کچھ ایتھیریم کے بارے میں 👇🏼
کیوں مہنگا “ایتھیریم” ادارہ جاتی ڈیفائی پر حاوی ہوگا ...
25 جولائی 2025
ایتھیریم کے اوپر سو سے زائد لیئر-2 بلاک چینز موجود ہیں، جس کی بدولت یہ سوچنا فطری ہے کہ ایتھیریم مہنگا اور سست ہے،
لیکن جب کسی ادارے سے پوچھا جائے جو 500 ملین ڈالر کے سود کی شرح کے تبادلے کو طے کرنے جا رہا ہو کہ وہ کہاں تعمیر کرے گا، تو جواب ہمیشہ ایتھیریم ہوگا،
اس کی وجہ ادارہ جاتی ڈیفائی کی ترقی کی راہنمائی کرتی ہے، ادارہ جاتی اپنانے کے لیے وہ میٹرکس اہم ہوتے ہیں جو ریٹیل صارفین سے یکسر مختلف ہوتے ہیں، جہاں ریٹیل صارفین ایتھیریم کی ٹرانزیکشن فیسز سے بچ کر سستی چینز کی طرف جاتے ہیں، ادارے سیکورٹی کے لیے لاکھوں ڈالر کی منتقلی میں خوش دلی سے زیادہ قیمت ادا کرتے ہیں،
ایتھیریم کی “کمزوریاں” در حقیقت اس کا ادارہ جاتی دفاعی حصار ہیں،
جب ہم اعداد و شمار کو دیکھتے ہیں تو ریٹیل اور ادارہ جاتی سرمایہ کاروں کے نظریات کا فرق واضح ہوتا ہے،
اگر آپ پچاس ڈالر کے میم کوائن خرید رہے ہیں تو آپ ٹرانزیکشن فیس میں دس ڈالر نہیں دینا چاہیں گے، لیکن 500 ملین ڈالر کی سود کی شرح کے تبادلے میں دس ڈالر کی ادائیگی محفوظ لین دین کی ضمانت کے لیے معمولی قیمت ہے،
روایتی مالیاتی نظام (TradFi) میں بھی یہی رویہ پایا جاتا ہے، جہاں ادارے NYSE پر زیادہ قیمت چکانے کو ترجیح دیتے ہیں بجائے OTC مارکیٹ کے، اور SWIFT کے ذریعے ٹرانزیکشنز جاری رکھتے ہیں، کیونکہ یہ سب سیکورٹی اور قانونی تعمیل کو یقینی بناتا ہے،
یہی اصول بلاک چینز پر بھی لاگو ہوگا،
ادارے ایسے نیٹ ورک کو پسند کرتے ہیں جو آزمایا ہوا اور محفوظ ہو، جیسے ایتھیریم، نہ کہ وہ جو صرف تیزی پر توجہ دیتے ہیں،
سرمایہ کاروں کو ایک مضبوط، مارکیٹ میں آزمودہ بنیادی بلاک چین چاہیے جو مالیاتی اداروں میں بطور نیوٹرل سیٹلمنٹ لیئر قبولیت رکھتا ہو، اور یہی خصوصیت ایتھیریم کو دیگر بلاک چینز سے ممتاز کرتی ہے،
بڑے بینک بھی ایتھیریم پر کام کر رہے ہیں کیونکہ وہ اس کی غیر مرکزی نوعیت اور ڈیولپر ٹیلنٹ کی موجودگی سے مطمئن ہیں، جو ادارہ جاتی اپنانے کے لیے ایک خود تقویت بخش عمل ہے،
ایتھیریم کی بلند فیس کو ناکامی کے طور پر نہیں بلکہ ایک خاص خصوصیت کے طور پر دیکھنا چاہیے جو مارکیٹ کو قدرتی طور پر تقسیم کرتی ہے،
کچھ چینز کم لاگت اور تیز رفتار چھوٹے لین دین کے لیے ہیں، جب کہ ادارے بڑے لین دین کے لیے سیکور اور لیکوئڈیٹی سے بھرپور پلیٹ فارم چاہتے ہیں اور اس کے لیے وہ قیمت ادا کریں گے،
ادارے یومیہ فعال صارفین یا ٹرانزیکشن کی تعداد کے بجائے اس بات پر توجہ دیتے ہیں کہ کہاں قانون کے تحت کام کرنے والے ادارے اپنی بنیادی ڈھانچے کی تعمیر کر رہے ہیں،
لہٰذا جب اگلی بار کوئی کہے کہ ایتھیریم ختم ہو چکا ہے، تو اس سے لازمی پوچھیں کہ وہ 500 ملین ڈالر کے لین دین کو کہاں طے کرنا چاہیں گے؟؟
جواب ایتھیریم کی بقاء اور اس کے ادارہ جاتی ڈیفائی میں غالب آنے کی وجہ واضح کرے گا ....