ کیا دوسرے ممالک بھی Bitcoin Reserve چاہتے ہیں؟ امریکہ کے اقدام کے بعد دنیا کے کئی حصوں میں Bitcoin reserve کے حوالے سے proposals اور discussions سامنے آئی ہیں۔ Brazil، Czech Republic، Poland اور Japan جیسے ممالک میں Bitcoin کو national reserves میں شامل کرنے کے حوالے سے مختلف تجاویز یا debates سامنے آ چکی ہیں۔ امریکہ کی کچھ ریاستوں نے بھی اپنے level پر Bitcoin reserve کے ideas کو آگے بڑھایا ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ یہ تمام ممالک بڑے پیمانے پر Bitcoin خرید چکے ہیں۔ اصل اہم بات یہ ہے کہ Bitcoin اب صرف private investors کی discussion نہیں رہی۔ Governments بھی اسے seriously discuss کر رہی ہیں۔ El Salvador پہلے ہی یہ تجربہ کر چکا ہے El Salvador اس معاملے میں ایک نمایاں مثال ہے۔ 2021 میں ملک نے Bitcoin کو legal tender کے طور پر adopt کیا اور حکومت نے Bitcoin خریدنا شروع کیا۔ اس فیصلے نے دنیا بھر میں بحث چھیڑ دی کہ کیا ایک ملک Bitcoin کو اپنے financial system میں واقعی شامل کر سکتا ہے؟ El Salvador کا تجربہ اب دوسرے ممالک کے لیے بھی ایک case study بن چکا ہے۔ اگر مزید حکومتیں Bitcoin خریدیں تو Crypto Market پر کیا اثر ہوگا؟ یہاں سے عام investor کے لیے سب سے دلچسپ سوال شروع ہوتا ہے۔ اگر بڑی تعداد میں governments Bitcoin کو اپنے reserves میں شامل کرتی ہیں تو Bitcoin کی demand میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ Bitcoin کی supply محدود ہے، جبکہ demand میں اضافہ price پر upward pressure پیدا کر سکتا ہے۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ Bitcoin کی price لازمی طور پر اوپر جائے گی۔ Crypto market میں بہت سے دوسرے factors بھی کام کرتے ہیں، جیسے interest rates، regulations، institutional demand، economic conditions اور investor sentiment۔ Government adoption سے Bitcoin کی credibility بڑھ سکتی ہے Bitcoin کے لیے شاید سب سے بڑا فائدہ صرف additional buying نہ ہو۔ اصل فائدہ legitimacy ہو سکتا ہے۔ اگر ایک حکومت Bitcoin کو national reserve asset سمجھتی ہے تو دوسری حکومتیں بھی اسے زیادہ سنجیدگی سے دیکھ سکتی ہیں۔ اس کے بعد financial institutions اور بڑے investors کے لیے Bitcoin کو portfolio میں شامل کرنے کی بحث مزید آسان ہو سکتی ہے۔ ایک وقت تھا جب Bitcoin کو صرف internet money کہا جاتا تھا۔ اب اس پر sovereign reserves کے حوالے سے بحث ہو رہی ہے۔ یہ خود ایک بڑی تبدیلی ہے۔ لیکن Bitcoin Reserve کے risks بھی ہیں اس تصویر کا دوسرا رخ بھی دیکھنا ضروری ہے۔ Bitcoin کی volatility Bitcoin کی history میں کئی مرتبہ بہت بڑی price declines دیکھنے کو ملی ہیں۔ اگر کوئی حکومت اربوں ڈالر کا Bitcoin رکھتی ہے اور market میں 40 یا 50 فیصد correction آ جاتا ہے تو reserve کی value بھی تیزی سے کم ہو سکتی ہے۔ یہ public assets ہیں، اس لیے سیاسی pressure بھی پیدا ہو سکتا ہے۔ Opportunity Cost Bitcoin کوئی interest یا dividend نہیں دیتا۔ اگر حکومت Bitcoin کے بجائے bonds رکھتی ہے تو اسے interest income حاصل ہو سکتی ہے۔ Bitcoin supporters کا جواب یہ ہے کہ Gold بھی vault میں رکھے جانے پر income نہیں دیتا، پھر بھی حکومتیں اسے reserve asset کے طور پر رکھتی ہیں۔ یعنی reserve asset کا مقصد صرف income پیدا کرنا نہیں بلکہ long-term value preservation بھی ہو سکتا ہے۔ اصل سوال Bitcoin کی قیمت نہیں، مستقبل کا financial system ہے Bitcoin Strategic Reserve کی بحث صرف اس بارے میں نہیں کہ Bitcoin اگلے سال کتنے ڈالر کا ہوگا۔ اصل سوال اس سے کہیں بڑا ہے: کیا Bitcoin مستقبل میں Gold اور foreign currencies کی طرح ایک accepted reserve asset بن سکتا ہے؟ اگر جواب ہاں میں نکلتا ہے تو آج کے government reserve experiments بہت اہم ثابت ہو سکتے ہیں۔ اور اگر Bitcoin کی volatility، regulation اور political risks زیادہ ثابت ہوئے تو governments کی adoption محدود بھی رہ سکتی ہے۔ ابھی یہ ایک developing story ہے۔ لیکن ایک بات واضح ہے: Bitcoin اب صرف retail investors کی کہانی نہیں رہا۔ Governments بھی اس پر غور کر رہی ہیں۔ نتیجہ Bitcoin Strategic Reserve crypto industry کے لیے ایک اہم development ہے۔ امریکہ کا فیصلہ، El Salvador کا تجربہ اور دوسرے ممالک میں جاری proposals یہ ظاہر کرتے ہیں کہ Bitcoin کو traditional financial assets کے مقابلے میں ایک نئے زاویے سے دیکھا جا رہا ہے۔ یہ Bitcoin کے لیے بہت بڑا opportunity بھی ہو سکتا ہے اور ایک بڑا risk بھی۔ اگر governments بڑے پیمانے پر Bitcoin accumulate کرتی ہیں تو demand اور institutional confidence بڑھ سکتا ہے۔ لیکن اگر Bitcoin کی volatility برقرار رہتی ہے تو public reserves کے لیے یہ ایک challenging asset بھی ثابت ہو سکتا ہے۔ Bitcoin کا مستقبل صرف investors کے ہاتھ میں نہیں۔ آنے والے سالوں میں governments کے فیصلے بھی اس کی direction پر بڑا اثر ڈال سکتے ہیں۔ نوٹ: یہ مضمون صرف معلوماتی مقصد کے لیے ہے۔ Bitcoin ایک volatile asset ہے۔ کسی بھی investment decision سے پہلے اپنی research ضرور کریں۔ #SICryptoNews #BitcoinStrategicReserve #BTC
Only 90 Bitcoin Wallets Hold 10,000+ BTC — Are Bitcoin Whales Taking Control? Something interesting is happening beneath the surface of the Bitcoin market. While Bitcoin has struggled to stay above the $65,000 level, the number of very large Bitcoin wallets has quietly climbed to its highest point in six months. According to the latest data, there are now only 90 wallets holding at least 10,000 BTC. That number has increased by six wallets over the past eight weeks, representing roughly a 7% rise. Why Are Large Bitcoin Wallets Important? The bigger story is not just the number of wallets. It is where the Bitcoin supply appears to be moving. While large wallets have been growing, smaller holders have been reducing their holdings during August. Santiment linked part of this retail decline to fear and uncertainty among smaller investors, including concerns surrounding recent security incidents and delays related to the CLARITY Act. In simple terms, some Bitcoin appears to be moving away from weaker or smaller hands and toward larger holders. That does not guarantee a price rally, but it is a development worth watching. $65,400 Is the Level to Watch Bitcoin's next major test could come around $65,400. The cryptocurrency has made several attempts to move above the $65,000 area but has struggled to maintain those gains. A clean break above $65,400 would be more meaningful if Bitcoin can also produce several weekly closes above that level. If that happens, attention could shift toward the $77,000–$78,000 area, followed by around $83,000. But there is also a downside scenario. If Bitcoin continues to face rejection around the current resistance zone, $61,500 could become the first important support. A deeper correction could bring $54,000 back into focus. #SICryptoNews #BtcWhales $BTC $ETH $SOL
صرف 90 Bitcoin Wallets کے پاس 10,000+ BTC — کیا بڑے سرمایہ کار دوبارہ خرید رہے ہیں؟
