وجہ اسکی شاید یہ ہے کہ ملزم کا کہنا تھا کہ پولیس نے شناخت پریڈ سے قبل اسے مقتولہ کے باپ کو دکھا دیا تھا۔ یوں شناخت پریڈ کے اس ثبوت کو مشکوک سمجھ کر رد کر دیا جائے تو پیچھے صرف ایک واقعاتی شہادت، یعنی جوتا فِٹ آنا، باقی رہ جاتی ہے، جو پھانسی کی سزا کے لیے شاید ناکافی تھی۔

مگر اس کیس میں پھانسی کی جگہ عمر قید دینے کی گنجائش نہ تھی، اور بری کر دینا میرے ضمیر کو گوارا نہ تھا۔ دل کہتا تھا کہ یہی مجرم ہے، لیکن دماغ وسوسے پیدا کرتا تھا۔ جج کمپیوٹر مشین نہیں ہوتا۔ یہ درست ہے کہ اسے اپنا ذہن پورا استعمال کرنا پڑتا ہے، لیکن فیصلہ بالآخر اس کا دل یا ضمیر ہی کرتا ہے۔ بہرحال، میں نے اسکی سزا بحال رکھی اور سپریم کورٹ سے بھی اسکی اپیل خارج ہوئی اور سزائے موت برقرار رہی، جس پر بعد میں عمل درآمد بھی ہوا۔"
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
☆ یہ قریب نصف صدی پرانا کیس ہے۔ اس وقت بھی یہ کیس اخبارات میں ہائی لائٹ ہوا۔ لیکن کیا وجہ ہے کہ جعلی عاملین کا کاروبار وقت کے ساتھ بڑھتا ہی گیا؟؟؟

#کورٹ_کہانی از: محمد رضوان ایڈووکیٹ ہائیکور