لاہور، شاہدرہ ریلوے اسٹیشن کے قریب سے ایک نہایت خوبصورت لڑکی کی لاش ملی۔ اس لڑکی کے ہاتھ ازاربند سے بندھے ہوئے تھے اور اسی کے دوپٹے سے گلا گھونٹ کر اسے مارا گیا تھا۔ لاش کی فوری شناخت نہ ہونے پر پولیس نے اسے امانتاً دفنا دیا اور لڑکی کی تصویر اخبارات میں چھپوا دی۔ کچھ دنوں بعد گڑھ مہاراجہ، جھنگ سے لڑکی کا والد شاہدرہ تھانے پہنچا اور بتایا کہ تصویر اسکی بیٹی کی ہے۔ اس نے واقعے کی تفصیل پولیس کو یوں بیان کی:_

"میں پڑھا لکھا ہوں، میں نے اپنی اولاد کو بھی پڑھایا لکھایا۔ میری یہ بیٹی اکثر بیمار رہتی اور اسے غشی کے دورے پڑتے تھے۔ روایتی علاج سے کوئی فائدہ نہ ہوا تو میری بیوی کو لگا کہ لڑکی پر کسی کا سایہ ہے۔ بیوی کے اصرار پر میں سیالکوٹ کے ایک قبرستان سے 'بے شاہ' نامی ایک عامل پیر کو گڑھ مہاراجہ اپنے گھر لے آیا۔ عامل کی ہدایت کے مطابق اسے ایک علیحدہ کمرہ دیا گیا، جہاں وہ رات دو بجے سے فجر کی اذان تک لڑکی کے ساتھ مصلے پر بیٹھ کر اپنا 'عمل' کرتا تھا۔

چند دن گزرنے کے بعد عامل نے پیسوں کی بارش اور نوٹ دوگنا کرنے کا کرشمہ دکھا کر ہمارا اعتماد حاصل کر لیا۔ اسی لالچ میں آ کر میری بیوی نے اپنے سونے کے تمام زیورات بھی دوگنے کروانے کی غرض سے ایک پوٹلی میں باندھ کر مصلے کے نیچے رکھ دیے۔ اگلی صبح کافی دیر تک بیٹی کمرے سے باہر نہ آئی، . جاری