Bitcoin مارکیٹ میں ایک دلچسپ تبدیلی دیکھنے کو مل رہی ہے۔ ایک طرف Bitcoin ابھی بھی $65,000 کے اوپر مضبوطی برقرار رکھنے میں ناکام رہا ہے، جبکہ دوسری طرف بڑی Bitcoin wallets کی تعداد کئی ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔ تازہ اعداد و شمار کے مطابق اب صرف 90 wallets ایسے ہیں جن کے پاس کم از کم 10,000 BTC موجود ہیں۔ یہ تعداد گزشتہ چھ ماہ کی بلند ترین سطح ہے۔ بڑے Bitcoin holders کی تعداد کیوں اہم ہے؟ گزشتہ آٹھ ہفتوں کے دوران 10,000 یا اس سے زیادہ Bitcoin رکھنے والے wallets میں 6 کا اضافہ ہوا ہے، یعنی تقریباً 7 فیصد اضافہ۔ اس کے برعکس، چھوٹے holders اپنی Bitcoin holdings کم کر رہے ہیں۔ Santiment کے مطابق اگست میں retail investors کے درمیان خوف اور غیر یقینی صورتحال نے بھی اس رجحان کو متاثر کیا ہے۔ سادہ الفاظ میں کہیں تو Bitcoin کی کچھ supply چھوٹے investors سے نکل کر بڑے holders کے پاس جا رہی ہے۔ یہ صورتحال اس لیے اہم ہے کیونکہ بڑے investors عام طور پر مختصر مدت کی price movements کے بجائے طویل مدت پر زیادہ توجہ دیتے ہیں۔ Bitcoin کے لیے اگلا اہم level کیا ہے؟ اب مارکیٹ کی نظریں $65,400 کے level پر ہیں۔ Bitcoin نے کئی مرتبہ $65,000 سے اوپر جانے کی کوشش کی، لیکن وہاں زیادہ دیر ٹھہر نہیں سکا۔ اگر Bitcoin $65,400 کو decisively break کرکے اس کے اوپر مسلسل weekly closes دینے میں کامیاب ہوتا ہے تو مارکیٹ میں مزید bullish momentum پیدا ہو سکتا ہے۔ ایسی صورت میں $77,000–$78,000 اور پھر $83,000 اہم resistance levels بن سکتے ہیں۔ لیکن تصویر کا دوسرا رخ بھی ہے۔ اگر Bitcoin دوبارہ $65,400 کے قریب reject ہوتا ہے تو قیمت پہلے $61,500 اور اس کے بعد تقریباً $54,000 کی طرف جا سکتی ہے۔ Institutional investors بھی محتاط نظر آ رہے ہیں بڑے Bitcoin wallets میں اضافے کے باوجود institutional demand میں کچھ کمزوری دیکھی گئی۔ امریکی spot Bitcoin ETFs نے ایک سیشن میں تقریباً $144.67 million کا net outflow دیکھا۔ یہ اگست کا پہلا negative session تھا، جس سے پہلے ETFs مسلسل پانچ سیشنز میں inflows دیکھ رہے تھے۔ اسی دوران ایک بڑی corporate Bitcoin holder نے مزید 1,690 BTC تقریباً $108.6 million میں فروخت کیے۔ یعنی مارکیٹ میں ایک دلچسپ مقابلہ جاری ہے: ایک طرف بڑے Bitcoin wallets کی تعداد بڑھ رہی ہے، جبکہ دوسری طرف ETFs اور کچھ institutional players سے selling pressure بھی سامنے آ رہا ہے۔ آخر میں Bitcoin کے لیے موجودہ صورتحال کو صرف bullish یا bearish کہنا ابھی جلدی ہوگی۔ بڑے holders کا Bitcoin جمع کرنا ایک مثبت signal ہو سکتا ہے، لیکن price کو ابھی $65,400 جیسے اہم resistance کو مضبوطی سے عبور کرنا ہوگا۔ اگر یہ level break ہو جاتا ہے تو Bitcoin کے لیے اوپر جانے کی گنجائش بڑھ سکتی ہے۔ لیکن rejection کی صورت میں مارکیٹ دوبارہ lower support levels کو test کر سکتی ہے۔ اس وقت Bitcoin کی کہانی صرف قیمت کی نہیں، بلکہ اس بات کی بھی ہے کہ Bitcoin کس کے ہاتھوں میں جا رہا ہے۔ #SICryptoNews #bitcoinwhale #BtcWhales $LINK
Robinhood نے UK میں Crypto Trading شروع کر دی، 50 سے زیادہ Coins اور Zero Trading Fees
