Binance Square

webseries

閲覧回数 55
2人が討論中
Sumair Shahzad
--
翻訳
یمن کے ایک شہر میں بوسیدہ لباس میں کوئی مستانہ وار جارہا ہےشہر کے آوارہ بچے اس کے پیچھے تالیاں بجاتے اور آوازے کستے چلے آرہے ہیں، بچوں نے کنکر بھی مارنا شروع کردیئے۔ لیکن حیرت ہے کہ یہ فقیر کنکریاں مارنے والوں کو نہ روکتا ہے نہ ٹوکتا ہے۔ مسکراتے اور زیر لب گنگناتے وہ اپنی دھن میں چلا جارہا ہے۔ اچانک کسی جانب سے ایک بڑا پتھر اس کے سر سے آٹکراتا ہے۔ زخم سے خون کی ایک پتلی سے لکیر جب پیشانی کو عبور کرنے لگتی ہے تو وہ رک جاتا ہے۔ پھرپتھر مارنے والے بچوں کی طرف رخ کرکے کہتا ہے۔ میرے بچو بڑے پتھر نہ مارو چھوٹی کنکریاں مار کر دل بہلاتے رہو۔ بس ایک ہی پتھر سے اندیشہ اتر گیا۔ ایک منہ پھٹ لڑکا آگے بڑھتے ہوئے کہتا ہے۔ نہیں میرے بیٹے ایسی کوئی بات نہیں۔ میں چاہتا ہوں تمہارا شغل جاری رہے اور میرا کام بھی چلتا رہے۔ کنکریوں سے خون نہیں بہتا۔ پتھر لگنے سے خون بہنے لگتا ہے جس سے وضو ٹوٹ جاتا ہے اور بغیر وضو کے میں اپنے محبوب کے سامنے سجدہ ریز نہیں ہوسکتا۔یمن کے شہر قرن میں ایک کوچے سے گزرنے والے یہ درویش عشق و مستی کی سلطنت کے بادشاہ حضرت خواجہ اویس قرنی رضی اللہ عنہ تھے۔ کعبہ محبت کا طواف کرنے والوں کا جب بھی ذکر چھیڑے گا تو حضرت خواجہ اویس قرنی رضی اللہ عنہ کا اسم گرامی سرفہرست رہے گا۔تذکرۃ الاولیاء میں یہ روایت درج ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کے استفسار پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا چشم ظاہری کی بجائے چشم باطن سے انہیں میرے دیدار کی سعادت حاصل ہے۔ محبوب کائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت خواجہ اویس قرنی رضی اللہ عنہ کی والہانہ محبت اور عاشقانہ اداؤں کو سنا تو تحسین فرمائی۔ روایات میں ہے کہ محبوب خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کبھی کبھی فرط محبت میں اپنے پیراہن کے بند کھول کر یمن کی طرف رخ کرکے فرماتے۔ انی لا جد نفس الرحمن من قبل اليمن. مجھے یمن کی طرف سے رحمت کی خوشبو آرہی ہے۔ یہ اویس قرنی رضی اللہ عنہ ہی تھے جن کی بدولت یمن سے نسیم رحمت فضاؤں کو معطر کرتی تھی۔ چنانچہ مولانا جامی اسے شعر کے قالب میں یوں بیان کرتے ہیں۔ بوئے جاں می آید از سوئے یمن از دم جاں پرور اویس قرن واللہ اعلم بالصواب ۔اگر کوئی غلطی کوتاہی ہو تو اللہ پاک معاف فرمائے۔ #page #webseries

یمن کے ایک شہر میں بوسیدہ لباس میں کوئی مستانہ وار جارہا ہے

شہر کے آوارہ بچے اس کے پیچھے تالیاں بجاتے اور آوازے کستے چلے آرہے ہیں، بچوں نے کنکر بھی مارنا شروع کردیئے۔ لیکن حیرت ہے کہ یہ فقیر کنکریاں مارنے والوں کو نہ روکتا ہے نہ ٹوکتا ہے۔ مسکراتے اور زیر لب گنگناتے وہ اپنی دھن میں چلا جارہا ہے۔ اچانک کسی جانب سے ایک بڑا پتھر اس کے سر سے آٹکراتا ہے۔ زخم سے خون کی ایک پتلی سے لکیر جب پیشانی کو عبور کرنے لگتی ہے تو وہ رک جاتا ہے۔ پھرپتھر مارنے والے بچوں کی طرف رخ کرکے کہتا ہے۔
میرے بچو بڑے پتھر نہ مارو چھوٹی کنکریاں مار کر دل بہلاتے رہو۔ بس ایک ہی پتھر سے اندیشہ اتر گیا۔ ایک منہ پھٹ لڑکا آگے بڑھتے ہوئے کہتا ہے۔

نہیں میرے بیٹے ایسی کوئی بات نہیں۔ میں چاہتا ہوں تمہارا شغل جاری رہے اور میرا کام بھی چلتا رہے۔ کنکریوں سے خون نہیں بہتا۔ پتھر لگنے سے خون بہنے لگتا ہے جس سے وضو ٹوٹ جاتا ہے اور بغیر وضو کے میں اپنے محبوب کے سامنے سجدہ ریز نہیں ہوسکتا۔یمن کے شہر قرن میں ایک کوچے سے گزرنے والے یہ درویش عشق و مستی کی سلطنت کے بادشاہ حضرت خواجہ اویس قرنی رضی اللہ عنہ تھے۔ کعبہ محبت کا طواف کرنے والوں کا جب بھی ذکر چھیڑے گا تو حضرت خواجہ اویس قرنی رضی اللہ عنہ کا اسم گرامی سرفہرست رہے گا۔تذکرۃ الاولیاء میں یہ روایت درج ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کے استفسار پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا چشم ظاہری کی بجائے چشم باطن سے انہیں میرے دیدار کی سعادت حاصل ہے۔

محبوب کائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت خواجہ اویس قرنی رضی اللہ عنہ کی والہانہ محبت اور عاشقانہ اداؤں کو سنا تو تحسین فرمائی۔ روایات میں ہے کہ محبوب خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کبھی کبھی فرط محبت میں اپنے پیراہن کے بند کھول کر یمن کی طرف رخ کرکے فرماتے۔

انی لا جد نفس الرحمن من قبل اليمن.

مجھے یمن کی طرف سے رحمت کی خوشبو آرہی ہے۔ یہ اویس قرنی رضی اللہ عنہ ہی تھے جن کی بدولت یمن سے نسیم رحمت فضاؤں کو معطر کرتی تھی۔ چنانچہ مولانا جامی اسے شعر کے قالب میں یوں بیان کرتے ہیں۔
بوئے جاں می آید از سوئے یمن
از دم جاں پرور اویس قرن
واللہ اعلم بالصواب ۔اگر کوئی غلطی کوتاہی ہو تو اللہ پاک معاف فرمائے۔

#page
#webseries
さらにコンテンツを探すには、ログインしてください
暗号資産関連最新ニュース総まとめ
⚡️ 暗号資産に関する最新のディスカッションに参加
💬 お気に入りのクリエイターと交流
👍 興味のあるコンテンツがきっと見つかります
メール / 電話番号