کرپٹو مارکیٹ میں ایک بار پھر نئی بحث شروع ہو گئی ہے۔ BitMEX کے شریک بانی آرتھر ہیز کا کہنا ہے کہ اگر مصنوعی ذہانت (AI) میں جاری سرمایہ کاری کا ببل پھٹ گیا تو اس کا سب سے بڑا فائدہ بٹ کوائن کو ہو سکتا ہے۔
ان کے مطابق آج دنیا بھر میں AI ڈیٹا سینٹرز، پاور انفراسٹرکچر اور نئی ٹیکنالوجی پر کھربوں ڈالر خرچ کیے جا رہے ہیں۔ سرمایہ کاروں کو امید ہے کہ مستقبل میں اس سے بہت زیادہ منافع حاصل ہوگا۔ لیکن اگر یہ امیدیں پوری نہ ہو سکیں تو بڑی مالی مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں۔
آرتھر ہیز کا خیال ہے کہ یہ صورتحال 2008 کے ہاؤسنگ بحران سے ملتی جلتی ہو سکتی ہے۔ اگر ایسا ہوا تو حکومتیں اور مرکزی بینک معیشت کو سہارا دینے کے لیے دوبارہ بڑی مقدار میں نیا پیسہ مارکیٹ میں ڈال سکتے ہیں۔
جب مارکیٹ میں زیادہ پیسہ آتا ہے تو سرمایہ کار بہتر منافع کی تلاش میں مختلف اثاثوں کا رخ کرتے ہیں۔ ہیز کے مطابق اس کا بڑا فائدہ بٹ کوائن اور دیگر کرپٹو کرنسیوں کو مل سکتا ہے۔
البتہ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ بٹ کوائن کی قیمت پہلے مزید نیچے جا سکتی ہے۔ ان کے مطابق اگر مارکیٹ کمزور رہی تو بٹ کوائن تقریباً 50 ہزار ڈالر تک بھی گر سکتا ہے۔ لیکن اس کے بعد ایک نئی تیزی شروع ہونے کا امکان موجود ہے۔
انہوں نے ایتھیریم کے بارے میں بھی مثبت رائے دی۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر اداروں کی جانب سے ٹوکنائزڈ ریئل ورلڈ اثاثوں میں دلچسپی بڑھتی رہی تو ایتھیریم 2026 کے آخر تک تقریباً 5 ہزار ڈالر تک پہنچ سکتا ہے۔
یاد رکھیں کہ یہ صرف ایک ماہر کی رائے اور پیش گوئی ہے۔ کرپٹو مارکیٹ بہت زیادہ اتار چڑھاؤ کا شکار رہتی ہے، اس لیے کسی بھی سرمایہ کاری سے پہلے اپنی تحقیق ضرور کریں اور صرف اتنی ہی رقم لگائیں جس کا نقصان برداشت کر سکیں۔
