پاکستان میں چار کروڑ لوگ کرپٹو استعمال کرتے ہیں۔ لیکن جب کوئی بڑی خبر آتی ہے تو سب افواہوں پر چلتے ہیں۔ تو آئیے جانتے ہیں یہ PVARA آخر ہے کیا چیز؟
کیا آپ نے کبھی مندرجہ ذیل میں سے کوئی کام کیا ہے؟
· بیرون ممالک سے گھر پیسے P2P سے منگوائے ہیں؟
· کچھ پیسے ڈیجیٹل کرنسی (USDT)میں بچا کر رکھے ہیں؟
· مہنگائی سے تنگ آ کر کہیں اور سرمایہ کاری کی ہے؟
· کسی دوست نے کوئی مالی ایپ بتائی اور آپ نے انسٹال کی؟
اگر ہاں، تو یہ پوسٹ آپ کیلئے ہے،
6 مارچ 2026 پاکستان نے ورچوئل اثاثہ جات (virtual Asset) کا قانون پاس کیا۔ اور PVARA بنائی، یعنی پاکستان ورچوئل اثاثہ جات ریگولیٹری اتھارٹی۔ Pakistan Virtual Asset Regulatory Authority
جیسے SECP کمپنیوں کو دیکھتا اور ریگولیٹ کرتا ہے۔ اسٹیٹ بینک، بینکوں کو دیکھتا ہے۔ اسی طرح PVARA بھی وہی کام کرے گی لیکن ڈیجیٹل کرنسی، اثاثہ جات کے لیے۔
یہ ادارہ بنیادی طور پر ڈیجیٹل مالی دنیا پر نظر اور کنٹرول رکھے گا۔
بس اتنی سی بات ہے۔
تو کیا کرپٹو قانونی ہو گئی؟
جی ہاں۔ لیکن پہلے پوری بات سنیں اور سمجھیں۔
پہلے کیا تھا؟ نہ قانونی تھی، نہ غیر قانونی۔ ایک عجیب سی درمیانی حالت تھی۔ اسٹیٹ بینک کہتا تھا مت کرو، لوگ پھر بھی استعمال کرتے تھے۔ کوئی تحفظ نہیں تھا۔ کوئی قانون نہیں تھا۔ اگر کسی نے آپ کے پیسے مار لیے تو جاتے کہاں؟
لیکن اب کیا ہے؟ قانون ہے۔ ادارہ ہے۔ تحفظ ہے۔
دنیا کی بڑی کرپٹو کمپنیز (Binance & HTX) کو NOC مل گیا، یعنی وہ پاکستان میں باقاعدہ طور پر کام کر سکتے ہیں۔ جو لوگ ڈر رہے تھے کہ سب بند ہو جائے گا، سب ختم ہو جائے گا، ان کے لیے خوشخبری ہے۔ الٹا ہوا۔ یہ کمپنیاں اب اور مضبوطی سے آ رہی ہیں۔
اور رہ گئی ٹیکس والی بات، تو گھبرائیں نہیں، سمجھیں
15% ٹیکس کی خبر سن کر بہت سے لوگ پریشان ہو گئے۔
لیکن ذرا ٹھہریں۔ یہ ٹیکس صرف تب لگتا ہے جب آپ نے منافع کمایا ہو۔
ایک مثال سے سمجھیں:
آپ نے 10 ہزار روپے کا کوائن (coin) خریدا۔ وہ بڑھ گیا اور آپ نے 15 ہزار میں بیچ دیا۔ 5 ہزار روپے فائدہ ہوا۔ اس 5 ہزار پر 15% ٹیکس، یعنی صرف 750روپے حکومت کے۔
نقصان ہوا؟ کوئی ٹیکس نہیں۔ بیچا ہی نہیں؟ کوئی ٹیکس نہیں۔ بس رکھا ہوا ہے؟ کوئی ٹیکس نہیں۔
اور ایک ضروری بات —
ٹیکس لگنا برا نہیں ہوتا۔ ٹیکس لگنا مطلب حکومت نے مان لیا کہ یہ اصلی اور قانونی چیز ہے۔ آپ سرمایہ کار ہیں، مجرم نہیں۔
اب وہ بات جو مجھے سب سے زیادہ تکلیف دیتی ہے
پاکستان میں چار کروڑ لوگ ڈیجیٹل کرنسی استعمال کرتے ہیں۔ لیکن ان میں سے کتنوں نے یہ قانون پڑھا؟ کتنوں کو پتا ہے یہ ادارہ کیا ہے؟ کتنوں کو معلوم ہے کہ اب ان کے حقوق ہیں؟
شاید 1% بھی نہیں۔
اسی لیے سیڑھی پروجیکٹ | Ladder Project شروع کیا
ہر ہفتے ایک موضوع۔ سادہ اردو میں۔ بالکل مفت۔ کوئی پیچیدہ الفاظ نہیں۔ کوئی بناوٹ نہیں۔
کیونکہ Pakistan Virtual Assets Regulatory Authority کے چیئرمین بلال بن ثاقب نے جو کہا وہ سچ ہے:
"ڈیجیٹل کرنسی پاکستان کے لیے عیاشی نہیں — یہ غریب آدمی کی سیڑھی ہے۔"
لیکن سیڑھی تب کام آتی ہے جب لوگوں کو پتا ہو کہ وہ وہاں ہے۔
آپ سے ایک گزارش ہے
اگر آپ نے آج کچھ نیا سیکھا ، تو یہ تحریر کسی ایک ایسے شخص کو بھیجیں جو ڈیجیٹل کرنسی استعمال کرتا ہے لیکن کچھ نہیں جانتا۔
بس ایک۔
آپ کا ایک قدم کسی کے پیسوں کی حفاظت کر سکتا ہے۔ 🇵🇰
اگلے ہفتے بات کریں گے: ڈی سینٹرلائزڈ تجارت کیا ہے اور پاکستانی تاجروں کے لیے یہ کیوں اہم ہے؟
#PVARA #Pakistan #Web3 #crypto #blockchain $BTC