کرپٹو کی دنیا میں ایک بار پھر سیکیورٹی اور ہیکنگ کا معاملہ خبروں میں ہے۔ بڑے کرپٹو ایکسچینج Bybit نے شمالی کوریا، اس کے انٹیلی جنس ادارے Reconnaissance General Bureau اور مبینہ ہیکنگ گروپ Lazarus Group کے خلاف امریکی وفاقی عدالت میں مقدمہ دائر کر دیا ہے۔

یہ کیس فروری 2025 میں ہونے والے اس بڑے سائبر حملے سے متعلق ہے جس میں Bybit سے 4 لاکھ سے زیادہ ETH اور Staked ETH چوری کیے گئے تھے۔ حملے کے وقت ان اثاثوں کی مجموعی مالیت تقریباً 1.5 ارب ڈالر تھی، جس نے اسے کرپٹو تاریخ کی سب سے بڑی چوریوں میں شامل کر دیا۔

امریکی FBI پہلے ہی اس حملے کو شمالی کوریا سے منسلک ہیکرز سے جوڑ چکا ہے۔ حملے کے بعد چوری شدہ فنڈز کو مختلف والٹس، کراس چین سروسز اور کرپٹو مکسنگ سروسز کے ذریعے منتقل کیا گیا، جس کی وجہ سے ان کی ٹریکنگ مزید مشکل ہوتی گئی۔

Bybit نے عدالت سے کیا مطالبہ کیا؟

Bybit نے واشنگٹن ڈی سی کی وفاقی عدالت سے رجوع کرتے ہوئے کچھ ایسے اثاثوں کو عارضی طور پر منجمد کروانے میں کامیابی حاصل کی ہے جنہیں چوری شدہ فنڈز سے منسلک سمجھا جا رہا ہے۔

عدالت کا ابتدائی حکم متعلقہ افراد یا اداروں کو ان اثاثوں کو فروخت کرنے، منتقل کرنے یا ضائع کرنے سے روکتا ہے۔ تاہم یہ ابھی حتمی فیصلہ نہیں ہے کہ ان اثاثوں کی ملکیت یا قانونی ذمہ داری کس کی ہے۔

Bybit کا کہنا ہے کہ کمپنی حملے کے بعد سے قانون نافذ کرنے والے اداروں، ریگولیٹرز، دیگر کرپٹو پلیٹ فارمز اور سیکیورٹی ماہرین کے ساتھ مل کر چوری شدہ رقم کی واپسی کی کوشش کر رہی ہے۔

کرپٹو مارکیٹ کے لیے اس کا کیا مطلب ہے؟

یہ مقدمہ صرف Bybit کے لیے اہم نہیں بلکہ پوری کرپٹو انڈسٹری کے لیے ایک اہم مثال بن سکتا ہے۔

اگر عدالت کے ذریعے مزید چوری شدہ فنڈز فریز یا واپس حاصل کیے جاتے ہیں تو اس سے یہ پیغام جائے گا کہ بلاک چین پر ہونے والی ٹرانزیکشنز کو مکمل طور پر چھپانا آسان نہیں۔ دوسری طرف، ایسے واقعات ایکسچینجز کے لیے مضبوط سیکیورٹی سسٹمز اور بہتر فنڈ مانیٹرنگ کی ضرورت بھی واضح کرتے ہیں۔

صارفین کے لیے سب سے اہم بات یہ ہے کہ بڑے ہیکس کے بعد صرف نقصان برداشت کرنے کے بجائے قانونی اور تکنیکی دونوں راستوں سے فنڈز کی ریکوری کی کوشش کی جا رہی ہے۔

یہ کیس ابھی جاری ہے اور Bybit کو چوری شدہ اثاثوں کی مکمل واپسی کے لیے مزید قانونی کارروائی کرنا ہوگی۔

#SICryptoNews #bybit #bitcoin $BTC $LINK

BTC
BTCUSDT
64,973.4
+0.11%