Binance Square
User-ff896
104 投稿

User-ff896

取引を発注
5.3年
37 フォロー
92 フォロワー
102 いいね
投稿
ポートフォリオ
·
--
翻訳参照
🇵🇰 14 اگست، جشنِ آزادی مبارک! 🇵🇰 یہ وطن ہماری پہچان، ہماری شان اور ہماری ذمہ داری ہے۔ آئیں عہد کریں کہ پاکستان کی ترقی، خوشحالی اور سربلندی کے لیے اپنا کردار ادا کریں گے۔ پاکستان زندہ باد! 🇵🇰 #PakistanZindabad
🇵🇰 14 اگست، جشنِ آزادی مبارک! 🇵🇰

یہ وطن ہماری پہچان، ہماری شان اور ہماری ذمہ داری ہے۔

آئیں عہد کریں کہ پاکستان کی ترقی، خوشحالی اور سربلندی کے لیے اپنا کردار ادا کریں گے۔

پاکستان زندہ باد! 🇵🇰

#PakistanZindabad
翻訳参照
وجہ اسکی شاید یہ ہے کہ ملزم کا کہنا تھا کہ پولیس نے شناخت پریڈ سے قبل اسے مقتولہ کے باپ کو دکھا دیا تھا۔ یوں شناخت پریڈ کے اس ثبوت کو مشکوک سمجھ کر رد کر دیا جائے تو پیچھے صرف ایک واقعاتی شہادت، یعنی جوتا فِٹ آنا، باقی رہ جاتی ہے، جو پھانسی کی سزا کے لیے شاید ناکافی تھی۔ مگر اس کیس میں پھانسی کی جگہ عمر قید دینے کی گنجائش نہ تھی، اور بری کر دینا میرے ضمیر کو گوارا نہ تھا۔ دل کہتا تھا کہ یہی مجرم ہے، لیکن دماغ وسوسے پیدا کرتا تھا۔ جج کمپیوٹر مشین نہیں ہوتا۔ یہ درست ہے کہ اسے اپنا ذہن پورا استعمال کرنا پڑتا ہے، لیکن فیصلہ بالآخر اس کا دل یا ضمیر ہی کرتا ہے۔ بہرحال، میں نے اسکی سزا بحال رکھی اور سپریم کورٹ سے بھی اسکی اپیل خارج ہوئی اور سزائے موت برقرار رہی، جس پر بعد میں عمل درآمد بھی ہوا۔" ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ☆ یہ قریب نصف صدی پرانا کیس ہے۔ اس وقت بھی یہ کیس اخبارات میں ہائی لائٹ ہوا۔ لیکن کیا وجہ ہے کہ جعلی عاملین کا کاروبار وقت کے ساتھ بڑھتا ہی گیا؟؟؟ #کورٹ_کہانی از: محمد رضوان ایڈووکیٹ ہائیکور
وجہ اسکی شاید یہ ہے کہ ملزم کا کہنا تھا کہ پولیس نے شناخت پریڈ سے قبل اسے مقتولہ کے باپ کو دکھا دیا تھا۔ یوں شناخت پریڈ کے اس ثبوت کو مشکوک سمجھ کر رد کر دیا جائے تو پیچھے صرف ایک واقعاتی شہادت، یعنی جوتا فِٹ آنا، باقی رہ جاتی ہے، جو پھانسی کی سزا کے لیے شاید ناکافی تھی۔

مگر اس کیس میں پھانسی کی جگہ عمر قید دینے کی گنجائش نہ تھی، اور بری کر دینا میرے ضمیر کو گوارا نہ تھا۔ دل کہتا تھا کہ یہی مجرم ہے، لیکن دماغ وسوسے پیدا کرتا تھا۔ جج کمپیوٹر مشین نہیں ہوتا۔ یہ درست ہے کہ اسے اپنا ذہن پورا استعمال کرنا پڑتا ہے، لیکن فیصلہ بالآخر اس کا دل یا ضمیر ہی کرتا ہے۔ بہرحال، میں نے اسکی سزا بحال رکھی اور سپریم کورٹ سے بھی اسکی اپیل خارج ہوئی اور سزائے موت برقرار رہی، جس پر بعد میں عمل درآمد بھی ہوا۔"
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
☆ یہ قریب نصف صدی پرانا کیس ہے۔ اس وقت بھی یہ کیس اخبارات میں ہائی لائٹ ہوا۔ لیکن کیا وجہ ہے کہ جعلی عاملین کا کاروبار وقت کے ساتھ بڑھتا ہی گیا؟؟؟

