حصہ اول، جز ٹو
سسٹمز پر کنٹرول: ابتدائی طور پر اسے محض ایک لیپ ٹاپ کا معاملہ سمجھا گیا تھا، لیکن بعد میں انکشاف ہوا کہ ہیکرز نے بائنانس کے مرکزی نیٹ ورک کے گہرے حصوں تک رسائی حاصل کر کے غیر قانونی ٹرانزیکشنز کو خود ہی منظور (Authorize) کر لیا تھا۔
• مشتبہ گروہ: امریکی تحقیقاتی ادارے (ایف بی آئی) اور بین الاقوامی سائبر سکیورٹی ایجنسیوں کے مطابق، اس حملے کی مہارت اور طریقہ کار کو دیکھتے ہوئے شبہ ظاہر کیا گیا ہے کہ اس کے پیچھے شمالی کوریا کے ریاستی سرپرستی میں کام کرنے والے ہیکرز کا ہاتھ ہو سکتا ہے۔

اثاثوں کی فوری بازیابی اور بلاک چین کا ایکشن

جیسے ہی ہیک کا پتہ چلا، بائنانس نے ہنگامی بنیادوں پر بلاک چین پارٹنرز اور اسٹیبل کوائن جاری کرنے والی کمپنیوں (Tether اور Circle) سے رابطہ کیا۔ اس فوری ایکشن کے نتیجے میں چوری شدہ رقم میں سے تقریباً 3 ارب ڈالر کے اسٹیبل کوائنز (USDT اور USDC) کو بلاک چین پر منجمد (Freeze) کر دیا گیا، جس سے ہیکرز اس رقم کو مارکیٹ میں کیش کروانے یا منتقل کرنے میں ناکام رہے۔ تاہم، چوری کیے گئے 1.5 ارب ڈالر کے بٹ کوائن کو بلاک چین کی ڈی سینٹرلائزڈ نوعیت کی وجہ سے منجمد نہیں کیا جا سکا۔
#BinanceReopensWithdrawalsForMoreAssets @bitcoin