برطانیہ میں کرپٹو سرمایہ کاروں کے لیے Robinhood کی جانب سے ایک اہم قدم سامنے آیا ہے۔ کمپنی نے UK کے eligible users کے لیے cryptocurrency trading شروع کر دی ہے، جس کے ذریعے صارفین ایک ہی ایپ سے 50 سے زیادہ digital assets خرید اور فروخت کر سکیں گے۔ اس فہرست میں Bitcoin، Ethereum، XRP، Hyperliquid اور کئی دیگر cryptocurrencies شامل ہیں۔ Zero Trading Fees — لیکن ایک بات یاد رکھیں Robinhood کی نئی crypto service کی سب سے بڑی خاص بات zero trading fees ہے۔ اس کے علاوہ کمپنی نے account maintenance اور crypto custody fees بھی ختم کر دی ہیں۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہر قسم کی لاگت ختم ہو گئی ہے۔ صارفین کو 0.1% foreign exchange (FX) fee ادا کرنا ہوگی، جبکہ weekends پر یہ fee 0.3% تک بڑھ سکتی ہے۔ یعنی UK کے صارفین کے لیے crypto trading پہلے کے مقابلے میں آسان اور نسبتاً سستی ہو سکتی ہے، لیکن انہیں currency conversion کی لاگت کو ضرور مدنظر رکھنا ہوگا۔ Crypto Adoption کے لیے اہم قدم Robinhood پہلے ہی stocks، options اور futures جیسی investment services فراہم کرتا ہے۔ اب crypto کو بھی اسی ecosystem میں شامل کرنے سے کمپنی ایک ایسی investment app بننے کی کوشش کر رہی ہے جہاں صارفین مختلف asset classes ایک ہی جگہ manage کر سکیں۔ Zero trading fees خاص طور پر نئے investors کے لیے دلچسپ ہو سکتی ہیں۔ کم fees عام طور پر لوگوں کو زیادہ آسانی سے trading شروع کرنے کی طرف راغب کرتی ہیں۔ AI بھی Robinhood کی Crypto Strategy کا حصہ کمپنی نے crypto users کے لیے Cortex Digests نامی AI-powered feature بھی متعارف کرایا ہے۔ اس کا مقصد market news، technical indicators اور مختلف cryptocurrencies کو متاثر کرنے والے عوامل کا خلاصہ آسان انداز میں پیش کرنا ہے۔ ایک نئے crypto investor کے لیے یہ feature اس وقت مفید ہو سکتا ہے جب مارکیٹ میں بہت زیادہ خبریں گردش کر رہی ہوں اور یہ سمجھنا مشکل ہو کہ کسی coin کی قیمت کیوں اوپر یا نیچے جا رہی ہے۔ Robinhood کے لیے بڑا Crypto Expansion یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب Robinhood کا blockchain ecosystem بھی توجہ حاصل کر رہا ہے۔ کمپنی کے مطابق Robinhood Chain نے عالمی سطح پر launch کے بعد $18 billion سے زیادہ DEX trading volume حاصل کیا ہے، جبکہ اس کا TVL $840 million سے زیادہ ہو چکا ہے۔ یہ اعداد ظاہر کرتے ہیں کہ Robinhood صرف ایک traditional investment app تک محدود رہنے کے بجائے crypto infrastructure میں بھی اپنی موجودگی بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے۔ آخر میں UK میں 50 سے زیادہ cryptocurrencies، zero trading fees اور AI-powered market insights کا combination Robinhood کے لیے ایک مضبوط crypto offering بن سکتا ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا کم fees اور آسان access واقعی زیادہ UK investors کو crypto market میں لے آئیں گے؟ اگر ایسا ہوتا ہے تو Robinhood کا یہ قدم برطانیہ میں crypto adoption اور competition، دونوں کے لیے اہم ثابت ہو سکتا ہے۔ نوٹ: Crypto assets کی قیمتیں تیزی سے اوپر نیچے ہو سکتی ہیں۔ کسی بھی investment سے پہلے اپنی تحقیق ضرور کریں۔ #SICryptoNews #Robinhood #bitcoin $XRP $LINK
Bitcoin’s BIP-110 Fork Stalls After Just Two Blocks as the Split Widens Bitcoin’s ongoing BIP-110 dispute has reached an interesting point. The minority chain supporting BIP-110 has produced only two blocks and then effectively stalled, while the main Bitcoin chain has continued moving forward at its normal pace. According to the latest figures, the BIP-110 chain was still sitting at block 961,633, while Bitcoin’s dominant main chain had reached block 961,744. That puts the two chains 111 blocks apart. Very Little Mining Support The biggest issue for BIP-110 right now is mining support. Since mandatory signaling began, the main Bitcoin chain had produced 113 blocks without a single block signaling support for