Binance Square

truthofoppression

4,882 ogledov
3 razprav
Aira786
·
--
یہ وہ بچہ تھا جو سال 2000 میں اسکول سے چھپ کر نکلتا اور صہیونی فوجیوں کے سامنے صرف ایک پتھر کے ساتھ کھڑا ہو جاتا۔ ماں ڈانٹتی، سزا دیتی—کیونکہ وہ اس کی جان سے ڈرتی تھی—مگر وہ روز پتھراؤ کے لیے نکلتا، ٹینک کے سامنے نعرے لگاتا اور خوف کو للکارتا۔ ایک فرانسیسی فوٹوگرافر کی کھینچی گئی تصویر میں وہ میرکاوا ٹینک پر پتھر پھینکتے دکھائی دیا، اور یہ تصویر دنیا بھر میں وائرل ہو گئی۔ صرف 10 دن بعد، 8 نومبر 2000 کو، ایک گولی نے اس کی زندگی ختم کر دی۔ یہ کوئی عام بچہ نہیں تھا— یہ Faris Odeh تھا، جو پتھر کے ساتھ ٹینک کے سامنے کھڑا ہو گیا۔ فلسطین ہمارے دل میں زندہ ہے۔ ☝🏼🇵🇸❤️ عربی تحریر سے مترجم 🔏 ❗❓ کیا ایک پتھر سچ میں ٹینک سے زیادہ طاقتور ہو سکتا ہے؟ اگر پورا قصہ جاننا ہے میرا یہ آرٹیکل پڑھو .. ا👇 [میرا آرٹیکل پڑھو اور نہ واقف سے واقف رہو ....](https://app.binance.com/uni-qr/cart/304401394125489?r=GBBSXBL8&l=en&uco=edUNKMDJaQs-dT43iwLnZQ&uc=app_square_share_link&us=copylink) #FarisOdeh #freepalestine #Gaza #PalestinianResistance #TruthOfOppression $USDC {spot}(USDCUSDT) $SOL {spot}(SOLUSDT) $XRP {spot}(XRPUSDT)
یہ وہ بچہ تھا جو سال 2000 میں اسکول سے چھپ کر نکلتا اور صہیونی فوجیوں کے سامنے صرف ایک پتھر کے ساتھ کھڑا ہو جاتا۔ ماں ڈانٹتی، سزا دیتی—کیونکہ وہ اس کی جان سے ڈرتی تھی—مگر وہ روز پتھراؤ کے لیے نکلتا، ٹینک کے سامنے نعرے لگاتا اور خوف کو للکارتا۔
ایک فرانسیسی فوٹوگرافر کی کھینچی گئی تصویر میں وہ میرکاوا ٹینک پر پتھر پھینکتے دکھائی دیا، اور یہ تصویر دنیا بھر میں وائرل ہو گئی۔
صرف 10 دن بعد، 8 نومبر 2000 کو، ایک گولی نے اس کی زندگی ختم کر دی۔
یہ کوئی عام بچہ نہیں تھا—
یہ Faris Odeh تھا،
جو پتھر کے ساتھ ٹینک کے سامنے کھڑا ہو گیا۔
فلسطین ہمارے دل میں زندہ ہے۔ ☝🏼🇵🇸❤️
عربی تحریر سے مترجم 🔏
❗❓
کیا ایک پتھر سچ میں ٹینک سے زیادہ طاقتور ہو سکتا ہے؟
اگر پورا قصہ جاننا ہے میرا یہ آرٹیکل پڑھو .. ا👇
میرا آرٹیکل پڑھو اور نہ واقف سے واقف رہو ....
#FarisOdeh #freepalestine #Gaza #PalestinianResistance #TruthOfOppression
$USDC
$SOL
$XRP
CryptoMaverix:
There will be hope for Palestinian Arabs once they start teaching their kids usefull skills instead of throwing stones and cooperation instead of hatred.
پتھر بمقابلہ ٹینک — شہیدِ اسطورہ فارس عودة کی کہانییہ وہ بچہ ہے جو سال 2000 میں اسکول سے چھپ کر نکلتا اور صہیونی فوجیوں سے جا ٹکراتا۔ یہاں تک کہ اسکول نے اس کے ولی کو بلایا۔ جب اس کی ماں کو پتا چلا تو اُس نے ڈانٹا اور سزا بھی دی، کیونکہ وہ اپنے بیٹے کی جان سے ڈرتی تھی۔ لیکن وہ بچہ روزانہ اسرائیلی فوجیوں کے خلاف پتھراؤ کرنے جاتا۔ صرف یہی نہیں، بلکہ ٹینک کے سامنے کھڑا ہوکر رقص کرتا اور نعرہ لگاتا: "لو کسروا عظامي مش زاحف، لو هدوا البيت مش خايف!" (اگر وہ میری ہڈیاں توڑ بھی دیں، میں پیچھے نہیں ہٹوں گا… اگر میرا گھر گرا بھی دیں، مجھے خوف نہیں ہوگا!) اس کا کزن شادِی شہید ہوگیا تو گھر والوں نے مزید ڈر کے مارے اسے قید کر لیا۔ مگر وہ پانی کی پائپ لائن سے رینگ کر نکلتا اور پھر پتھر مارنے پہنچ جاتا۔ کئی بار اُس کی ماں لڑائی کے بیچوں بیچ جا کر اسے واپس لے آتی۔ ایک دن اُس نے خواب دیکھا کہ شہید شادِی کہہ رہا ہے: “آؤ، میرا بدلہ لو۔” اسی دن ماں نے بھی خواب میں شادِی کو دیکھا جو کہہ رہا تھا: “اسے میرے پاس آنے دو۔” ماں کو یقین ہوگیا کہ یہ ربانی پیغام ہے، اور اس کا بیٹا اب شہید ہوگا۔ ایک فرانسیسی فوٹوگرافر نے اُس کی ایک مشہور تصویر بنائی، جس میں وہ پیٹھ کے بل کھڑا ہوکر ایک میرکاوا ٹینک پر پتھر پھینک رہا ہے۔ یہ تصویر دنیا بھر میں وائرل ہوگئی۔ اور صرف 10 دن بعد — 8 نومبر 2000 کو — جب وہ ایک پتھر اٹھانے کے لیے جھکا، اسرائیلی فوج کی مہلک گولی اُس کی گردن کے ایک طرف سے لگی اور دوسری طرف سے نکل گئی۔ ایک لمحے میں اس کی کہانی ختم ہوگئی۔ یہ وہ بچہ تھا جس نے ٹینک کا مقابلہ پتھر سے کیا۔ یہ Faris Odeh تھا— محض ایک بچہ نہیں، ایک پورا وطن۔ فلسطین ہمارے دل میں زندہ ہے۔ ☝🏼🇵🇸❤️ عربی تحریر سے مترجم 🔏 ❗❓⁉❕❔ کیا ایک پتھر سچ میں ٹینک سے زیادہ طاقتور ہو سکتا ہے؟ #FarisOdeh #freepalestine #Gaza #PalestinianResistance #TruthOfOppression $USDC {spot}(USDCUSDT) $SOL {spot}(SOLUSDT) $XRP {spot}(XRPUSDT)

