حضرت جابر بن سَمُرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا:
”کیا تم اس طرح صفیں نہیں بناتے، جس طرح فرشتے اپنے رب کے حضور صفیں باندھتے ہیں؟“
ہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ ﷺ! فرشتے اپنے رب کے حضور کس طرح صفیں باندھتے ہیں؟
آپ ﷺ نے فرمایا:
”وہ پہلی صفوں کو مکمل کرتے ہیں اور صف میں ایک دوسرے کے ساتھ مل کر کھڑے ہوتے ہیں۔“
📚 حوالہ: صحیح مسلم، حدیث: 430
صفوں میں مل کر کھڑے ہونے کی فضیلت:
\- شیطان کے لیے راستہ بند کرنا: صفوں میں خالی جگہوں اور شگافوں کو پُر کرنا شیطان کو نمازیوں کے درمیان داخل ہونے کا موقع نہیں دیتا۔
\- عظیم اجر کا حصول: صفوں کو سیدھا کرنا، انہیں مکمل کرنا اور ان میں موجود خالی جگہوں کو پُر کرنا اللہ تعالیٰ کی رحمت کے حصول کا ذریعہ ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں نماز کی صفوں کو درست کرنے، انہیں مکمل رکھنے اور سنتِ نبوی ﷺ پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین!
”کیا تم اس طرح صفیں نہیں بناتے، جس طرح فرشتے اپنے رب کے حضور صفیں باندھتے ہیں؟“
ہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ ﷺ! فرشتے اپنے رب کے حضور کس طرح صفیں باندھتے ہیں؟
آپ ﷺ نے فرمایا:
”وہ پہلی صفوں کو مکمل کرتے ہیں اور صف میں ایک دوسرے کے ساتھ مل کر کھڑے ہوتے ہیں۔“
📚 حوالہ: صحیح مسلم، حدیث: 430
صفوں میں مل کر کھڑے ہونے کی فضیلت:
\- شیطان کے لیے راستہ بند کرنا: صفوں میں خالی جگہوں اور شگافوں کو پُر کرنا شیطان کو نمازیوں کے درمیان داخل ہونے کا موقع نہیں دیتا۔
\- عظیم اجر کا حصول: صفوں کو سیدھا کرنا، انہیں مکمل کرنا اور ان میں موجود خالی جگہوں کو پُر کرنا اللہ تعالیٰ کی رحمت کے حصول کا ذریعہ ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں نماز کی صفوں کو درست کرنے، انہیں مکمل رکھنے اور سنتِ نبوی ﷺ پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین!