*تحریر: مفتی اویس پراچہ*
بائنانس ہیک، کیا اور کیسے؟
گزشتہ رات کرپٹو کرنسی کا سب سے بڑا ایکسچینج بائنانس ہیک ہوا اور ہیکرز نے سوا چھ بلین ڈالر کے اثاثے نکال لیے۔ میرا اس پر کچھ لکھنے کا ارادہ نہیں تھا، میرا فوکس آج کل دوسرے ٹاپک پر ہے لیکن بعض اساتذہ کا حکم ہوا اور خود میں نے بھی ہر جانب "ماہرین کرپٹو" دیکھے تو بہتر یہی محسوس ہوا کہ اسے آسان الفاظ میں سمجھایا جائے۔
سب سے پہلے یہ سمجھیے کہ کسی بھی اچھے ایکسچینج کے دو قسم کے والٹس ہوتے ہیں: ہاٹ والٹس اور کولڈ والٹس
کولڈ والٹس: ان میں زیادہ رقم رکھی جاتی ہے، یہ نیٹ سے کنکٹ نہیں ہوتے اور انہیں ہیک کرنا اب تک انتہائی مشکل ہے۔ اے آئی کے آنے کے بعد اس کے امکانات کی بات کی جا رہی ہے لیکن وہ بھی تب جب اے آئی کوانٹم کمپیوٹنگ کے ساتھ ہو۔
ہاٹ والٹس: ان میں وہ اماؤنٹ ہوتی ہے جو لین دین کے کام آتی ہے۔ اسے انٹرنیٹ سے کنکٹ رکھنا مجبوری ہوتی ہے۔ کولڈ والٹ کو اگر آپ بینک کی تجوری میں رکھا سونا یا رقم سمجھ لیں تو انہیں بینک کی کیش منتقل کرنے والی گاڑی سمجھ لیں۔ اس گاڑی کو ظاہر ہے روکا اور لوٹا جا سکتا ہے، گو تھوڑا مشکل ہوتا ہے۔
بائنانس کے پاس 130 بلین ڈالر سے زیادہ کے یوزرز کے اثاثے ہیں جن میں سے 6.3 بلین ڈالر کے نکالے گئے ہیں۔ یہ کوئی 5 فیصد کے قریب بنتے ہیں۔ اتنے اثاثے ہاٹ والٹس میں ہوتے ہیں اور ان میں پیسے ڈالنا اور نکالنا جاری رہتا ہے۔
ہیک کیسے ہوا؟
بنیادی طور پر کرپٹو کرنسی یا کوئی بلاک چین ہیک نہیں ہوئی، بلکہ اب تک کی تفتیش کے مطابق بائنانس کے کسی انجینئیر کا لیپ ٹاپ ہیک ہوا تھا۔ چونکہ لیپ ٹاپ اندرونی سسٹم سے کنکٹ تھا اس لیے اس کی رسائی اندر لین دین کی اجازت دینے والے سسٹم تک تھی۔
ہیکر نے اس لیپ ٹاپ کو استعمال کرتے ہوئے ایک سسٹم بنایا جس میں اسے کم سے کم اجازت دینی پڑے اور اجازت دینے والے سسٹم کے اندر بیٹھ کر کام کرنا شروع کیا۔ چونکہ یہاں سے لین دین کا آٹومیٹک سسٹم چل رہا تھا اس لیے یہاں سے رقم بھیجی جا سکتی تھی۔ ہیکر نے یہاں سے رقم منتقل کرنا شروع کر دی۔
یو ایس ڈی ٹی اور یو ایس ڈی سی:
منتقل شدہ رقم میں یو ایس ڈی ٹی اور یو ایس ڈی سی بھی تھے جو دونوں اسٹیبل کوائنز ہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ یہ اسٹیبل کوائنز ڈی سینٹرلائزڈ نہیں ہوتے بلکہ یہ اس رقم کی رسید کی طرح ہوتے ہیں جو ان کے پیچھے رکھی ہوتی ہے۔ چنانچہ جیسے ہی ان دونوں کے اداروں تک خبر پہنچی انہوں نے ان دونوں کو فریز کر دیا۔ اس سے پہلے ہیکر 730 ملین یو ایس ڈی ٹی تبدیل کر چکا تھا۔
دونوں اسٹیبل کوائنز کا تقریباً 71 فیصد ہیک شدہ اماؤنٹ منجمد ہو گیا جب کہ 29 فیصد ہیکر تبدیل کرنے میں کامیاب ہو گیا۔ یہ منجمد اس لیے ہو سکا کہ یہ دونوں سینٹرلائزڈ ہیں۔
اثاثے اور بھرپائی:
بائنانس سے 6.3 بلین ڈالر کے اثاثے ہیک ہوئے۔ بائنانس نے اعلان کیا کہ تین بلین ڈالر فوری طور پر ان اداروں کی مدد سے فریز ہو چکا ہے۔ ایک بلین ڈالر کے بائنانس کے پاس ایسے ریزروز ہیں جو اسی طرح کے معاملات کے لیے ہیں۔ باقی 2.3 بلین ڈالر بائنانس اپنے پاس سے ادا کرے گا۔
ہیکنگ، اٹیک، بینکنگ اور کرپٹو:
کیا یہ کوئی منفرد کام ہوا ہے؟ اس کا جواب نفی میں ہے۔ دنیا بھر میں انٹرنیٹ سے جڑے سسٹمز پر ہیکنگ اٹیکس ہوتے رہتے ہیں، چاہے وہ فنانشل سسٹمز ہوں یا کچھ اور۔ مثلاً اکتوبر 2021 میں نیشنل بینک پر سائبر حملہ ہوا جس میں بینکوں کے آپس کے نظام، اے ٹی ایم اور موبائل سروسز متاثر ہوئیں۔
2022 اور اس کے بعد اے ٹی ایم کارڈز اسکیمنگ کے کئی کیس سامنے آئے۔ فشنگ کے کیسز تو اتنے ہیں کہ ہر دوسرے دن آتے ہیں۔ حتی کہ بینکس نے بھی اپنی سائٹس پر او ٹی پی پاسورڈ کسی کو نہ دینے کا اشتہار لگا رکھا ہے۔
کیا اس میں کسی کرپٹو کرنسی کی کوئی خرابی ظاہر ہوئی ہے؟ نہیں۔ یہ ایک ادارے کے اندرونی سسٹم کی ہیکنگ تھی۔ اس میں کوئی بلاک چین یا کرپٹو متاثر نہیں ہوئی۔ ہاں ڈی سینٹرلائزڈ ہونے کی وجہ سے ایک بڑا اماؤنٹ منجمد نہیں ہو سکا۔ اسے یوں سمجھ لیجیے جیسے ڈاکو کسی سے کیش چھین لیں تو وہ منجمد نہیں ہو سکتا۔
بٹ کوائن کریش:
بٹ کوائن کی پرائس رات ایک بجے سے صبح تک تقریباً 5.5 فیصد نیچے گئی جو تقریباً 3 فیصد واپس ریکور ہو گئی۔ یہ میرے لیے بطور کرپٹو ماہر ایک حیرت کی بات ہے۔ ایسے واقعے پر اتنا کم رد عمل آنا شاذ و نادر ہوتا ہے۔ یہ حرکت اتنی کم ہے کہ اسے ہم کسی بڑے کریش میں شمار بھی نہیں کر سکتے۔
اس سے زیادہ کمی 2 ستمبر 2026 کو بغیر کسی کریش کے ہو گئی تھی۔ یہ چیز اس وقت بٹ کوائن اور بائنانس پر یوزرز کے اعتماد اور ان کی قوت کو ظاہر کرتی ہے۔ اس سے کہیں زیادہ بڑے کریش گزشتہ ایک مہینے میں انڈونیشیا اور دیگر کئی ممالک کی اسٹاک ایکسچینجز میں آئے ہیں۔ جکارتہ کمپوزٹ انڈیکس ایک دن میں 11.6 فیصد تک گرا ہے۔
خلاصہ:
اس موجودہ ہیکنگ کو اگرچہ ڈالر ویلیو میں کرپٹو کرنسی کی سب سے بڑی ہیکنگ کہا جا رہا ہے لیکن حقیقی ضائع شدہ ایسٹس کے لحاظ سے یہ ماضی کے ایسے واقعات سے کافی کم ہے۔ اس واقعے نے جہاں اس چیز کی اہمیت ظاہر کی کہ کسی اہم ادارے کے اندرونی سسٹمز انٹرنیٹ سے محدود حد تک ہی کنکٹ ہونے چاہئیں، وہیں اس نے مختلف اداروں کے ایک ساتھ مل کر کام اور فوری ریسپانس کی قوت بھی واضح کی۔
اگر ٹیتھر اور سرکل صرف پینتیس منٹ کے اندر یو ایس ڈی ٹی اور یو ایس ڈی سی منجمد نہ کرتے تو نقصان کافی بڑا ہو سکتا تھا۔ اسی طرح اگر 1 بلین ڈالر کے فنڈز نہ ہوتے تو وہ بھی نقصان کا حصہ ہوتے۔
یاد رہے کہ ٹریڈنگ والیم کے رف اندازے کے مطابق بائنانس کی صرف اسپاٹ ٹریڈنگ کی گراس آمدن ماہانہ 600 ملین ڈالر سے زیادہ ہے۔ اس حساب سے 2.3 بلین ڈالر کا نقصان چند ماہ میں پورا ہو جاتا ہے۔
