امریکہ کا روایتی بینکنگ سیکٹر اب بلاک چین ٹیکنالوجی کو صرف ایک تجربہ نہیں سمجھ رہا۔ تازہ پیش رفت کے مطابق، 39 ریاستی بینکنگ ایسوسی ایشنز نے مل کر BankChain Alliance تشکیل دیا ہے، جو تقریباً 3,283 امریکی بینکوں کی نمائندگی کرتی ہے۔ ان بینکوں کے مجموعی اثاثے تقریباً 21.8 ٹریلین ڈالر بتائے گئے ہیں۔

منصوبہ یہ ہے کہ 2027 تک بینکوں کے لیے ایک مشترکہ، انڈسٹری اونڈ بلاک چین نیٹ ورک تیار کیا جائے۔ اس نیٹ ورک کے ذریعے Tokenized Deposits، Stablecoins، Programmable Payments اور Automated Settlement جیسی سہولیات فراہم کرنے کا ہدف ہے۔

بینک آخر اپنا بلاک چین کیوں بنا رہے ہیں؟

روایتی بینکنگ سسٹم میں رقم کی منتقلی اور سیٹلمنٹ کے لیے مختلف اداروں اور نظاموں سے گزرنا پڑتا ہے۔ اس عمل میں وقت بھی لگ سکتا ہے اور اخراجات بھی بڑھ سکتے ہیں۔

بلاک چین کا ایک بڑا فائدہ یہ ہے کہ لین دین کو زیادہ تیزی سے ریکارڈ اور سیٹل کیا جا سکتا ہے، جبکہ سسٹم کو 24/7 چلانے کی گنجائش بھی موجود ہوتی ہے۔

BankChain کا تصور کچھ اسی مسئلے کو حل کرنے کی کوشش ہے، لیکن ایک اہم فرق کے ساتھ۔

یہ بینک کسی موجودہ پبلک کرپٹو نیٹ ورک پر مکمل انحصار کرنے کے بجائے ایسا انفراسٹرکچر چاہتے ہیں جسے بینکنگ انڈسٹری خود کنٹرول اور گورن کرے۔

XRP اور XLM کے لیے یہ خبر کیوں اہم ہے؟

یہاں XRP اور XLM کا ذکر اس لیے آتا ہے کیونکہ کئی سال سے پبلک بلاک چین نیٹ ورکس تیز رفتار عالمی ادائیگیوں اور سیٹلمنٹ کے لیے اپنی ٹیکنالوجی پیش کرتے رہے ہیں۔

لیکن ایک بات واضح رہنی چاہیے: BankChain کا XRP Ledger یا Stellar کے ساتھ کوئی براہِ راست تعلق اعلان نہیں کیا گیا۔

اس لیے یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ 3,283 بینک XRP خریدنے جا رہے ہیں یا BankChain لازمی طور پر XRP استعمال کرے گا۔

اصل سوال کچھ اور ہے۔

اگر بینک اپنے ٹوکنائزڈ ڈپازٹس اور اسٹیبل کوائنز کے ذریعے تیز اور 24/7 ادائیگیاں کر سکتے ہیں، تو پھر انہیں کسی بیرونی کرپٹو اثاثے کی ضرورت کتنی ہوگی؟

یہی وہ مقابلہ ہے جس پر آنے والے سالوں میں کرپٹو سرمایہ کاروں کو نظر رکھنی چاہیے۔

SWIFT بھی بلاک چین کی طرف بڑھ رہا ہے

BankChain اکیلا منصوبہ نہیں ہے۔

SWIFT بھی بینکنگ سیکٹر کے لیے بلاک چین پر مبنی لیجر تیار کر رہا ہے، جبکہ بڑے مالیاتی ادارے ٹوکنائزڈ ڈپازٹس کے ذریعے بین الاقوامی لین دین کے نئے طریقے آزما رہے ہیں۔

دوسری طرف، نجی شعبے میں اسٹیبل کوائنز اور نئے آن چین پیمنٹ نیٹ ورکس بھی سامنے آ رہے ہیں۔

یعنی عالمی ادائیگیوں کی دنیا میں ایک نئی دوڑ شروع ہو چکی ہے۔

15 ستمبر کا CLARITY Act ووٹ بھی اہم ہے

اس خبر کا وقت بھی خاصا دلچسپ ہے۔

امریکی سینیٹ میں 15 ستمبر کو CLARITY Act پر اہم procedural vote متوقع ہے۔ ایسے وقت میں جب امریکہ میں کرپٹو ریگولیشن پر بحث جاری ہے، بینک خود بلاک چین انفراسٹرکچر بنانے کی طرف بڑھ رہے ہیں۔

یہ اس بات کی علامت ہو سکتی ہے کہ روایتی مالیاتی ادارے کرپٹو ٹیکنالوجی کو مکمل طور پر نظر انداز کرنے کے بجائے اسے اپنے نظام میں شامل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

اصل کہانی کیا ہے؟

میرے خیال میں اس خبر کا سب سے اہم پہلو 3,283 بینکوں کا نمبر نہیں، بلکہ بینکنگ انڈسٹری کا رویہ ہے۔

کچھ سال پہلے بلاک چین کو زیادہ تر کرپٹو مارکیٹ سے جوڑا جاتا تھا۔ آج بینک، SWIFT، ادائیگیوں کی بڑی کمپنیاں اور مالیاتی ادارے بھی اسی ٹیکنالوجی کو اپنے طریقے سے استعمال کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

اب مستقبل کا سوال یہ نہیں کہ بینک بلاک چین استعمال کریں گے یا نہیں۔

اصل سوال یہ ہے:

کیا وہ XRP، XLM جیسے پبلک نیٹ ورکس استعمال کریں گے، یا اپنے بند اور کنٹرول شدہ بلاک چین سسٹمز بنائیں گے؟

اسی مقابلے کا اثر آنے والے برسوں میں کرپٹو مارکیٹ پر بہت اہم ہو سکتا ہے۔

#SICryptoNews #bitcoin #Xrp🔥🔥