پتھر بمقابلہ ٹینک — شہیدِ اسطورہ فارس عودة کی کہانی

یہ وہ بچہ ہے جو سال 2000 میں اسکول سے چھپ کر نکلتا اور صہیونی فوجیوں سے جا ٹکراتا۔ یہاں تک کہ اسکول نے اس کے ولی کو بلایا۔ جب اس کی ماں کو پتا چلا تو اُس نے ڈانٹا اور سزا بھی دی، کیونکہ وہ اپنے بیٹے کی جان سے ڈرتی تھی۔
لیکن وہ بچہ روزانہ اسرائیلی فوجیوں کے خلاف پتھراؤ کرنے جاتا۔ صرف یہی نہیں، بلکہ ٹینک کے سامنے کھڑا ہوکر رقص کرتا اور نعرہ لگاتا:
"لو کسروا عظامي مش زاحف، لو هدوا البيت مش خايف!"
(اگر وہ میری ہڈیاں توڑ بھی دیں، میں پیچھے نہیں ہٹوں گا… اگر میرا گھر گرا بھی دیں، مجھے خوف نہیں ہوگا!)
اس کا کزن شادِی شہید ہوگیا تو گھر والوں نے مزید ڈر کے مارے اسے قید کر لیا۔ مگر وہ پانی کی پائپ لائن سے رینگ کر نکلتا اور پھر پتھر مارنے پہنچ جاتا۔ کئی بار اُس کی ماں لڑائی کے بیچوں بیچ جا کر اسے واپس لے آتی۔
ایک دن اُس نے خواب دیکھا کہ شہید شادِی کہہ رہا ہے: “آؤ، میرا بدلہ لو۔”
اسی دن ماں نے بھی خواب میں شادِی کو دیکھا جو کہہ رہا تھا: “اسے میرے پاس آنے دو۔”
ماں کو یقین ہوگیا کہ یہ ربانی پیغام ہے، اور اس کا بیٹا اب شہید ہوگا۔
ایک فرانسیسی فوٹوگرافر نے اُس کی ایک مشہور تصویر بنائی، جس میں وہ پیٹھ کے بل کھڑا ہوکر ایک میرکاوا ٹینک پر پتھر پھینک رہا ہے۔ یہ تصویر دنیا بھر میں وائرل ہوگئی۔
اور صرف 10 دن بعد — 8 نومبر 2000 کو — جب وہ ایک پتھر اٹھانے کے لیے جھکا، اسرائیلی فوج کی مہلک گولی اُس کی گردن کے ایک طرف سے لگی اور دوسری طرف سے نکل گئی۔ ایک لمحے میں اس کی کہانی ختم ہوگئی۔
یہ وہ بچہ تھا جس نے ٹینک کا مقابلہ پتھر سے کیا۔
یہ Faris Odeh تھا—
محض ایک بچہ نہیں، ایک پورا وطن۔
فلسطین ہمارے دل میں زندہ ہے۔ ☝🏼🇵🇸❤️
عربی تحریر سے مترجم 🔏
❗❓⁉❕❔
کیا ایک پتھر سچ میں ٹینک سے زیادہ طاقتور ہو سکتا ہے؟

#FarisOdeh #freepalestine #Gaza #PalestinianResistance #TruthOfOppression
$USDC
$SOL
$XRP
Prijavite se, če želite raziskati več vsebin
Raziščite najnovejše novice o kriptovalutah
⚡️ Sodelujte v najnovejših razpravah o kriptovalutah
💬 Sodelujte z najljubšimi ustvarjalci
👍 Uživajte v vsebini, ki vas zanima
E-naslov/telefonska številka