آج cryptocurrency دنیا کے مالیاتی نظام کا ایک اہم موضوع بن چکی ہے، لیکن مسلمانوں کے لیے ایک بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا cryptocurrency شریعت کی نظر میں مال اور قابلِ ادائیگی کرنسی کی حیثیت رکھتی ہے؟
حال ہی میں دارالافتاء، جامعہ دارالعلوم کراچی کی طرف سے ایک اہم فتویٰ جاری ہوا، جس پر معروف اسلامی اسکالر مفتی محمد تقی عثمانی صاحب سمیت دیگر علماء کے دستخط ہیں۔ یہ فتویٰ 24 ذوالحجہ 1447ھ، یعنی 10 جون 2026 کو جاری ہوا۔
فتویٰ میں کیا کہا گیا؟
فتویٰ میں موجودہ ماہرین کی تحقیق کی بنیاد پر یہ موقف بیان کیا گیا کہ cryptocurrency فی الحال شریعت کی اصطلاح میں "مال" نہیں سمجھی جاتی، بلکہ اسے اکاؤنٹ میں درج اعداد کی ایک صورت قرار دیا گیا ہے۔ اس میں USDT اور دیگر crypto tokens کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔
اسی بنیاد پر فتویٰ میں cryptocurrency کے ذریعے کتاب خریدنے کے بارے میں کہا گیا کہ ایسی خریداری شرعی طور پر درست نہیں، اور آن لائن کورس کی crypto کے ذریعے خریداری کے بارے میں بھی یہی اصول بیان کیا گیا۔
Crypto users کے لیے اہم پیغام
اس فتویٰ کو صرف "Bitcoin حلال یا حرام؟" کے مختصر سوال تک محدود کرنے کے بجائے اس کے بنیادی فقہی نکتے کو سمجھنا ضروری ہے:
اصل سوال یہ ہے کہ کسی digital asset کو شریعت کی نظر میں حقیقی اور معتبر مال کی حیثیت حاصل ہے یا نہیں۔
Blockchain ایک technology ہے، جبکہ cryptocurrency ایک مخصوص digital asset ہے۔ اس لیے ہر blockchain-based project کو لازماً ایک ہی شرعی حکم میں رکھنا ایک الگ فقہی و فنی بحث کا موضوع ہو سکتا ہے۔
موجودہ بحث
فتویٰ کے بعد پاکستان میں cryptocurrency کے شرعی اور regulatory مستقبل پر مزید بحث شروع ہوئی۔ پاکستان Virtual Assets Regulatory Authority (PVARA) کی جانب سے یہ مؤقف سامنے آیا کہ مختلف digital assets کو ان کی خصوصیات کے مطابق الگ الگ جانچنے کی ضرورت ہے، مثلاً asset-backed tokens، stablecoins اور tokenized real-world assets۔
یہ بات اس امر کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ cryptocurrency، stablecoin، tokenized asset اور blockchain technology ایک ہی چیز نہیں ہیں؛ ہر ایک کی شرعی حیثیت کا جائزہ اس کی حقیقت، backing، ownership، استعمال اور underlying asset کے مطابق کیا جا سکتا ہے۔
ایک محتاط راستہ
مسلمان crypto users کے لیے اس بحث میں سب سے اہم چیز احتیاط ہے۔ صرف market میں کسی token کی قیمت بڑھنے، exchange پر listed ہونے یا کسی platform کے استعمال سے اس کی شرعی حیثیت خود بخود ثابت نہیں ہوتی۔
اسی طرح کسی ایک شخص کی رائے کو تمام cryptocurrencies پر لاگو کرنے کے بجائے مستند علماء اور Islamic finance experts سے مخصوص asset اور transaction کے بارے میں رہنمائی لینا زیادہ مناسب ہے۔
نتیجہ
مفتی تقی عثمانی صاحب اور دیگر علماء کے حالیہ فتویٰ نے cryptocurrency کے بارے میں ایک اہم شرعی سوال دوبارہ سامنے رکھا ہے:
کیا digital numbers اور market value کسی asset کو لازماً "مال" بنا دیتے ہیں؟
یہ سوال صرف crypto traders کے لیے نہیں بلکہ مستقبل کے digital financial system کے لیے بھی اہم ہے۔
Crypto کی دنیا تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے، اس لیے مسلمان investors اور users کے لیے ضروری ہے کہ وہ شرعی اصول، حقیقی asset، ownership، transaction structure اور risk کو سمجھ کر فیصلہ کریں۔
"Profit سے پہلے Shariah — اور investment سے پہلے تحقیق."
#Crypto #Bitcoin #USDT #IslamicFinance #Shariah #MuftiTaqiUsmani #Cryptocurrency #BinanceSquare