BIP-110. That is a strong indication that the overwhelming majority of mining activity remains on the existing Bitcoin chain. OCEAN’s BIP-110 endpoint was showing around 257 PH/s of hash power. Even with that mining power, however, the fork reportedly went roughly 17 hours without producing another block. For a network designed around roughly ten-minute block intervals, that is a significant slowdown. #SICryptoNews #BIP110ForkSignalingExpectedThisWeekend $LINK $ETH $SOL
Bitcoin کے BIP-110 fork کو miners کی بہت کم support مل رہی ہے۔ Fork صرف 2 blocks کے بعد رک گیا، جبکہ
Bitcoin نیٹ ورک پر BIP-110 کے حوالے سے جاری تنازعہ ایک دلچسپ مرحلے میں داخل ہو گیا ہے۔ BIP-110 کو سپورٹ کرنے والی ایک minority chain نے صرف دو blocks بنانے کے بعد آگے بڑھنا تقریباً روک دیا ہے، جبکہ Bitcoin کی main chain معمول کے مطابق آگے بڑھ رہی ہے۔ تازہ صورتحال کے مطابق BIP-110 chain block 961,633 پر رکی ہوئی تھی، جبکہ Bitcoin کی main chain block 961,744 تک پہنچ چکی تھی۔ اس طرح دونوں chains کے درمیان تقریباً 111 blocks کا فرق پیدا ہوگیا۔ BIP-110 کو miners کی کتنی support مل رہی ہے؟ یہاں سب سے اہم بات mining support ہے۔ BIP-110 کے mandatory signaling شروع ہونے کے بعد main Bitcoin chain پر بننے والے پہلے 113 blocks میں سے کسی ایک نے بھی BIP-110 کو signal نہیں کیا۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس وقت Bitcoin کی زیادہ تر mining power main chain کے ساتھ کھڑی ہے۔ OCEAN کے مطابق BIP-110 endpoint پر تقریباً 257 PH/s hash power موجود تھی، لیکن اس کے باوجود تقریباً 17 گھنٹے تک کوئی نیا BIP-110 block نہیں بن سکا۔ یہ صورتحال اس fork کے لیے ایک بڑا مسئلہ ہے۔ Fork آگے کیوں نہیں بڑھ رہا؟ اصل مسئلہ Bitcoin کی mining difficulty ہے۔ BIP-110 chain نے وہی mining difficulty inherit کی جو Bitcoin کی main chain استعمال کر رہی ہے۔ جب کسی chain کے پاس mining power بہت کم رہ جائے تو اتنی ہی difficulty پر نئے blocks تلاش کرنا انتہائی مشکل ہو جاتا ہے۔ Bitcoin عام طور پر ہر 2,016 blocks کے بعد difficulty adjust کرتا ہے۔ لیکن BIP-110 chain نے موجودہ period میں صرف دو blocks بنائے ہیں۔ اسی لیے اگر اس chain کو مزید miners کی support نہیں ملتی تو اگلا difficulty adjustment حاصل کرنا بہت مشکل اور وقت طلب ہوسکتا ہے۔ کیا Bitcoin holders کو پریشان ہونا چاہیے؟ اس وقت Bitcoin کی main chain واضح طور پر زیادہ mining support حاصل کر رہی ہے، اس لیے BIP-110 کا رک جانا Bitcoin کی main chain کے ختم ہونے کا مطلب نہیں ہے۔ البتہ fork کے دوران ایک اہم چیز replay risk ہے۔ اگر کسی user کے پاس fork سے پہلے کے coins موجود ہیں اور وہ minority chain پر transaction کرنے کا فیصلہ کرتا ہے تو مناسب احتیاط کے بغیر وہ transaction دوسری chain پر بھی replay ہوسکتی ہے۔ اسی لیے ایسے حالات میں users کو اپنی Bitcoin transactions کے بارے میں خاص احتیاط کرنی چاہیے۔ آگے کیا ہوگا؟ BIP-110 کے mandatory signaling کا مرحلہ ابھی block heights کی ایک مخصوص range تک جاری رہنا ہے۔ لیکن موجودہ صورتحال میں اصل سوال یہ ہے کہ کیا مزید miners اس fork کی طرف hash power منتقل کریں گے یا نہیں۔ اگر mining support موجودہ سطح کے قریب ہی رہی تو BIP-110 chain کے لیے Bitcoin کی main chain کے برابر رفتار سے آگے بڑھنا انتہائی مشکل ہوگا۔ فی الحال صورتحال کافی واضح ہے: BIP-110 fork موجود ہے، لیکن Bitcoin کی main chain کے مقابلے میں اسے بہت کم mining support مل رہی ہے۔ #SICryptoNews #bitcoin #BIP110 $XRP