#کورٹ_کہانی از: محمد رضوان ایڈووکیٹ ہائیکور
翻訳参照
اور اس دوران جنسی حملے بھی کرتا رہتا۔ کہتا کہ چالیس دن کے بعد بچہ بالکل صحت یاب ہو جائے گا۔ راہب کو گرفتار کر لیا گیا۔ اسے جھنگ سے قبضے میں لیا گیا جوتا پہنایا گیا، جو نہ صرف اسے فِٹ آیا بلکہ اسکے پاؤں میں "چنڈی" بھی اسی مقام پر تھی جہاں سے جوتا پھٹا ہوا تھا۔ ملزم کی شناخت پریڈ کروائی گئی، جس میں مقتولہ کے والد نے اسے شناخت کر لیا کہ راہب ہی دراصل عامل ہے۔ حالانکہ بقول اسکے، عامل کی تو داڑھی تھی اور پگڑی باندھتا تھا، مگر راہب داڑھی منڈا اور ننگے سر تھا۔ بہرحال، مقتولہ کی ماں اسے نئے روپ میں نہ پہچان سکی۔ لاہور سیشن کورٹ میں زیور ہتھیانے، لڑکی کے اغوا اور قتل کا مقدمہ چلا۔ ملزم نے ارتکابِ جرم سے انکار کیا۔ ٹرائل کورٹ کے فیصلے کے مطابق مقتولہ کے باپ کی شناخت، جوتے کا فِٹ آنا، اور ملزم کے طریقۂ واردات میں یکسانیت، یعنی عورتوں کو اپنے دام میں پھنسانا اور جادو اور روحانی علاج کا ڈھونگ رچانا، ان تمام واقعاتی شواہد سے ملزم کا گناہ گار ہونا یقینی ہے۔ ملزم کو سزائے موت سنائی گئی۔ ملزم نے لاہور ہائیکورٹ میں اپیل کی، جو فرزندِ علامہ اقبال، جسٹس جاوید اقبال (مرحوم) کے بنچ میں لگی۔ وہ لکھتے ہیں: "اس کیس میں قتل کا کوئی عینی شاہد نہ تھا، سارا کیس واقعاتی شہادت پر مبنی تھا۔ مجھے یہ کیس آج تک کھٹکتا رہا ہے۔
اور اس دوران جنسی حملے بھی کرتا رہتا۔ کہتا کہ چالیس دن کے بعد بچہ بالکل صحت یاب ہو جائے گا۔

راہب کو گرفتار کر لیا گیا۔ اسے جھنگ سے قبضے میں لیا گیا جوتا پہنایا گیا، جو نہ صرف اسے فِٹ آیا بلکہ اسکے پاؤں میں "چنڈی" بھی اسی مقام پر تھی جہاں سے جوتا پھٹا ہوا تھا۔ ملزم کی شناخت پریڈ کروائی گئی، جس میں مقتولہ کے والد نے اسے شناخت کر لیا کہ راہب ہی دراصل عامل ہے۔ حالانکہ بقول اسکے، عامل کی تو داڑھی تھی اور پگڑی باندھتا تھا، مگر راہب داڑھی منڈا اور ننگے سر تھا۔ بہرحال، مقتولہ کی ماں اسے نئے روپ میں نہ پہچان سکی۔

لاہور سیشن کورٹ میں زیور ہتھیانے، لڑکی کے اغوا اور قتل کا مقدمہ چلا۔ ملزم نے ارتکابِ جرم سے انکار کیا۔ ٹرائل کورٹ کے فیصلے کے مطابق مقتولہ کے باپ کی شناخت، جوتے کا فِٹ آنا، اور ملزم کے طریقۂ واردات میں یکسانیت، یعنی عورتوں کو اپنے دام میں پھنسانا اور جادو اور روحانی علاج کا ڈھونگ رچانا، ان تمام واقعاتی شواہد سے ملزم کا گناہ گار ہونا یقینی ہے۔ ملزم کو سزائے موت سنائی گئی۔

ملزم نے لاہور ہائیکورٹ میں اپیل کی، جو فرزندِ علامہ اقبال، جسٹس جاوید اقبال (مرحوم) کے بنچ میں لگی۔ وہ لکھتے ہیں:

"اس کیس میں قتل کا کوئی عینی شاہد نہ تھا، سارا کیس واقعاتی شہادت پر مبنی تھا۔ مجھے یہ کیس آج تک کھٹکتا رہا ہے۔
翻訳参照
حالانکہ عامل کے جوتے کمرے کے باہر معمول کے مطابق پڑے ہوئے تھے، ہم نے پریشان ہو کر کھڑکی سے اندر جھانکا۔ کمرے سے عامل، بیٹی اور زیورات کی پوٹلی غائب تھی، واضح تھا کہ عامل کھڑکی کے راستے ہماری بیٹی اور زیورات لے کر فرار ہو چکا ہے۔ میں نے مقامی تھانے میں اغوا کی رپورٹ لکھوائی، لیکن پولیس نے یہ کہہ کر دلچسپی نہ لی کہ لڑکی بالغ ہے، اپنی مرضی سے بھاگ گئی ہوگی۔ ہم بے بس ہو کر بیٹھ گئے۔ اتنے میں اخبار میں بیٹی کی تصویر اور قتل کی خبر پڑھ کر آپ کے پاس پہنچا ہوں۔" اس بیان کی روشنی میں شاہدرہ پولیس نے گڑھ مہاراجہ میں موقع کا معائنہ کیا اور ملزم کا جوتا قبضے میں لیا۔ سیالکوٹ کے جس قبرستان میں عامل کا اڈہ تھا، وہاں سے اسکی معلومات لینے کی کوشش کی گئی، لیکن کامیابی نہ ہوئی۔ بالآخر پولیس نے جہاں (شاہدرہ) سے لاش ملی تھی، وہاں تلاش شروع کر دی۔ وہاں معلوم ہوا کہ ملحقہ مسیحی آبادی میں ایک نوجوان عورت اپنے معذور بچے کو کوارٹر میں اکیلا چھوڑ کر اسکا علاج کروانے کے لیے کسی مقامی راہب (پادری) کے پاس گئی تھی مگر واپس نہیں لوٹی۔ پولیس نے راہب کا اتا پتا معلوم کر کے قریب کی آبادی سے الگ تھلگ اسکی جھونپڑی پر چھاپہ مارا اور مسیحی عورت کو برآمد کر لیا۔ اس عورت نے بیان دیا کہ راہب نے بچے کے علاج کے بہانے اس کا زیور اور پیسے ہتھیا لیے ہیں۔ اسے ایک چارپائی سے باندھ کر جادو کا عمل کرتا ۔ جاری
حالانکہ عامل کے جوتے کمرے کے باہر معمول کے مطابق پڑے ہوئے تھے، ہم نے پریشان ہو کر کھڑکی سے اندر جھانکا۔ کمرے سے عامل، بیٹی اور زیورات کی پوٹلی غائب تھی، واضح تھا کہ عامل کھڑکی کے راستے ہماری بیٹی اور زیورات لے کر فرار ہو چکا ہے۔ میں نے مقامی تھانے میں اغوا کی رپورٹ لکھوائی، لیکن پولیس نے یہ کہہ کر دلچسپی نہ لی کہ لڑکی بالغ ہے، اپنی مرضی سے بھاگ گئی ہوگی۔ ہم بے بس ہو کر بیٹھ گئے۔ اتنے میں اخبار میں بیٹی کی تصویر اور قتل کی خبر پڑھ کر آپ کے پاس پہنچا ہوں۔"

اس بیان کی روشنی میں شاہدرہ پولیس نے گڑھ مہاراجہ میں موقع کا معائنہ کیا اور ملزم کا جوتا قبضے میں لیا۔ سیالکوٹ کے جس قبرستان میں عامل کا اڈہ تھا، وہاں سے اسکی معلومات لینے کی کوشش کی گئی، لیکن کامیابی نہ ہوئی۔ بالآخر پولیس نے جہاں (شاہدرہ) سے لاش ملی تھی، وہاں تلاش شروع کر دی۔ وہاں معلوم ہوا کہ ملحقہ مسیحی آبادی میں ایک نوجوان عورت اپنے معذور بچے کو کوارٹر میں اکیلا چھوڑ کر اسکا علاج کروانے کے لیے کسی مقامی راہب (پادری) کے پاس گئی تھی مگر واپس نہیں لوٹی۔

