جنوبی کوریا ایک بار پھر ڈیجیٹل فنانس کے میدان میں تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔ ملک نے ایک ایسے پروگرام پر پیش رفت کی ہے جس کے تحت تقریباً 3,500 کمپنیاں اور پروفیشنل انویسٹرز مخصوص شرائط کے ساتھ کرپٹو مارکیٹ میں داخل ہو سکیں گے۔
یہ تبدیلی اس لیے اہم ہے کیونکہ جنوبی کوریا میں کئی سالوں سے مقامی کمپنیاں کرپٹو ایکسچینجز کے ذریعے براہِ راست ورچوئل اثاثوں کی خرید و فروخت نہیں کر پا رہی تھیں۔ اصل مسئلہ بینکوں کے ریئل نیم اکاؤنٹس سے متعلق تھا، جس کی وجہ سے کمپنیوں کے لیے کرپٹو مارکیٹ میں داخل ہونا تقریباً ناممکن ہو گیا تھا۔
اب صورتحال بدلتی نظر آ رہی ہے۔
نئے روڈ میپ کے تحت تقریباً 2,500 لسٹڈ کمپنیاں اور تقریباً 1,000 پروفیشنل انویسٹرز کرپٹو سے منسلک بینک اکاؤنٹس کے لیے اہل ہو سکتے ہیں۔ تاہم، یہ ابھی بھی ایک کنٹرولڈ اور ریگولیٹڈ پائلٹ پروگرام ہے، یعنی ہر کمپنی کو کھلی چھوٹ نہیں دی جا رہی۔
صرف کرپٹو ہی نہیں، ٹوکنائزیشن بھی اہم ہے
جنوبی کوریا کی حکمت عملی صرف Bitcoin یا دوسرے cryptocurrencies تک محدود نہیں۔ ملک Tokenized Securities کے لیے بھی قانونی بنیاد تیار کر رہا ہے۔
اس کا مطلب آسان الفاظ میں یہ ہے کہ روایتی مالیاتی اثاثوں کو بلاک چین پر ڈیجیٹل شکل میں جاری اور منتقل کیا جا سکے گا، جبکہ ان پر سیکیورٹیز کے قوانین بھی لاگو ہوں گے۔
یہ تبدیلی مستقبل میں بانڈز، حصص اور دیگر مالیاتی اثاثوں کی خرید و فروخت کو زیادہ ڈیجیٹل اور تیز بنانے میں مدد دے سکتی ہے۔
نو بینک ڈپازٹ ٹوکنز کی ٹیسٹنگ کر رہے ہیں
جنوبی کوریا کا ایک اور اہم منصوبہ Project Hangang ہے۔ اس کے دوسرے مرحلے میں اب نو بینک ڈپازٹ ٹوکنز کی ٹیکنالوجی کو آزما رہے ہیں۔
ڈپازٹ ٹوکن کو سادہ الفاظ میں بینک ڈپازٹ کی ایک ڈیجیٹل شکل سمجھا جا سکتا ہے۔ اس کا مقصد عام cryptocurrency بنانا نہیں بلکہ موجودہ بینکنگ اور ادائیگی کے نظام کو بلاک چین ٹیکنالوجی کے ساتھ جوڑنا ہے۔
اس ٹیکنالوجی کو حکومتی ادائیگیوں، ڈیجیٹل واؤچرز، ٹوکنائزڈ اثاثوں کی سیٹلمنٹ اور حتیٰ کہ AI agents کی جانب سے خودکار ادائیگیوں کے لیے بھی آزمایا جا رہا ہے۔
کرپٹو مارکیٹ کے لیے اس کا کیا مطلب ہے؟
سب سے بڑا اثر شاید اعتماد کا ہو سکتا ہے۔
جب کمپنیاں، بینک اور مالیاتی ادارے کسی ملک کے ریگولیٹڈ ڈیجیٹل اثاثہ نظام میں شامل ہوتے ہیں تو مارکیٹ صرف ریٹیل ٹریڈرز تک محدود نہیں رہتی۔ اس سے custody، tokenization، payments اور institutional investment جیسے شعبے بھی ترقی کر سکتے ہیں۔
جنوبی کوریا کا یہ قدم اس بات کی علامت ہے کہ ملک کرپٹو کو صرف ایک speculative asset کے طور پر نہیں دیکھ رہا، بلکہ اسے مستقبل کے مالیاتی انفراسٹرکچر کا حصہ بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔
اگر یہ منصوبے کامیاب رہتے ہیں تو آنے والے سالوں میں جنوبی کوریا ایشیا کی ان مارکیٹس میں شامل ہو سکتا ہے جہاں crypto، blockchain اور traditional finance ایک ہی نظام میں زیادہ قریب سے کام کریں گے۔
