وجہ اسکی شاید یہ ہے کہ ملزم کا کہنا تھا کہ پولیس نے شناخت پریڈ سے قبل اسے مقتولہ کے باپ کو دکھا دیا تھا۔ یوں شناخت پریڈ کے اس ثبوت کو مشکوک سمجھ کر رد کر دیا جائے تو پیچھے صرف ایک واقعاتی شہادت، یعنی جوتا فِٹ آنا، باقی رہ جاتی ہے، جو پھانسی کی سزا کے لیے شاید ناکافی تھی۔
مگر اس کیس میں پھانسی کی جگہ عمر قید دینے کی گنجائش نہ تھی، اور بری کر دینا میرے ضمیر کو گوارا نہ تھا۔ دل کہتا تھا کہ یہی مجرم ہے، لیکن دماغ وسوسے پیدا کرتا تھا۔ جج کمپیوٹر مشین نہیں ہوتا۔ یہ درست ہے کہ اسے اپنا ذہن پورا استعمال کرنا پڑتا ہے، لیکن فیصلہ بالآخر اس کا دل یا ضمیر ہی کرتا ہے۔ بہرحال، میں نے اسکی سزا بحال رکھی اور سپریم کورٹ سے بھی اسکی اپیل خارج ہوئی اور سزائے موت برقرار رہی، جس پر بعد میں عمل درآمد بھی ہوا۔" ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ☆ یہ قریب نصف صدی پرانا کیس ہے۔ اس وقت بھی یہ کیس اخبارات میں ہائی لائٹ ہوا۔ لیکن کیا وجہ ہے کہ جعلی عاملین کا کاروبار وقت کے ساتھ بڑھتا ہی گیا؟؟؟
اور اس دوران جنسی حملے بھی کرتا رہتا۔ کہتا کہ چالیس دن کے بعد بچہ بالکل صحت یاب ہو جائے گا۔
راہب کو گرفتار کر لیا گیا۔ اسے جھنگ سے قبضے میں لیا گیا جوتا پہنایا گیا، جو نہ صرف اسے فِٹ آیا بلکہ اسکے پاؤں میں "چنڈی" بھی اسی مقام پر تھی جہاں سے جوتا پھٹا ہوا تھا۔ ملزم کی شناخت پریڈ کروائی گئی، جس میں مقتولہ کے والد نے اسے شناخت کر لیا کہ راہب ہی دراصل عامل ہے۔ حالانکہ بقول اسکے، عامل کی تو داڑھی تھی اور پگڑی باندھتا تھا، مگر راہب داڑھی منڈا اور ننگے سر تھا۔ بہرحال، مقتولہ کی ماں اسے نئے روپ میں نہ پہچان سکی۔
لاہور سیشن کورٹ میں زیور ہتھیانے، لڑکی کے اغوا اور قتل کا مقدمہ چلا۔ ملزم نے ارتکابِ جرم سے انکار کیا۔ ٹرائل کورٹ کے فیصلے کے مطابق مقتولہ کے باپ کی شناخت، جوتے کا فِٹ آنا، اور ملزم کے طریقۂ واردات میں یکسانیت، یعنی عورتوں کو اپنے دام میں پھنسانا اور جادو اور روحانی علاج کا ڈھونگ رچانا، ان تمام واقعاتی شواہد سے ملزم کا گناہ گار ہونا یقینی ہے۔ ملزم کو سزائے موت سنائی گئی۔
ملزم نے لاہور ہائیکورٹ میں اپیل کی، جو فرزندِ علامہ اقبال، جسٹس جاوید اقبال (مرحوم) کے بنچ میں لگی۔ وہ لکھتے ہیں:
"اس کیس میں قتل کا کوئی عینی شاہد نہ تھا، سارا کیس واقعاتی شہادت پر مبنی تھا۔ مجھے یہ کیس آج تک کھٹکتا رہا ہے۔