پولیس نے راہب کا اتا پتا معلوم کر کے قریب کی آبادی سے الگ تھلگ اسکی جھونپڑی پر چھاپہ مارا اور مسیحی عورت کو برآمد کر لیا۔ اس عورت نے بیان دیا کہ راہب نے بچے کے علاج کے بہانے اس کا زیور اور پیسے ہتھیا لیے ہیں۔ اسے ایک چارپائی سے باندھ کر جادو کا عمل کرتا ۔ جاری
翻訳参照
لاہور، شاہدرہ ریلوے اسٹیشن کے قریب سے ایک نہایت خوبصورت لڑکی کی لاش ملی۔ اس لڑکی کے ہاتھ ازاربند سے بندھے ہوئے تھے اور اسی کے دوپٹے سے گلا گھونٹ کر اسے مارا گیا تھا۔ لاش کی فوری شناخت نہ ہونے پر پولیس نے اسے امانتاً دفنا دیا اور لڑکی کی تصویر اخبارات میں چھپوا دی۔ کچھ دنوں بعد گڑھ مہاراجہ، جھنگ سے لڑکی کا والد شاہدرہ تھانے پہنچا اور بتایا کہ تصویر اسکی بیٹی کی ہے۔ اس نے واقعے کی تفصیل پولیس کو یوں بیان کی:_ "میں پڑھا لکھا ہوں، میں نے اپنی اولاد کو بھی پڑھایا لکھایا۔ میری یہ بیٹی اکثر بیمار رہتی اور اسے غشی کے دورے پڑتے تھے۔ روایتی علاج سے کوئی فائدہ نہ ہوا تو میری بیوی کو لگا کہ لڑکی پر کسی کا سایہ ہے۔ بیوی کے اصرار پر میں سیالکوٹ کے ایک قبرستان سے 'بے شاہ' نامی ایک عامل پیر کو گڑھ مہاراجہ اپنے گھر لے آیا۔ عامل کی ہدایت کے مطابق اسے ایک علیحدہ کمرہ دیا گیا، جہاں وہ رات دو بجے سے فجر کی اذان تک لڑکی کے ساتھ مصلے پر بیٹھ کر اپنا 'عمل' کرتا تھا۔ چند دن گزرنے کے بعد عامل نے پیسوں کی بارش اور نوٹ دوگنا کرنے کا کرشمہ دکھا کر ہمارا اعتماد حاصل کر لیا۔ اسی لالچ میں آ کر میری بیوی نے اپنے سونے کے تمام زیورات بھی دوگنے کروانے کی غرض سے ایک پوٹلی میں باندھ کر مصلے کے نیچے رکھ دیے۔ اگلی صبح کافی دیر تک بیٹی کمرے سے باہر نہ آئی، . جاری
لاہور، شاہدرہ ریلوے اسٹیشن کے قریب سے ایک نہایت خوبصورت لڑکی کی لاش ملی۔ اس لڑکی کے ہاتھ ازاربند سے بندھے ہوئے تھے اور اسی کے دوپٹے سے گلا گھونٹ کر اسے مارا گیا تھا۔ لاش کی فوری شناخت نہ ہونے پر پولیس نے اسے امانتاً دفنا دیا اور لڑکی کی تصویر اخبارات میں چھپوا دی۔ کچھ دنوں بعد گڑھ مہاراجہ، جھنگ سے لڑکی کا والد شاہدرہ تھانے پہنچا اور بتایا کہ تصویر اسکی بیٹی کی ہے۔ اس نے واقعے کی تفصیل پولیس کو یوں بیان کی:_

"میں پڑھا لکھا ہوں، میں نے اپنی اولاد کو بھی پڑھایا لکھایا۔ میری یہ بیٹی اکثر بیمار رہتی اور اسے غشی کے دورے پڑتے تھے۔ روایتی علاج سے کوئی فائدہ نہ ہوا تو میری بیوی کو لگا کہ لڑکی پر کسی کا سایہ ہے۔ بیوی کے اصرار پر میں سیالکوٹ کے ایک قبرستان سے 'بے شاہ' نامی ایک عامل پیر کو گڑھ مہاراجہ اپنے گھر لے آیا۔ عامل کی ہدایت کے مطابق اسے ایک علیحدہ کمرہ دیا گیا، جہاں وہ رات دو بجے سے فجر کی اذان تک لڑکی کے ساتھ مصلے پر بیٹھ کر اپنا 'عمل' کرتا تھا۔

