برطانیہ میں صرف 240 کرپٹو ملینئرز نے آدھے سے زیادہ ٹیکس ایبل منافع کمایا
برطانیہ میں کرپٹو سے متعلق ایک دلچسپ تصویر پہلی بار سرکاری اعداد و شمار کے ذریعے سامنے آئی ہے۔ برطانوی ٹیکس اتھارٹی HMRC کے مطابق، ملک میں کرپٹو سے ہونے والے بڑے منافع کا ایک بہت بڑا حصہ صرف چند افراد کے پاس ہے۔ 2024-25 کے ٹیکس سال میں تقریباً 17,600 افراد نے کرپٹو اثاثوں کی فروخت یا ڈسپوزل رپورٹ کی۔ ان میں سے صرف 240 افراد نے ایک ایک ملین پاؤنڈ سے زیادہ کا منافع ظاہر کیا۔ ان 240 افراد کا مجموعی منافع تقریباً £717 ملین رہا۔ یہ تعداد کل کرپٹو ٹیکس دہندگان کے 2 فیصد سے بھی کم بنتی ہے، لیکن حیران کن بات یہ ہے کہ ان لوگوں نے مجموعی طور پر رپورٹ کیے گئے £1.38 بلین کرپٹو منافع کا نصف سے زیادہ کمایا۔ عام سرمایہ کار کہاں کھڑے ہیں؟ دوسری طرف تصویر بالکل مختلف ہے۔ تقریباً 65 فیصد افراد نے £25,000 سے کم کرپٹو منافع رپورٹ کیا۔ یعنی کرپٹو مارکیٹ میں زیادہ تر لوگ بہت بڑے منافع نہیں کما رہے۔ بڑے منافع کا ایک نمایاں حصہ چند بڑے سرمایہ کاروں یا ملینئرز کے پاس مرکوز ہے۔ یہ صورتحال ہمیں یہ بھی بتاتی ہے کہ کرپٹو مارکیٹ میں صرف Bitcoin یا کسی دوسرے ٹوکن کی قیمت بڑھنا ہی پوری کہانی نہیں ہے۔ اصل فرق سرمایہ کاری کی مقدار، خریداری کے وقت اور مارکیٹ میں موجود سرمایہ سے بھی پڑتا ہے۔ کرپٹو سرمایہ کار عام ٹیکس دہندگان سے مختلف ہیں HMRC کے اعداد و شمار میں ایک اور دلچسپ پہلو سامنے آیا۔ کرپٹو سے متعلق ٹیکس رپورٹ کرنے والوں میں 54 فیصد افراد کی عمر 25 سے 44 سال کے درمیان تھی۔ اس کے مقابلے میں عام Capital Gains Tax population میں یہ تناسب صرف 17 فیصد بتایا گیا ہے۔ کرپٹو سرمایہ کاروں میں مردوں کی تعداد بھی نمایاں طور پر زیادہ رہی۔ تقریباً 87 فیصد کرپٹو ٹیکس دہندگان مرد تھے، جبکہ مجموعی Capital Gains Tax population میں یہ شرح 56 فیصد تھی۔ حکومت کی نظر اب کرپٹو پر زیادہ ہے برطانیہ میں کرپٹو ٹیکس رپورٹنگ کا نظام بھی تبدیل ہو رہا ہے۔ نئے عالمی Cryptoasset Reporting Framework کے تحت کرپٹو سروس فراہم کرنے والوں سے صارفین کے متعلق معلومات ٹیکس حکام کے ساتھ شیئر کرنے کی توقع ہے۔ HMRC کو یہ معلومات 2027 سے ملنا شروع ہوں گی۔ اس کا مطلب سادہ الفاظ میں یہ ہے کہ آنے والے وقت میں کرپٹو ٹریڈنگ کو چھپانا پہلے کے مقابلے میں زیادہ مشکل ہو سکتا ہے۔ سرمایہ کاروں کے لیے اپنی خریداری، فروخت، منافع اور نقصان کا ریکارڈ محفوظ رکھنا پہلے سے زیادہ اہم ہوگا۔ اس کا کرپٹو مارکیٹ پر کیا اثر پڑ سکتا ہے؟ مختصر مدت میں زیادہ ٹیکس اور رپورٹنگ کچھ سرمایہ کاروں کے لیے دباؤ پیدا کر سکتی ہے۔ لیکن طویل مدت میں واضح قوانین مارکیٹ کے لیے مثبت بھی ثابت ہو سکتے ہیں۔ جب حکومتیں کرپٹو کے لیے واضح قوانین بناتی ہیں تو بڑے مالیاتی اداروں اور سنجیدہ سرمایہ کاروں کے لیے اس شعبے میں داخل ہونا نسبتاً آسان ہو سکتا ہے۔ برطانیہ کی یہ رپورٹ ایک بات واضح کرتی ہے: کرپٹو اب صرف ایک چھوٹی ٹیکنالوجی نہیں رہی۔ حکومتیں اسے باقاعدہ مالیاتی اثاثے کے طور پر دیکھ رہی ہیں، اور اس کے ساتھ ٹیکس اور رپورٹنگ بھی تیزی سے اہم ہوتی جا رہی ہے #SICryptoNews #bitcoin #memecoin🚀🚀🚀
امریکی بینک اپنا بلاک چین نیٹ ورک بنانے کی تیاری میں — کرپٹو مارکیٹ کے لیے کیا مطلب ہے؟
امریکہ کا روایتی بینکنگ سیکٹر اب بلاک چین ٹیکنالوجی کو صرف ایک تجربہ نہیں سمجھ رہا۔ تازہ پیش رفت کے مطابق، 39 ریاستی بینکنگ ایسوسی ایشنز نے مل کر BankChain Alliance تشکیل دیا ہے، جو تقریباً 3,283 امریکی بینکوں کی نمائندگی کرتی ہے۔ ان بینکوں کے مجموعی اثاثے تقریباً 21.8 ٹریلین ڈالر بتائے گئے ہیں۔
GTA VI لیکس سے منسلک Meme Coin CYBERLEEK کی حیران کن ریلی
کبھی کبھی کرپٹو مارکیٹ میں ایسی خبریں سامنے آتی ہیں جن کا تعلق صرف کرپٹو سے نہیں ہوتا، بلکہ گیمنگ، سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ کلچر بھی ان میں شامل ہو جاتے ہیں۔ CYBERLEEK کی حالیہ کہانی بھی کچھ ایسی ہی ہے۔ GTA VI کے مبینہ لیکس سے منسلک اس Solana-based meme coin نے بہت کم وقت میں غیر معمولی تیزی دکھائی۔ رپورٹ کے مطابق، صرف 24 گھنٹوں میں CYBERLEEK کی قیمت تقریباً 35 فیصد بڑھی، جبکہ گزشتہ سات دنوں میں اس کا اضافہ تقریباً 40,000 فیصد تک پہنچ گیا۔
X کی Stablecoin Payments پر نظر: Creators کو USDC میں ادائیگی؟
سوشل میڈیا پلیٹ فارم X اپنے creators کے لیے payments کے نظام میں ایک بڑی تبدیلی پر غور کر رہا ہے۔ رپورٹس کے مطابق X، content creators کو royalties اور rewards ادا کرنے کے لیے stablecoins، خاص طور پر USDC، استعمال کرنے پر بات چیت کر رہا ہے۔ اگر یہ منصوبہ حقیقت بن جاتا ہے تو creators کے لیے payments کا طریقہ کافی بدل سکتا ہے۔ Stablecoins چونکہ امریکی ڈالر کے ساتھ منسلک ہوتے ہیں، اس لیے ان کی قیمت عام cryptocurrencies کے مقابلے میں زیادہ مستحکم رہنے کی کوشش کرتی ہے۔ اسی وجہ سے انہیں تیز اور کم لاگت payments کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