حالانکہ عامل کے جوتے کمرے کے باہر معمول کے مطابق پڑے ہوئے تھے، ہم نے پریشان ہو کر کھڑکی سے اندر جھانکا۔ کمرے سے عامل، بیٹی اور زیورات کی پوٹلی غائب تھی، واضح تھا کہ عامل کھڑکی کے راستے ہماری بیٹی اور زیورات لے کر فرار ہو چکا ہے۔ میں نے مقامی تھانے میں اغوا کی رپورٹ لکھوائی، لیکن پولیس نے یہ کہہ کر دلچسپی نہ لی کہ لڑکی بالغ ہے، اپنی مرضی سے بھاگ گئی ہوگی۔ ہم بے بس ہو کر بیٹھ گئے۔ اتنے میں اخبار میں بیٹی کی تصویر اور قتل کی خبر پڑھ کر آپ کے پاس پہنچا ہوں۔"
اس بیان کی روشنی میں شاہدرہ پولیس نے گڑھ مہاراجہ میں موقع کا معائنہ کیا اور ملزم کا جوتا قبضے میں لیا۔ سیالکوٹ کے جس قبرستان میں عامل کا اڈہ تھا، وہاں سے اسکی معلومات لینے کی کوشش کی گئی، لیکن کامیابی نہ ہوئی۔ بالآخر پولیس نے جہاں (شاہدرہ) سے لاش ملی تھی، وہاں تلاش شروع کر دی۔ وہاں معلوم ہوا کہ ملحقہ مسیحی آبادی میں ایک نوجوان عورت اپنے معذور بچے کو کوارٹر میں اکیلا چھوڑ کر اسکا علاج کروانے کے لیے کسی مقامی راہب (پادری) کے پاس گئی تھی مگر واپس نہیں لوٹی۔
پولیس نے راہب کا اتا پتا معلوم کر کے قریب کی آبادی سے الگ تھلگ اسکی جھونپڑی پر چھاپہ مارا اور مسیحی عورت کو برآمد کر لیا۔ اس عورت نے بیان دیا کہ راہب نے بچے کے علاج کے بہانے اس کا زیور اور پیسے ہتھیا لیے ہیں۔ اسے ایک چارپائی سے باندھ کر جادو کا عمل کرتا ۔ جاری
لاہور، شاہدرہ ریلوے اسٹیشن کے قریب سے ایک نہایت خوبصورت لڑکی کی لاش ملی۔ اس لڑکی کے ہاتھ ازاربند سے بندھے ہوئے تھے اور اسی کے دوپٹے سے گلا گھونٹ کر اسے مارا گیا تھا۔ لاش کی فوری شناخت نہ ہونے پر پولیس نے اسے امانتاً دفنا دیا اور لڑکی کی تصویر اخبارات میں چھپوا دی۔ کچھ دنوں بعد گڑھ مہاراجہ، جھنگ سے لڑکی کا والد شاہدرہ تھانے پہنچا اور بتایا کہ تصویر اسکی بیٹی کی ہے۔ اس نے واقعے کی تفصیل پولیس کو یوں بیان کی:_
"میں پڑھا لکھا ہوں، میں نے اپنی اولاد کو بھی پڑھایا لکھایا۔ میری یہ بیٹی اکثر بیمار رہتی اور اسے غشی کے دورے پڑتے تھے۔ روایتی علاج سے کوئی فائدہ نہ ہوا تو میری بیوی کو لگا کہ لڑکی پر کسی کا سایہ ہے۔ بیوی کے اصرار پر میں سیالکوٹ کے ایک قبرستان سے 'بے شاہ' نامی ایک عامل پیر کو گڑھ مہاراجہ اپنے گھر لے آیا۔ عامل کی ہدایت کے مطابق اسے ایک علیحدہ کمرہ دیا گیا، جہاں وہ رات دو بجے سے فجر کی اذان تک لڑکی کے ساتھ مصلے پر بیٹھ کر اپنا 'عمل' کرتا تھا۔
چند دن گزرنے کے بعد عامل نے پیسوں کی بارش اور نوٹ دوگنا کرنے کا کرشمہ دکھا کر ہمارا اعتماد حاصل کر لیا۔ اسی لالچ میں آ کر میری بیوی نے اپنے سونے کے تمام زیورات بھی دوگنے کروانے کی غرض سے ایک پوٹلی میں باندھ کر مصلے کے نیچے رکھ دیے۔ اگلی صبح کافی دیر تک بیٹی کمرے سے باہر نہ آئی، . جاری