چند دن گزرنے کے بعد عامل نے پیسوں کی بارش اور نوٹ دوگنا کرنے کا کرشمہ دکھا کر ہمارا اعتماد حاصل کر لیا۔ اسی لالچ میں آ کر میری بیوی نے اپنے سونے کے تمام زیورات بھی دوگنے کروانے کی غرض سے ایک پوٹلی میں باندھ کر مصلے کے نیچے رکھ دیے۔ اگلی صبح کافی دیر تک بیٹی کمرے سے باہر نہ آئی، . جاری
翻訳参照
Ap kis ko vote dain gy ??? #shortsviral #crises #suigas #viralchallenge #crowdfireapp #viralworld COMEXGoldFalls1.41%To$4107.2
Ap kis ko vote dain gy ??? #shortsviral #crises #suigas #viralchallenge #crowdfireapp #viralworld COMEXGoldFalls1.41%To$4107.2
翻訳参照
翻訳参照
good night
good night
翻訳参照
AI ka kamal SPCXFalls17.44%InPreMarketTo$148.34
AI ka kamal SPCXFalls17.44%InPreMarketTo$148.34
翻訳参照
Happy new islamic year 2026
Happy new islamic year 2026
翻訳参照
happy new year WTIFallsBelow$80
happy new year WTIFallsBelow$80
翻訳参照
ADAHits$0.15FiveYearLow new
ADAHits$0.15FiveYearLow new
翻訳参照
Eid Mubarik 🦙🇵🇰🐑
Eid Mubarik 🦙🇵🇰🐑
イスラマバード:全国でイード・アル=アドハーが5月27日に宗教的な熱意を持って祝われる予定で、今年のイードの公式休暇は5日から6日間になる可能性があるとのことです。 詳細によると、中央ルイット・エル・ヒラール委員会は、第1447年のズルヒッジの月の確認を行い、その後、国でイード・アル=アドハーを5月27日(水曜日)に祝うことを発表しました。 月が見えると、市民はイードの休暇と旅行の計画を始めました。公式カレンダーによると、イードの休暇は5月27日から29日(水曜日から金曜日)までで、土曜日と日曜日の週末の休暇と合わせて合計5日間の休暇になります。 しかし、政府の情報源によると、郊外に住む人々を考慮して、休暇はおそらく前日の5月26日(火曜日)から始まる可能性があり、これにより休暇の期間は6日間に延長されることがあります。 この件に関して、国民は連邦政府の最終通知を待っています。 なお、中央ルイット・エル・ヒラール委員会の議長、モウラナ・アブドゥルカビール・アザードは、国内のさまざまな地域から寄せられた宗教的証言に基づき、ズルヒッジの1日目を5月18日(月曜日)とすることを伝えました。
イスラマバード:全国でイード・アル=アドハーが5月27日に宗教的な熱意を持って祝われる予定で、今年のイードの公式休暇は5日から6日間になる可能性があるとのことです。

詳細によると、中央ルイット・エル・ヒラール委員会は、第1447年のズルヒッジの月の確認を行い、その後、国でイード・アル=アドハーを5月27日(水曜日)に祝うことを発表しました。

月が見えると、市民はイードの休暇と旅行の計画を始めました。公式カレンダーによると、イードの休暇は5月27日から29日(水曜日から金曜日)までで、土曜日と日曜日の週末の休暇と合わせて合計5日間の休暇になります。

しかし、政府の情報源によると、郊外に住む人々を考慮して、休暇はおそらく前日の5月26日(火曜日)から始まる可能性があり、これにより休暇の期間は6日間に延長されることがあります。

この件に関して、国民は連邦政府の最終通知を待っています。

なお、中央ルイット・エル・ヒラール委員会の議長、モウラナ・アブドゥルカビール・アザードは、国内のさまざまな地域から寄せられた宗教的証言に基づき、ズルヒッジの1日目を5月18日(月曜日)とすることを伝えました。
一度唱えてください。
一度唱えてください。
情報提供
情報提供
パキスタンは、国連事務総長がすべきことをやっています。アショク・スウェイン、
パキスタンは、国連事務総長がすべきことをやっています。アショク・スウェイン、
ログインして、さらにコンテンツを読む
厳選トピックで世界の暗号資産トレーダーの仲間入り
⚡️ 暗号資産に関する最新かつ有益な情報が見つかります。
💬 世界最大の暗号資産取引所から信頼されています。
👍 認証を受けたクリエイターから、有益なインサイトを得られます。
メール / 電話番号
サイトマップ
Cookieの設定
プラットフォーム利用規約