قرضے اور گدھوں کی کہانی
ایک دن ایک ہوشیار تاجر ایک گاؤں آیا اس نے کہا میں تمہارے گدھے دس روپے میں خریدوں گا
گاؤں والوں نے خوشی خوشی اپنے گدھے اسے بیچ دیے
کچھ دن بعد وہ پھر آیا اور بولا اب میں گدھا پندرہ روپے میں خریدوں گا
جن لوگوں نے گدھے نہیں بیچے تھے انہوں نے بھی فوراً بیچ دیے
پھر اس نے اعلان کیا اب میں ہر گدھا تیس روپے میں خریدوں گا
یہ سن کر باقی سب نے بھی اپنے گدھے بیچ ڈالے اور گاؤں میں کوئی گدھا نہ بچا
پھر اس تاجر نے کہا اب میں گدھا پچاس روپے میں خریدوں گا لیکن میں چند دن کی چھٹی پر جا رہا ہوں واپس آ کر خریدوں گا
جب وہ چلا گیا تو گاؤں والوں کو لالچ ہوا
انہوں نے اپنے گدھے واپس خریدنے کی کوشش کی تاکہ بعد میں پچاس روپے میں بیچ کر منافع کما سکیں
اسی دوران تاجر کا ایک ساتھی آیا اور بولا میرے پاس تمہارے پرانے گدھے ہیں چالیس روپے میں لے لو
گاؤں والوں نے سارے پیسے لگا دیے اور کچھ نے قرض بھی لیا تاکہ گدھے واپس خرید لیں
لیکن تاجر واپس نہ آیا نہ اس کا ساتھی
اب گدھے ان کے پاس تھے لیکن ان کی قیمت نہ رہی اور قرض بڑھ گیا
بینک نے بھی پیسے نہیں پائے اور دیوالیہ ہو گیا
اور وہ تاجر سب کا پیسہ سمیٹ کر غائب ہو چکا تھا
اصل سبق یہ ہے کہ
گدھا صرف ایک علامت ہے
اس کی جگہ تم کچھ بھی رکھ سکتے ہو
زمین
گاڑی
مکان
چینی
تیل
سونا
شیئر
کرپٹو
طریقہ سب میں ایک جیسا ہے
قیمت بڑھاؤ
لالچ جگاؤ
پھر اچانک سب بیچ کر نکل جاؤ
اور پیچھے رہ جاتے ہیں وہ لوگ جو خوابوں میں جیتے ہیں اور حقیقت سے غافل رہتے ہیں
بازار میں سب کچھ ہوتا ہے سوائے عقل کے. Dr.IA