$BNB حضرت ابو الدرداء رضی اللہ عنہ کے پاس ایک اونٹ تھا، جس کا نام دمون تھا۔ حضرت ابو الدرداء رضی اللہ عنہ نرم مزاج، خوش اخلاق اور نہایت رحم دل انسان تھے۔ وہ اپنے اس اونٹ پر اس کی طاقت سے بڑھ کر بوجھ نہیں لادتے تھے۔ انہوں نے اس کے لیے بوجھ کی ایک خاص حد مقرر کر رکھی تھی، وہ صرف اتنا ہی بوجھ اٹھاتا تھا جتنا وہ برداشت کر سکتا تھا۔ اگر کوئی شخص ان سے یہ اونٹ مستعار لیتا تو وہ اسے بھی تاکید کرتے کہ اس پر اس کی طاقت سے زیادہ بوجھ نہ لادنا۔

ان کی پوری زندگی کا یہی انداز تھا۔

چنانچہ جب وہ بسترِ مرگ پر تھے تو ان کی نظر گھر کے صحن میں کھڑے اپنے اونٹ دمون پر پڑی۔ انہوں نے اسے مخاطب کرکے فرمایا:

’’اے دمون! کل قیامت کے دن اپنے رب کے حضور میرے خلاف شکایت نہ کرنا، کیونکہ میں نے کبھی تجھ پر تیری طاقت سے بڑھ کر بوجھ نہیں لادا۔‘‘

اللہ اکبر! ذرا دیکھیے، ذرا غور کیجیے کہ جانوروں کے ساتھ ان کی رحمت کا یہ عالم تھا، تو انسانوں کے ساتھ ان کی رحمت کیسی ہوگی!

اور اس واقعے میں ہمارے لیے بھی ایک سبق ہے۔ اگر وہ اس بات سے ڈرتے تھے کہ کہیں قیامت کے دن ایک جانور کے بارے میں ہی ان سے سوال نہ کر لیا جائے، جس پر انہوں نے اس کی طاقت سے زیادہ بوجھ لادا ہو، تو کیا ہمارا یہ حق نہیں، بلکہ ہماری ذمہ داری نہیں کہ ہم بھی اس بات سے ڈریں کہ کل اللہ تعالیٰ کے حضور ہماری بیویوں کے بارے میں ہم سے سوال کیا جائے گا؟
.