Binance Square

truthofoppression

5,040 zobrazení
Diskutuje: 3
Aira786
·
--
To bylo dítě, které se v roce 2000 tajně vytrhlo ze školy a postavilo se před sionistické vojáky pouze s jedním kamenem. Matka ho okřikovala, trestala - protože se bála o jeho život - ale on každý den vycházel házet kameny, křičel před tankem a vyzýval strach. Na fotografii pořízené francouzským fotografem byl vidět, jak hází kámen na tank Merkava, a tato fotografie se stala virální po celém světě. Pouze 10 dní poté, 8. listopadu 2000, mu kulka ukončila život. Nebyl to obyčejný chlapec - byl to Faris Odeh, který se postavil před tank s kamenem. Palestina žije v našich srdcích. ☝🏼🇵🇸❤️ Přeloženo z arabského textu 🔏 ❗❓ Může být kámen skutečně mocnější než tank? Pokud chcete znát celý příběh, přečtěte si tento článek .. a👇 [میرا آرٹیکل پڑھو اور نہ واقف سے واقف رہو ....](https://app.binance.com/uni-qr/cart/304401394125489?r=GBBSXBL8&l=en&uco=edUNKMDJaQs-dT43iwLnZQ&uc=app_square_share_link&us=copylink) #FarisOdeh #freepalestine #Gaza #PalestinianResistance #TruthOfOppression $USDC {spot}(USDCUSDT) $SOL {spot}(SOLUSDT) $XRP {spot}(XRPUSDT)
To bylo dítě, které se v roce 2000 tajně vytrhlo ze školy a postavilo se před sionistické vojáky pouze s jedním kamenem. Matka ho okřikovala, trestala - protože se bála o jeho život - ale on každý den vycházel házet kameny, křičel před tankem a vyzýval strach.
Na fotografii pořízené francouzským fotografem byl vidět, jak hází kámen na tank Merkava, a tato fotografie se stala virální po celém světě.
Pouze 10 dní poté, 8. listopadu 2000, mu kulka ukončila život.
Nebyl to obyčejný chlapec -
byl to Faris Odeh,
který se postavil před tank s kamenem.
Palestina žije v našich srdcích. ☝🏼🇵🇸❤️
Přeloženo z arabského textu 🔏
❗❓
Může být kámen skutečně mocnější než tank?
Pokud chcete znát celý příběh, přečtěte si tento článek .. a👇
میرا آرٹیکل پڑھو اور نہ واقف سے واقف رہو ....
#FarisOdeh #freepalestine #Gaza #PalestinianResistance #TruthOfOppression
$USDC
$SOL
$XRP
CryptoMaverix:
There will be hope for Palestinian Arabs once they start teaching their kids usefull skills instead of throwing stones and cooperation instead of hatred.
Zobrazit překlad
پتھر بمقابلہ ٹینک — شہیدِ اسطورہ فارس عودة کی کہانییہ وہ بچہ ہے جو سال 2000 میں اسکول سے چھپ کر نکلتا اور صہیونی فوجیوں سے جا ٹکراتا۔ یہاں تک کہ اسکول نے اس کے ولی کو بلایا۔ جب اس کی ماں کو پتا چلا تو اُس نے ڈانٹا اور سزا بھی دی، کیونکہ وہ اپنے بیٹے کی جان سے ڈرتی تھی۔ لیکن وہ بچہ روزانہ اسرائیلی فوجیوں کے خلاف پتھراؤ کرنے جاتا۔ صرف یہی نہیں، بلکہ ٹینک کے سامنے کھڑا ہوکر رقص کرتا اور نعرہ لگاتا: "لو کسروا عظامي مش زاحف، لو هدوا البيت مش خايف!" (اگر وہ میری ہڈیاں توڑ بھی دیں، میں پیچھے نہیں ہٹوں گا… اگر میرا گھر گرا بھی دیں، مجھے خوف نہیں ہوگا!) اس کا کزن شادِی شہید ہوگیا تو گھر والوں نے مزید ڈر کے مارے اسے قید کر لیا۔ مگر وہ پانی کی پائپ لائن سے رینگ کر نکلتا اور پھر پتھر مارنے پہنچ جاتا۔ کئی بار اُس کی ماں لڑائی کے بیچوں بیچ جا کر اسے واپس لے آتی۔ ایک دن اُس نے خواب دیکھا کہ شہید شادِی کہہ رہا ہے: “آؤ، میرا بدلہ لو۔” اسی دن ماں نے بھی خواب میں شادِی کو دیکھا جو کہہ رہا تھا: “اسے میرے پاس آنے دو۔” ماں کو یقین ہوگیا کہ یہ ربانی پیغام ہے، اور اس کا بیٹا اب شہید ہوگا۔ ایک فرانسیسی فوٹوگرافر نے اُس کی ایک مشہور تصویر بنائی، جس میں وہ پیٹھ کے بل کھڑا ہوکر ایک میرکاوا ٹینک پر پتھر پھینک رہا ہے۔ یہ تصویر دنیا بھر میں وائرل ہوگئی۔ اور صرف 10 دن بعد — 8 نومبر 2000 کو — جب وہ ایک پتھر اٹھانے کے لیے جھکا، اسرائیلی فوج کی مہلک گولی اُس کی گردن کے ایک طرف سے لگی اور دوسری طرف سے نکل گئی۔ ایک لمحے میں اس کی کہانی ختم ہوگئی۔ یہ وہ بچہ تھا جس نے ٹینک کا مقابلہ پتھر سے کیا۔ یہ Faris Odeh تھا— محض ایک بچہ نہیں، ایک پورا وطن۔ فلسطین ہمارے دل میں زندہ ہے۔ ☝🏼🇵🇸❤️ عربی تحریر سے مترجم 🔏 ❗❓⁉❕❔ کیا ایک پتھر سچ میں ٹینک سے زیادہ طاقتور ہو سکتا ہے؟ #FarisOdeh #freepalestine #Gaza #PalestinianResistance #TruthOfOppression $USDC {spot}(USDCUSDT) $SOL {spot}(SOLUSDT) $XRP {spot}(XRPUSDT)

پتھر بمقابلہ ٹینک — شہیدِ اسطورہ فارس عودة کی کہانی

یہ وہ بچہ ہے جو سال 2000 میں اسکول سے چھپ کر نکلتا اور صہیونی فوجیوں سے جا ٹکراتا۔ یہاں تک کہ اسکول نے اس کے ولی کو بلایا۔ جب اس کی ماں کو پتا چلا تو اُس نے ڈانٹا اور سزا بھی دی، کیونکہ وہ اپنے بیٹے کی جان سے ڈرتی تھی۔
لیکن وہ بچہ روزانہ اسرائیلی فوجیوں کے خلاف پتھراؤ کرنے جاتا۔ صرف یہی نہیں، بلکہ ٹینک کے سامنے کھڑا ہوکر رقص کرتا اور نعرہ لگاتا:
"لو کسروا عظامي مش زاحف، لو هدوا البيت مش خايف!"
(اگر وہ میری ہڈیاں توڑ بھی دیں، میں پیچھے نہیں ہٹوں گا… اگر میرا گھر گرا بھی دیں، مجھے خوف نہیں ہوگا!)
اس کا کزن شادِی شہید ہوگیا تو گھر والوں نے مزید ڈر کے مارے اسے قید کر لیا۔ مگر وہ پانی کی پائپ لائن سے رینگ کر نکلتا اور پھر پتھر مارنے پہنچ جاتا۔ کئی بار اُس کی ماں لڑائی کے بیچوں بیچ جا کر اسے واپس لے آتی۔
ایک دن اُس نے خواب دیکھا کہ شہید شادِی کہہ رہا ہے: “آؤ، میرا بدلہ لو۔”
اسی دن ماں نے بھی خواب میں شادِی کو دیکھا جو کہہ رہا تھا: “اسے میرے پاس آنے دو۔”
ماں کو یقین ہوگیا کہ یہ ربانی پیغام ہے، اور اس کا بیٹا اب شہید ہوگا۔
ایک فرانسیسی فوٹوگرافر نے اُس کی ایک مشہور تصویر بنائی، جس میں وہ پیٹھ کے بل کھڑا ہوکر ایک میرکاوا ٹینک پر پتھر پھینک رہا ہے۔ یہ تصویر دنیا بھر میں وائرل ہوگئی۔
اور صرف 10 دن بعد — 8 نومبر 2000 کو — جب وہ ایک پتھر اٹھانے کے لیے جھکا، اسرائیلی فوج کی مہلک گولی اُس کی گردن کے ایک طرف سے لگی اور دوسری طرف سے نکل گئی۔ ایک لمحے میں اس کی کہانی ختم ہوگئی۔
یہ وہ بچہ تھا جس نے ٹینک کا مقابلہ پتھر سے کیا۔
یہ Faris Odeh تھا—
محض ایک بچہ نہیں، ایک پورا وطن۔
فلسطین ہمارے دل میں زندہ ہے۔ ☝🏼🇵🇸❤️
عربی تحریر سے مترجم 🔏
❗❓⁉❕❔
کیا ایک پتھر سچ میں ٹینک سے زیادہ طاقتور ہو سکتا ہے؟

#FarisOdeh #freepalestine #Gaza #PalestinianResistance #TruthOfOppression
$USDC
$SOL
$XRP
Přihlaste se a prozkoumejte další obsah
Prohlédněte si nejnovější zprávy o kryptoměnách
⚡️ Zúčastněte se aktuálních diskuzí o kryptoměnách
💬 Komunikujte se svými oblíbenými tvůrci
👍 Užívejte si obsah, který vás zajímá
E-mail / telefonní číslo